سر زمینِ پاک ہے یا مصر کا بازار ہے
- تحریر طارق محمود مرزا
- اتوار 21 / فروری / 2021
- 4760
ایک حالیہ بیان میں وزیرِ اعظم عمران خان نے بتایا کہ بلوچستان میں سینٹ کے ایک ووٹ کی بولی پانچ سے سات کروڑ روپے تک لگ رہی ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان میں ایم پی اے بننا اور وہ بھی بلوچستان جیسے صوبے کا انتہائی منافع بخش’کاروبار‘ہے۔سینٹ کے ایک ووٹ سے ہی وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ بلوچستان کی اسمبلی جو 65 ارکان پر مشتمل ہے اس کے 47 وزیر ہیں جبکہ کل محکمے27ہیں۔ گویا ہر شعبے کے تقریباََ دو وزیر ہیں جو اتفاق اور اتحاد سے مل بانٹ کر ہنسی خوشی حکومتی مزے لوٹ رہے ہیں۔ان کے علاوہ اسپیکر، ڈپٹی سپیکر، اپوزیشن لیڈر اور مختلف کمیٹیوں کے سربراہ کے طور پر تمام ارکان اسمبلی ہی حکومتی اختیارات، مراعات اور انواع و اقسام واجبات وصول کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں ایم پی کی ماہانہ تنخواہ 440000 اور روزانہ اخراجات کے مد میں 50000 روپے ماہانہ لیتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں پنجاب کے ایم پی کی تنخواہ 83000 روپے ہے ۔(2019 میں پنجاب اسمبلی نے خود ہی اپنی تنخواہ بڑھانے کا بل پاس کر لیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی ناراضی دیکھ کر یہ بل واپس لے لیا گیا)سندھ کے ایم پی اے 143000 اور کے پی کے میں ایم پی اے کی ماہانہ تنخواہ 15400 روپے ہے۔ممبران اسمبلی کو سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈز کی مد میں کھل کھیلنے اور اپنے انتخابی اخراجات بمع منافع پورے کرنے کا موقع ملتا ہے۔
یہاں پھر بلوچستان کے ممبران اسمبلی کو سب سے زیادہ پچاس کروڑ سے ایک ارب تک سالانہ صوابدیدی فنڈ ملتا ہے۔ بعض خوش قسمت ایم پی کو ایک ارب اسی کروڑ تک سالانہ ملتے ہیں۔ صوابدیدی فنڈز کا یہ ناجائز سلسلہ 1985 سے جاری ہے۔ یہ ایک قسم کی رشوت یا لالچ تھی جو ضیا ء الحق نے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی کوحکومتی پارٹی کے ساتھ نتھی رکھنے کے لیے شروع کی تھی۔ بعد میں آنے والی حکومتوں نے بھی اسے اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اپنے ایم پی ایز کو نوازنے کا یہ سلسلہ جاری رکھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت آنے سے پہلے عمران خان نے بارہا اس فنڈز پر سخت تنقید کی اور وعدہ کیا کہ ان کی حکومت آئی تو یہ سلسلہ فوراََ بند ہو جائے گا۔ مگر عمران خان کے دیگر وعدوں کی طرح یہ نعرہ بھی نعرہ ہی رہا۔
بلوچستان میں ممبران اسمبلی کو اتنی بڑی رقم ملتی ہے لیکن اس کا فائدہ عوام کو بالکل نہیں ہوتا۔ نہ تو اس سے صحت، تعلیم، آمد و رفت اور رسائل میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور نہ لوگوں کو روزگار کے وسائل میسر ہوئے ہیں۔ اتنی رقم سے سالانہ کئی سکول، اسپتال اور سڑکیں بن سکتی تھیں۔ پانی کی دستیابی اور زراعت میں ترقی ہو سکتی تھی۔پولیس اور عدالتی نظام میں بہتری لائی جا سکتی تھی جس سے صوبے میں انصاف کی فراہمی میں آسانی اور امنِ عامہ میں بہتری لائی جا سکتی تھی۔ لیکن بلوچستان میں حالات بدستور دگر گوں ہیں۔بے روزگاری، تعلیمی سہولتوں کا فقدان، رسل و رسائل میں دشواری، آمدو رفت میں مشکلات، علاج معالجے کی نایابی اور دیگر سماجی و معاشی مسائل نمایاں ہیں۔
دہائیوں سے وہاں جو حکومتیں آرہی ہیں وہ مخصوص خاندانوں، مخصوص شخصیات اور مخصوص سرداروں کے مفادات کی کی نگہباں بنی ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے وہاں عوام میں بے چینی، خلفشار اور کئی نوجوانوں میں باغیانہ خیالات پائے جاتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ عدم فراہمیِ انصاف او ر قانون پر عمل در آمد کا فقدان ہے۔ پولیس اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے بے بس نظر آتے ہیں اور مختلف قسم کے مافیاز ان پر حاوی دکھائی دیتے ہیں۔یہاں سڈنی میں ہمارے ایک دوست کا تعلق بلوچستان کے ہزارہ قبیلے سے ہے۔ سرکاری افسر ہونے کے باوجود انہیں اور ان کے خاندان کو مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا۔ مجبوراً انہیں ملک چھوڑ کر آسٹریلیا میں پناہ لینی پڑی۔وہی بتاتے ہیں کہ قاتل قتل کے بعد سب کے سامنے برملا اعتراف کرتے ہیں مگر کسی کی جرات نہیں ہوتی کہ انہیں گرفتار کر سکیں۔ جب یہ مافیا اس قدر طاقت ور ہوں توپولیس اور عدالتیں بھی ان کے آگے بے بس ہوجا تی ہیں کیونکہ اپنی اور اہلِ خانہ کی زندگی ہر ایک کو عزیز ہوتی ہے۔
قانون کی یہ بے بسی بعض سیاست دانوں اور کرپٹ افسران کے لیے مفید ہے کیونکہ اس کی آڑ میں وہ اپنی کرپشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دراصل ان سیاست دانوں اور افسر شاہی کی وجہ سے ہی یہ حالات ہیں کیونکہ جو پیسہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا تھا وہ ان کی جیبوں میں چلا جاتا ہے اور عوام کس مپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے یہ لوگ میڈیا کے سامنے جاتے ہیں تو بلوچستان کے عوام کی حالت کا رونا روتے ہیں۔صوبائی حقوق کے مطالبے کرتے ہیں اور مزید فنڈز مانگتے ہیں تاکہ اپنے پیٹ کا دوزخ بھرتے رہیں۔ دہائیوں سے یہی ہو رہا ہے۔ کوئی ان کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہے۔ اگر کسی کرپٹ پر ہاتھ ڈالا جائے تو وہ ملک دشمن طاقتوں سے ساز باز شروع کر د یتا ہے۔ عوام کو قانون شکنی پر اُکسانے لگتا ہے۔حتیٰ کہ حکومتی ادارے پسپائی اختیار کر لیتے ہیں۔ قانون کی یہ بے بسی مزید قانون شکنی کو جنم دیتی ہے اور معاشرہ انارکی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ بلوچستان کے موجودہ حالات اس سے مختلف نہیں ہیں۔ کرپشن کا بازار گرم ہے۔ قانون شکنی عام ہے اور عوام بے بس و لا چار ہیں۔
میں نے جب سے ہو ش سنبھالا ہے یہی حالات دیکھے ہیں۔ کبھی اٹھارویں ترمیم کبھی کسی دوسرے قانون کے ذریعے صوبوں اور ان کے پسماندہ افراد کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن حالات کبھی نہیں بدلے خاص طور پر غریبوں او رنچلے طبقے کے۔ اس کی وجہ قانون یا آئین میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ بلکہ قانون شکنوں کو تحفظ اور پس ماندہ عوام کو نشانہ ِ ستم بنایا جاتا ہے اور قانون کھڑا تماشا دیکھتا رہتا ہے۔ جتنے مرضی قوانین بدلتے رہیں، جتنے دل چاہے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے رہیں، جتنے بڑے مالی پیکیج دیتے رہیں، جب تک کرپشن ختم نہیں ہو گی کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔جیسے آج کل سینیٹ کے انتخابات کے لیے نئے قوانین بنانے اور اوپن ووٹنگ کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ووٹوں کی خریداری کو روکا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ پچھلے اور اس سے پچھلے سینیٹ انتخابات میں جن ایم پی ایز نے اپنے ووٹ فروخت کیے تھے ان کے خلاف کیا قانونی کاروائی ہوئی ہے۔ انہیں کتنی سخت سزائیں ملی ہیں۔
اس کے ثبوت ویڈیوز کی شکل میں موجود ہیں۔ پیسہ لے کر مخالف پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے پر پی ٹی آئی نے اپنے بیس ایم پی ایز کو پارٹی سے نکالا تھا لیکن ان ایم پی ایز نے یہ ووٹ مفت میں تو نہیں دیے تھے۔انہوں نے کروڑوں اربوں روپے اینٹھے ہیں۔ اس کرپشن پر قانون نے کیا سزا دی ہے۔ آج تک سیاسی کرپشن پر کتنے لوگوں کو سزا ملی ہے اور پانامہ سمیت دیگر سینکڑوں کیسوں سے کتنی رقم واگزار ہوئی ہے۔ اُلٹا ان مقدموں پر کروڑوں اربوں روپے خرچ ہوئے ہیں۔
پانامہ کیس، جعلی اکاؤنٹ، چینی کا اسکینڈل،ڈاکٹر عاصم کیس، مالم جبہ کیس، صاف پانی کیس اور دیگر درجنوں کیس جو سالوں سے چل رہے ہیں ان سے کتنی رقم واگزار ہوئی ہوئی اور کتنے کرپٹ لوگوں کو سزا ہوئی ہے۔کوئی گرفتار ہوتا ہے تو اس کی کرپشن کی بڑی بڑی خبریں لگتی ہیں کچھ ہی عرصے میں وہ آزاد گھوم رہا ہوتا ہے۔ ایسے لگتا ہے یہ سب مداری کی ڈگڈگی ہے جس پر پوری قوم کو نچایا جا رہا ہے۔ تماشا ختم ہوتا ہے تو مداری اپنے گھر اور تماشائی اپنے گھر۔ پچھلے چوہتر برس سے یہی ہو رہاہے۔ملک میں قانون پر عمل درآمد اور انصاف کے جو حالات ہیں اس کے پیشِ نظر آئندہ بھی یہی ہوتا رہے گا:
جس کو دیکھو اب وہ بکنے کے لیے تیار ہے
سر زمینِ پاک ہے یا مصر کا بازار ہے