جسٹس عیسیٰ نظرثانی کیس میں لارجر بنچ بنانے کے لئے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا
- سوموار 22 / فروری / 2021
- 5000
سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس میں بنچ کی تشکیل کے معاملے پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ کے 6 رکنی بنچ نے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی دراخواستوں پر بینچ کی تشکیل کا فیصلہ 5 ایک کی اکثریت سے سنایا۔ جسٹس منظور احمد ملک نے اس پر اختلاف کیا۔ بنچ کے دیگر اراکین میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین شامل تھے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے 10 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے مختصر طور پر آج سناتے ہوئے عدالت نے درخواستیں نمٹا دیں اور معاملہ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کو بھیج دیا۔ جس 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس عیسیٰ کیس کی سماعت کی تھی اس کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال نے کی تھی جبکہ دیگر اراکین میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین احمد شامل تھے۔
جسٹس فیصل عرب کی ریٹائرمنٹ کے بعد نظرثانی درخواستوں پر سماعت کے لیے 6 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا تھا۔ اس میں اختلافی نوٹ لکھنے والے ججز شامل نہیں ہیں جبکہ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ کیس میں ان تینوں ججز کو بھی شامل کیا جائے اور لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔
معاملے پر آج دوسری سماعت ہوئی تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، سرینا عیسیٰ اور مختلف بارز ایسوی ایشن کے وکیل پیش ہوئے۔ سماعت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ لطیف آفریدی ہسپتال میں داخل ہیں۔ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے کہا کہ لطیف آفریدی نے کہا ہے نظرثانی درخواستوں پر، کیس کا فیصلہ کرنے والا 10 رکنی فل کورٹ ہی سماعت کر سکتا ہے۔ اگر عدالت حکم دے تو وہ تحریری دلائل جمع کرا دیں گے۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ لطیف آفریدی اگلے ہفتے تک تحریری دلائل جمع کرا دیں۔