ہر پاکستانی آپریشن رد الفساد کا سپاہی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

  • سوموار 22 / فروری / 2021
  • 8050

پاک فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں کوئی صداقت نہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ  فوج میں ہر کوئی اپنی مدت پوری کرتا ہے۔ عام طور پر فوج میں کسی ادارے کے سربراہ کے طور پر تعیناتی 2 سال کے لیے کی جاتی ہے۔ راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ آج  آپریشن ردالفساد کے 4 سال مکمل ہوگئے ہیں۔

22 فروری 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں آپریشن ردالفسار کا آغاز کیا گیا۔ اس آپریشن کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا۔ اس کا اسٹریٹجک مقصد ایک پرامن، مستحکم پاکستان ہے۔ عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا اور دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کو مکمل طور پر غیر مؤثر کرنا شامل تھا۔  اس طرح ہر پاکستانی ناصرف اس آپریشن کا حصہ ہے بلکہ پوری قوم کی سوچ کے تحت ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے۔

2017 میں آپریشن شروع کرنے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہ آپریشن دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا جب دہشت گردوں نے قبائلی اضلاع میں اپنے انفرا اسٹرکچر کی تباہی اور مختلف آپریشن میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد پاکستان کے طول و عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی۔  ایک نظریے کا مقابلہ صرف اس سے برتر نظریے یا دلیل کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اسی تناظر میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، قبائلی علاقوں کی قومی دھارے میں شمولیت، تعلیمی مدرسہ اور پولیس ریفارمز میں حکومتی کاوشوں و معاونت کے ذریعے شدت پسندی کے عوامل پر قابو پایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2010 سے 2017 تک کلیئر اور بولڈ مرحلے کے تحت بڑے آپریشن کے بعد مختلف علاقوں کو دہشت گردوں سے صاف کرایا جاچکا تھا اور قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ بحال ہورہی تھی۔ ردالفساد بلٹ اینڈ ٹرانفسر مرحلے کا آغاز ہے۔ اس دوران مشکل سے حاصل ہونے والے فوائد کو ناقابل واپسی بنانا ہماری ذمہ داری تھی۔ یہی چیز اصل میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا حقیقی پیمانہ بھی ہے۔

 گزشتہ 4 برسوں میں آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 3 لاکھ 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیے گئے۔ جس میں سی ٹی ڈی، آئی بی، آئی ایس آئی، ایم آئی، پولیس، ایف سی اور رینجرز نے بھرپور کردار ادا کیا۔ پنجاب میں 34 ہزار سے زائد، سندھ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد، بلوچستان میں 80 ہزار سے زائد اور خیبرپختونخوا میں 92 ہزار سے زائد خفیہ بنیادوں پر آپریشن شامل ہیں۔ ان میں چند بڑے آئی بی او بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے شہری دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملی اور بہت سے دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کیا گیا۔