لاک ڈاؤن سے کورونا وبا ختم نہیں ہوگی
- تحریر سرور غزالی
- اتوار 21 / فروری / 2021
- 4460
جرمنی کے ایک بڑے ہفت روزہ جریدے فوکس آن لائن کی صحافی پیڑا ایپفل کے مطابق چانسلر آفس میں لاک ڈاؤن کی مدت میں اضافہ کے بعد شدید قسم کے اعتراضات اٹھ رہے ہیں۔
ماہر انفیکشن ماتھیاس شارپے جو کہ کولون کی یونیورسٹی کے شعبہ طب کے پروفیسر رہ چکے ہیں اور جو عرصہ دراز تک وفاقی جمہوریہ کے سرکاری محکمہ صحت کے مشیر کی حیثیت سے بھی متعین رہ چکے ہیں، موجودہ حکومت کی کورونا پالیسی کو دیگر کئی اہم سائنسدانوں کی طرح شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اپنے اعتراضات پیش کیے ہیں۔ آٹھ دیگر نامور سائنسدان کے ساتھ انہوں نے موجودہ کورونا پالیسی کو رد کیا یے اور اپنے مقالے میں موجود حکمت عملی کے نقصانات کو اجاگر کیا ہے۔
مسٹر شارپے کا کہنا ہے کہ حکومتی ٹولی میں شامل سائنسدانوں سے اسی بات کی توقع تھی کہ وہ لاک ڈاؤن کی میعاد کو بڑھانے کی سفارش کریں گے۔ حالانکہ حکومت کو ہمت کا ثبوت دینا چاہئے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ایسے افراد جو اس وبا سے بہت زیادہ متاثر ہیں انہیں تنہا چھوڑنے کی بجائے، ان کے تحفظ کے لیے مذید اہم اقدامات کئے جانے چاہیں۔ ان کے خیال سے کورونا سے بچاؤ کی واحد حکمت عملی لاک ڈاؤن درست نہیں۔
ماتھیاس شارپ اور ان کے ساتھی معروف ماہر طب ، شعبہ وائرس یوناس شمڈٹ چانازٹ یا کلاوس اسٹیور وغیرہ نے کورونا اسٹریجک نامی ایک پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی ہے۔ ان کے خیال سے صرف دواؤں اور طبی امداد وبا کو قابو کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا ویکسین ہی واحد امید ہے۔ ایسا ہے تو پھر تو عمر رسیدہ افراد اس طرح جلد محفوظ ہوسکیں گے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے شارپے کہتے ہیں کہ ہم صرف یہ امید ہی کر سکتے ہیں کہ ابتدائی تجزیاتی رپورٹ واقعی درست ہو۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان کے نتائج انفیکشن نہیں بلکہ صرف بیماری کی بابت بھی کوئی اطلاع فراہم کرنے کے قابل نہیں۔ بائیون ٹیک کا ویکسین صرف بیماری کے خطرات میں 1:20 کی نسبت ہی کمی کا باعث ہے۔ دوران ٹسٹ آٹھ ویکسین شدہ افراد جب کہ 162 ویکسین کے غیرحامل افراد بیماری میں مبتلا ہوئے۔
آسترا سینا میں یہ شرح 1:3 رہی یعنی 27 ویکسین کے باوجود اور 71 بغیر ویکسین کے بیماری میں گھرے۔ ہمارے خیال سے ویکسین کو معمر افراد کی صحت کے خدشات کے پیش نظر علاج کا ذریعہ ماننے تک محدود رکھا جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں شارپے کے خیال سے فوری ٹسٹ کے لیے پچھلے اپریل سے بزرگ شہریوں اور معمر افراد کے ہاسٹل کوشاں ہیں تاکہ ان کے ذریعہ تشخیص کے بعد وبا کے روک تھام کو مؤثر بنایا جاسکے۔ مگر دس ماہ کی مدت لگا کر حکومت نے اب کچھ کیا ہے جس سے 20 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔ محکمہ صحت کے افراد کو چاہئے کہ ایسے بزرگ شہریوں کی مدد کے لیے اپنے دفتروں سے نکل کر ان افراد کو تلاش کریں۔ بجائے اس کہ وہ امراض کے ملنے اور ان پر نتائج اخذ کرنے پر اکتفا کریں۔اور اپنی مدد کے فوج اور طلباء کو ساتھ ملائیں۔
پورے معاشرے کو کسی سکوت اور شاک میں مبتلا کرنے کی بجائے عملی اقدامات کئے جائیں۔ مگر اس کے لیے تو ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو معاشرے امید کی روح پھونک دے۔ اتنا بتانا کہ یہ وبا کتنی خطرناک ہے کافی نہیں۔ نئے نئے احکامات جاری کرکے معاشرے کو بند رکھنا، شہروں کو اجاڑ کر ویران کرنا اس کا حل نہیں۔ لیکن سیاسی قیادت ایسی کوئی امید افزا بات پھیلانے پر تیار نہیں۔جبکہ وہ خوف وہراس پھیلا رہے ہیں۔ معاشرے پر سکوت طاری کرکے شاک کی صورت میں مبتلا کررہے ہیں۔
اور لاک ڈاؤن میں کمی جیسا کہ شلیزویگ-ہول اسٹائین صوبے کی حکومت نے پیش کیا ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یعنی اسکول، دکانیں، کھیل کود کے ادارے، سنیما، تھیٹر اور کنسرٹ ہال بتدریج کھول کر رفتہ رفتہ زندگی کی معمولات کو بحال کیا جائے۔
شارپے : یقیناً یہ اچھا آغاز ہے۔ ایسا تو پچھلے سال موسم گرما میں ہی کر دینا چاہیے تھا۔ مگر 10 فروری کے اعلانات تو اس کے برعکس ہیں۔ایسا کرنے کے لیے ہمت سے کام لینا ہوگا۔ مگر سیاستداں تو یہ کہتےسنائی دے رہے ہیں ہم سب کچھ کھول تو دیں مگر پھر اچانک کوئی میوٹیٹ وائرس کا کیس کسی کنڈر گارٹن میں ہوگیا تو ہم آئیند ہ انتخاب ہار جائیں گے۔ سیاستداں خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ وہ ہمت کرنے، تجربہ کرنے اور عوام الناس کے نت نئے خیال کو آزمانے کے لیے بالکل تیار نہیں۔
معاشرے میں ہونے والی شدید قسم کی ٹوٹ پھوٹ کی بابت بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی مدت میں اضافہ کی تو بدقسمتی سے ہمیں امید ہی تھی۔ لاک ڈاؤن سے بیماری پھیلنے کی شرح کو تو کم کرکے دکھایا جاسکتا ہے مگر کب تک؟ ایک وقت ائے گا جس کا مجھے ڈر ہے کہ کیسز کی تعداد لاک ڈاؤن میں بھی کم نہ ہوگی۔ پھر آپ کیا کریں گے۔ لاک ڈاؤن کا طریقہ کار تب بیکار ہوچکا ہوگا۔ لاک ڈاؤن کی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ مستقل تالہ بندی اپنے اثرات کھو چکی ہے۔
اور انڈکس۔۔۔۔پچاس یا پینتس کا مقرر کیا جائے آپ کے خیال میں کیسا ہے؟
شارپے: لفظ انڈکس کا استعمال ہی غلط اور ناقابل قبول ہے۔ جو رپورٹ درج ہورہی ہے وہ درست اور ذمہ دارانہ نہیں۔ اگر آپ زیادہ ٹسٹ کریں گے تو بیماری زیادہ تعداد میں سامنے آئے گی۔ کم کریں گے تو کم۔ اس تعداد کو گھٹا بڑھا کر حکمت عملی اختیار کرنا، ایک اسکنڈل ہے ۔
ضعیف افراد کی اموات کی شرح اوسطاً بڑھتی ہے اس میں اس طرح کے انڈکس کو پیمانہ بنانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور مجھے یقین ہے کہ جب 50 یا 35 انڈکس کا ہدف پالیا جائے گا تو کوئی نئی بات دریافت کر لی جائے گی۔ یہ ایک غیر ذمہ دارانہ، نا امیدی اور لایعنی حکمت عملی ہے اور خطرناک بھی۔
آپ اور آپ کے ساتھیوں نے بھی ضعیف شہریوں کی خصوصی حفاظت کا مطالبہ کیا ہے اگر میل ملاپ اور اختلاط کو ختم کر دیا جائے تو کیا ایسا ممکن ہوگا؟
شارپے: دونوں باتیں ہی ضروری ہیں۔ لیکن صرف میل ملاپ پر پابندی اور وہ خودساختہ مقرر کردہ انفیکشن کی تعداد کی بنیاد پر، طب انفیکشن کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اور اس کے مثبت نتائج ان افراد پر جو شدید قسم کے کویڈ 19 کا شکار ہوں اور اس کے نتیجے میں ہلاک ہوجائیں ان پر نہیں ہوگا۔ کرسمس سے قبل لاک ڈاؤن کے نتیجے میں جو مبتلائے مرض افراد کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی تھی وہ معاشرے کے تمام عمر کے افراد میں تھی۔ صرف 85 سال سے زائد عمر کے افراد میں ظاہر نہیں ہوئی۔
پچاسویں ہفتے میں 90 سالہ افراد کی شرح اموات 16،3 فیصد تھی جبکہ طویل لاک ڈاؤن کے باوجود ان کی شرح 23،3 ہے۔ 80 سے 89 سالہ افراد کی شرح اموات لاک ڈاؤن سے قبل 12 فیصد تھی، اس وقت یہ 17 فیصد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہؤا زیادہ تحفظ کے حقدار انسانوں کو لاک ڈاؤن کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ۔
(سرور غزالی نے جرمن زبان سے ترجمہ کیا)