اسٹبلشمنٹ مکمل طور پر غیر جانب دار ہے: یوسف رضا گیلانی

  • سوموار 22 / فروری / 2021
  • 4560

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کہا ہے کہ مجھے نظر آرہا ہے کہ اس وقت اسٹبلشمنٹ مکمل طور پر غیر جانب دار ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے سینیٹ کے لیے اسلام آباد سے مشترکہ اُمیدوار نامزد کرنے پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کیا۔ یوسف رضا گیلانی نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد میں اتحاد کے صدر مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی سینیٹ کے انتخابات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے امیدوار ہیں اور کامیاب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے قومی اسمبلی سے سینیٹ کے انتخاب کے اعلان سے ہی حکومت میں کھلبلی مچی ہے اور اپنی صفوں میں عدم اعتماد اور خلفشار انہیں صاف طور پر نظر آرہا ہے۔ ان کے مقابلے میں عبدالحفیظ شیخ اُمیدوار ہیں اور وہ ہر حکومت کے دور میں وزارت خزانہ اور ملک کی معیشت ان کے ہاتھ میں رہی ہے۔ آج ایک مرتبہ پھر وزارت کا قلمدان ان کے ہاتھ میں ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ احساس صرف عام آدمی نہیں بلکہ اسے کہیں زیادہ پارلیمنٹیرین کو ہونا چاہیے جو دعویٰ رکھتے ہیں کہ وہ عوام اور ان کے احساسات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آج عام آدمی کی قوت خرید جواب دے چکی ہے اور تمام چیزیں مہنگی سے مہنگی ہوگئی ہیں۔ ہم اسمبلی میں موجود افراد کو احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو ہاتھوں میں ملک کے اہم عہدے حوالے کرتے ہیں تو آپ ملک کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج عوام کا مطالبہ ہے کہ ملک کے اہم اور کلیدی عہدوں پر ایسے لوگوں کو آنا چاہیے جو ملک کو اس بحران سے نکالنے میں کوئی کردار ادا سکیں اور اسی حوالے سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی میدان میں آئے ہیں۔ اپنے ملک کے ساتھ وفاداری اور عام آدمی کے ساتھ ہمدردی کی علامت یہی ہے کہ ہم گیلانی کو کامیاب بنائیں۔  پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں ان کے حق میں ایک صف پر ہیں۔ ہماری کوشش ہوگی کہ اس معرکے کو کامیابی کے ساتھ سر بھی کرلیں گے۔

اس موقع پر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جب میں وزیراعظم بنا تھا تو اس وقت بھی اپوزیشن نے بھی متفقہ طور پر اعتماد کا ووٹ دیا تھا اور آج بھی مہم کا مثبت جواب مل رہا اور یہ فتح جمہوری قوتوں کی ہوگی۔ میں آج اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے درخواست دے کر اراکین اسمبلی کی عزت میں اضافہ میری وجہ سے ہوا ہے کیونکہ سینیٹ کے لیے میرے انتخاب کے اعلان کے بعد آج وزیراعظم اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اگر میں انتخاب میں حصہ نہ لیتا تو وہ کسی سے ملنے کوتیار نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب میں وزیراعظم بنا تھا تو 264 اراکین نے مجھے ووٹ دیا اور اپوزیشن کو 42 ووٹ پڑے اور ہمارے اراکین کی درخواست پر اپوزیشن نے مجھے اعتماد کا ووٹ دیا اور 42 ووٹ بھی مجھے دیے۔ حکومت کی جانب سے پیسے کی بات کی جارہی ہے تو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ 42 ووٹ مجھے تعلقات کی بنیاد پر پڑے تھے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جہانگیر ترین سے ملاقات یا ٹیلی فونک رابطہ نہیں ہوا ہے۔ البتہ وہ میرے عزیز ہیں اس لیے بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھے نظر آرہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر غیر جانب دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے مجھے وزیراعظم بننے کے لیے ووٹ بھی دیا تھا اور اس وقت بھی اسمبلی میں اکثریت ان کی ہے اور شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں۔ انہوں نے میری حمایت کی ہے۔ اس لیے اب ماضی نہیں حال کی بات کریں۔