مادری زبانوں کا عالمی دن
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 22 / فروری / 2021
- 15530
فروری میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں مادری زبانوں کا دن منایا گیا۔ دنیا میں جنم لینے والے ہر بچے کی پہلی زبان کو مادری زبان کہتے ہیں جو علاقائی معاشرت کی مروجہ زبان ہوتی ہے۔ یہ صرف بچے کو جنم دینے والی ماں کی زبان ہی نہیں ہوتی بلکہ اُس معاشرے کی زبان ہوتی ہے جس میں بچہ جنم لیتا ہے۔
مادری زبان کے تصور کو علمی حوالے سے الگ اور سیاسی حوالے سے الگ شناخت کیا جاتا ہے ۔ مادری زبان کے بارے میں ایک فلسفیانہ تصور یہ ہے جسے امریکی ماہرِ لسانیات اور نفسیات داں ایف بی سکنر نے وضع کیا تھا ۔ اُس کے نظریے کے مطابق ماں کے بطن میں سب سے پہلے بچّے کے کان بنتے ہیں اور وہ دنیا میں جنم لینے سے پہلے ماں کی آواز سے شناسا ہوتا ہے۔ اور پھر وہ آواز جو اُسے لوری دیتی ہے اور اُس سے شیرخوارگی میں پیار بھری باتیں کرتی ہے ، اُس کی پہلی زبان کی بنیاد بنتی ہے مگر یہ زبان صرف ماں کی نہیں بلکہ اردگرد موجود سب عورتوں اور مردوں، بچوں، نوجوانوں، بھائی بہنوں اور دوسرے قریبی رشتہ داروں کی ہوتی ہے۔ اور اگر سوئے اتفاق سے ماں گونگی ہو تو اُس کی اولاد کی مادری زبان کیا ہوگی۔ چنانچہ قرآن نے پہلی زبان کے بارے میں سورہ روم میں یہ تصور دیا ہے کہ ہماری جلد کی رنگت اور ہماری زبان اللہ کی نشانیاں ہیں۔ چنانچہ عرب معاشرت میں جنم دینے والی ہی ماں نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ رضائی ماں بھی ہوتی تھی، جو بچے کو دودھ پلاتی تھی اور زبان سکھاتی تھی۔ اور حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ وہ رضائی ماں تھیں جن کا دودھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا۔ میں نے اس ضمن میں کہیں اپنا نقطہ نظر کسی غزل میں یوں بیان کیا تھا:
راز کی باتیں ہیں میں کھُل کے کہ سکتا نہیں
دودھ میں تیرے نبوت تھی حلیمہ سعدیہ
خیر یہ شاعری ہے اور سورہ الشعرا میں شاعروں کو گمراہ لوگ کہا گیا ہے کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور اُن کے قول اور فعل میں تضاد ہوتا ہے۔ اور ۴۲۲ ویں آیت میں کہا گیا ہے(: اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں۔) اس کے باوجود زبان کی افزائش اور ترقی میں شعرا کی کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے پرانے عرب معاشرے میں شاعروں کو خُدا کے شاگرد کہا جاتا تھا۔ شاعروں کی نظمیں، لوریاں اور گیت بچے کی لسانی تربیت کرتے ہیں۔ چنانچہ مادری زبان کا جو تصور ماں بو لی کے حوالے سے لیا جاتا ہے وہ چند سوالوں کو جنم دیتا ہے کیوں کہ ماں مادرِ فطرت بھی ہے، دھرتی ماتا بھی ہے اور عورت بھی ہے۔ قرآن نے عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی ہے اور کھیتی زمین میں واقع ہوتی ہے۔ چنانچہ مادری زبان ایک علاقے میں بولی جانے والی زبان کا نسبتاً وسیع تر تصور ہے جو گھر سے مسجد تک اور سکول سے یونیورسٹی تک اور زبانی رٹے ہوئے گیتوں سے کتاب تک ایک دوسرے سے مربوط ہوتی ہے۔
ہماری مسلمان معاشرت میں پیدائش کے ساتھ ہی بچوں کے کان میں عربی اذان کہی جاتی ہے جو انہیں کثیراللسانی بناتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں زبان ایک جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ مختلف زبانوں، آوازوں اور اظہار کے پیرایوں کا مرقع ہوتی ہے۔ مخلوط زبان ہوتی ہے۔ بالکل اردو کی طرح جس میں دنیا بھر کی زبانوں کے الفاظ بھرے ہیں اور اس کا رسم الخط فارسی اور عربی سے مماثل ہوتے ہوئے بھی الگ ہے۔ اردو میں اہلِ زبان کا تصور در اصل عصبیت پر مبنی ہے جب کہ اصل تصور اہلِ زبان کا نہیں زباندان کا ہے۔ لیکن ہم بات کو اور ہر معاملے کو سیاسی رنگ میں رنگنے کے عادی ہو چکے ہیں اور اب پنجابی زبان کی بنیاد پر وہ لوگ سیاست کر رہے ہیں جو پنجابی لکھنا پڑھنا جانتے ہی نہیں۔ پپنجابی کے علمبرداروں میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ہیر وارث شاہ، سیف الملوک یا بابا فرید کے اشلوک پوری صحت کے ساتھ پڑھ سکتے ہوں۔ چنانچہ انگریزی سکولوں کے پڑھے ہوئے لوگ پنجابی ہوکر بھی پنجابی نہیں ہوتے کیونکہ وہ اپنی اُس معاشرت کی زبان نہیں جانتے جو ان کی علاقائی زبان ہے۔
لیکن دہقانی معاشرت میں زبان لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتی ہے۔ ترنجن میں چرخہ کاتتی عورتیں، چوپالوں پر زمین کی کاشت اور پالتو جانور سے متعلق جو گفتگو کسان کرتے ہیں وہ اُن کی علمی زبان ہوتی ہے جس سے اس زمانے کے سکول کے طالب علم واقف نہیں ہوتے۔ لیکن وہ علاقہ جس میں کسی نے جنم لیا ہو اُس کا وطن ہوتا ہے اور نبی صلہ اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: حُب الوطنِ من الایمان ۔ وطن سے محبت ایمان کا جزو ہے ۔ اور وطن کا یہ تصور لسانی اظہار کا پابند ہے۔ چنانچہ وطن سے جو چیز انسان کو جوڑتی ہے وہ اس کی سماجی زبان ہے۔ وہ زبان جو اس معاشرے کی واریجنل زبان ہے جس میں کسی بچے کا جنم ہوتا ہے اور جہاں وہ اپنے خاندانی اور قبیلداری ماحول میں زبان سیکھتا ہے۔ دہقانی سماج کی عورتیں زمین سے بہت زیادہ قریب ہوتی ہیں اور جب وہ ترنجنوں میں بیٹھتی ہیں تو شیر خوار بچے بھی ساتھ ہوتے ہیں جنہیں وہ دودھ پلاتی ہیں اور بعض اور اوقات جوشِ محبت میں بچے بدل کر دودھ پلاتی ہیں۔
ایک دن حفیظ جالندھری نے مجھ سے کہا کہ کیا تمہیں پتہ ہے کہ منیر نیازی نے میری ماں کا دودھ پیا ہوا ہے، اسی لیے وہ اچھی شاعری کرتا ہے۔ میں نے حفیظ صاحب سے تو کچھ نہیں کہا مگر منیر نیازی سے پوچھا تو وہ بولے کہ ہاں ایسا ہوا ہوگا کیوں کہ عورتیں جب مل بیٹھتی تھیں تو کبھی دودھ پلاتے ہوئے بچے بدل لیتی تھیں۔ اگر منیر نے حفیظ صاحب کی ماں کا دودھ پیا تو حفیظ صاحب نے بھی منیر نیازی کی ماں کا دودھ پیاہوگا۔ تو یہ طے ہے کہ ماں کے دودھ کا سرچشمہ ایک ہی ہوتا ہے ماور اسی کے با وصف زبان انسانی رشتوں ناتوں اور تعلقات کے باب میں کلیدی اہمیت کی حامل ہوتی ہے لیکن ہم پنجابیوں کا المیہ یہ ہے کہ ہماری اکثریت اپنی مادری زبان لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہے۔ ہمارا مادری زبان کا زیادہ تر علم عام بول چال تک محدود ہوتا ہے۔ چناچہ سطحی لسانی علم رکھنے والوں کا اپنی زمین، اپنی تہذیب اور اپنی علاقائی روایات سے تعلق واجبی ہوتا ہے اور اُن کا پنجابی ہونا ایسا ہی ہے جیسے وہ پنجاب کی مٹی سے نہ ہوں بلکہ کہیں کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہوں اور لسانی تحریکوں میں محض تماشائی کے طور پر شامل ہوں۔
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو پنجابی کو ایک غیر مہذب زبان سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اُن کے لیے پنجابی گھٹیا لوگوں کو زبان ہے چنانچہ وہ اپنے گھٹیا پن کو دور کرنے کے لیے اردو انگریزی ملا کر بولتے ہیں اور گفتگو میں آدھی خراب اردو اور اُتنی ہی گھسی پٹی انگریزی بولتے ہیں۔ قومی زبان کی اہمیت اور احترام اپنی جگہ مگرپاکستان میں قومی زبان اردو نے علاقائی زبانوں کا حق غصب کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں پنجابی اپنی زبان کے سب سے بڑے دشمن ہیں جب کہ سندھی، پشتو اور بلوچی بولنے والے اپنی زبانوں کے بہتر محافظ ہیں۔ جس کا مطلب ہے وہ اپنی علاقائی زبانوں سے محبت کرتے ہیں اور جب تک علاقائی زبان میں ابتدائی تعلیم کا نظام رائج نہیں ہوتا تب تک پنجابی اپنی زبان کے غدار ہی رہیں گے۔
پنجابی کے شعری ادب میں جو علمی خزانہ ہے اُس سے محروم رہ کر پنجابی اپنا پنجابی پن کھو بیٹھتا ہے اور پھر نہ وہ پنجابی رہتا ہے اور نہ ہی اپنے وطن سے اُس کا رشتہ مستحکم ہوسکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ معیاری پنجابی رسم الخط کو ماہرین کی کمیٹی کے ذریعے حتمی شکل دی جائے جسے بچے آسانی سے پڑھ سکیں اور ایک معیاری پنجابی نثر رائج کی جائے جس میں پنجابی کے تمام لہجوں کا لحاظ رکھا جائے اور ہیر
جیسی اعلیٰ ادبی کتابوں میں جو غلط املا رائج ہے اُسے درست کر کے اُن کے مصدقہ نسخوں کو شائع کیا جائے تاکہ زبان کی بے حرمتی نہ ہو۔کیونکہ ایک قدیم چینی دانشور کا قول ہے کہ اگر زبان غلط لکھی اور بولی جائے تو اس نہ صرف سماجی تعلقات خراب ہوتے ہیں بلکہ معاشی ترقی کی رفتا بھی متاثر ہوتی ہے۔ تو اس لیے اے میرے پیارے پنجابیو! زبان کے باب میں سیاسی نعرے بازی کے بجائے، پنجابی بولو، پنجابی پڑھو تے پنجابی لکھو۔