گردش رنگ چمن: جاشوا کے شب و روز
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- سوموار 22 / فروری / 2021
- 7930
گردش نان جویں کا رخ کوئی نہیں توڑ سکتا۔ہم عموماً روزمرہ کی گفتگو میں لفظ ”دانہ پانی“ کا استعمال کرتے ہیں اور ساتھ ہی کہتے ہیں کہ دانہ پانی پر کسی کو اختیار نہیں۔ اور اسی نان جویں کی عملی حکایت نہیں بھی درپیش ہے۔
ہم گزشتہ چالیس سال سے یورپ، افریقہ، مڈل ایسٹ اور امریکا میں تلاش نان جویں کی تلاش میں سرگردان رہے۔ بالآخر ریٹائرمنٹ کا وقت آ گیا۔ ان دنوں ہم کیلیفورنیا میں مقیم تھے۔ تلاش بسیار کے بعد نیو میکسیکو کو گھر جانا، مکان بنایا اور قریب قریب بیس سال کے قریب اس گھر میں مقیم رہے۔ اچانک ایک دن میری بیٹی مریم کا فون آیا،یہ فون حسب معمول فون نہ تھا۔ ہیلو کہتے ہی کہنے لگی یہ ضروری کال ہے میرے شوہر بھی لائن پر ہیں۔ ہم نے صلاح مشورے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ اب آپ دونوں ہمارے قریب آ کر رہیں اور ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں، آپ سے درخواست ہے کہ نیو میکسیکو والا مکان بیچ دیں اور ٹیکساس ہمارے گھر کے قریب مکان خرید لیں۔ ہمیں خدمت کا موقع دیں۔ ہم آپ کے منتظر ہیں۔ ہم دونوں اندیشہ ہائے دوردراز میں ڈوب گئے۔ ہم نے نظر اٹھا کر افق کی طرف دیکھا اور ہمیں اپنا ’دانہ پانی‘ ہجرت کرتے دکھائی دینے لگا۔ دل نے کہا:
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر
یہ نئی ہجرت یقینا نئی نہ تھی دوران ملازمت ہم بار بار اس سے گزر چکے تھے۔ مریم نے حال ہی میں جاشوا میں فارم ہاؤس خریدا تھا۔ اور اپنے گھوڑوں، مرغیوں اور گنی کے ساتھ رہ رہی ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ اور ڈاکٹر صاحب ہمارے لئے مناسب مکان ڈھونڈ رہے ہیں اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ ”جاشوا“ میں عظیم الشان یونیورسٹی کے ٹاور بلند ہو رہے ہیں جو ان کے گھر سے صرف پندرہ بیس منٹ کے فاصلے پر ہے جو اس کے شوہر کے لئے بہت مناسب ہے جہاں وہ پڑھاتے ہیں اور مریم کی کمپنی بھی صرف تیس منٹ کے فاصلے پر ہے۔
ہم دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے اندیشہ ہائے دوردراز میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ہجرت کا تصور خوش آئند صرف اس لئے تھا کہ مریم نظروں کے سامنے رہے گی۔ لیکن ’جاشوا‘ ایک معمہ بن کر آنکھوں کے سامنے رقصاں رہا۔ ہم نے تو جاشوا کا نام تک نہ سن رکھا تھا۔ ہم نے نیو میکسیکو والے مکان کو۔۔۔ ڈالا اور دمادم پیش کش آنے لگیں۔ سامان باندھا گیا اور ہماری ہجرت کے زمانے نزدیک تر ہونے لگے:
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
دل وہ بے رحم کہ رونے کے بہانے مانگے
”جاشوا“ (ٹیکساس) ایک شاداب وادی میں مقیم ہے۔ یہاں کچھ نہیں سوائے مویشیوں کے۔ قدیم آبادی کے بیشتر مکانات پرانی وضع کے ہیں اور مکانات کم از کم دو ایکڑ پر مشتمل ہیں۔ ان مکانات میں اضافہ کرنا یا سب ڈویژن کرنا ممنوع ہے۔ حکومت وقت پرانی چاشنی قائم رکھنے کی سعی کر رہی ہے۔
یہ مکانات خاندانوں کی ملکیت جانے جاتے ہیں۔ آبادی زیادہ تر ریٹائر لوگوں کی ہے۔ ان کے چہروں سے عیاں ہے کہ انہوں نے زندگی بھر بھرپور کام کیا ہے۔ بچوں کو اسکول اور کالجوں میں تعلیم دی اور اب اپنے بچوں اور ان کے خاندانوں کے انتظار میں زندہ ہیں۔ جب بچے گھر آتے ہیں تو ان کے لئے ایک تہوار کا سماں ہوتا ہے۔ وہ بار بار پوتوں پوتیوں سے بھینچ بھینچ کے گلے لگاتے ہی اور جب وہ چلے جاتے ہیں تو ان کے لئے جاشوا خامشی میں ڈوب جاتا ہے۔ پھر حسب معمول بوڑھا اور بوڑھی شام ڈھلے کافی کے مگس لئے اپنی پورج میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور ہر گزرتی کار کو ہاتھ لہرا کر خدا حافظ کہتے ہیں اور دیر تک ان کے چہروں پر مسکراہٹ رینگتی رہتی ہے۔
یوم تشکر اور کرسمس پر ان کے بچے ضرور آتے ہیں اور بوڑھا اور بوڑھی پرانی سامان آرائش اور سینتاکلاز لئے گھر کی آرائش کرتے ہیں اور یوں ”جاشوا“ دھیرے دھیرے سنور جاتا ہے۔ اسی علاقے میں تین ایکڑ پر جائیداد کا مالک جارج ہے۔ اس کی بیوی فوت ہو چکی ہے اور بچے کب کے جا چکے ہیں اس کے پاس نہ گھوڑے ہیں اور نہ دوسرے مویشی اور وہ کسی زمانے میں شکاری تھا۔ وہ اپنی پرانی بندوقیں پورج پر بیٹھ کر صاف کرتا رہتا ہے۔ اور انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اسی علاقے میں چند گھر چھوڑ کر ایک خاتون رہتی ہے جو جارج پر مہربان ہے۔ وہ کبھی انڈے کبھی سبزیوں کی ٹوکری لے کر آ جاتی ہے اور جارج کو سمجھاتی ہے کہ اس کی اپنی مرغیوں کے انڈے ہیں اور یہ سبزیاں اس نے خود اُگائی ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتی ہے کہ اس نے سبزیاں پکانے کی ترکیب بھی ٹوکری میں لکھ کر رکھی ہوئی ہے۔ جارج کمال مہربانی سے اس کا شکریہ ادا کرتا ہے اور جب وہ خاتون اس کی پورج کی سیڑھیوں سے اترتی ہے تو لگتا ہے جیسے وہ گنگنا رہی ہے:
کیسے سمجھاؤں
بڑا ناسمجھ ہے
کیسے سمجھاؤں
جاشوا کے باسی بڑے محب الوطن لوگ ہیں۔ ان کے گھروں پر ٹیکساس کا سنبل نون سٹار نصب رہتا ہے اور یہاں ہر پانچ سات میل کے فاصلہ پر ایک کلیسا کا کلس نظر آئے گا۔ یہ محب الوطن ہونے کے ساتھ بڑے مذہبی لوگ ہیں۔ ہر سنڈے کو پورا خاندان بن سنور کر چرچ جاتا ہے۔ عورتیں اپنا سنڈے بیسٹ لباس زیب تن کرتی ہیں اور مرد سوٹ اور ٹائی لگاتے ہیں اور بچے بھی خوب سنور کر گھروں سے نکلتے ہیں۔ چرچ سے پہلے اور چرچ کے بعد عورتیں ٹولیوں میں بٹ کر ہفتہ بھر کی گپ شپ سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ چرچ کے بعد فیملی اپنے پسند کے ریسٹورنٹ کا رخ کرتی ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ لوگ پورا ہفتہ پرانی بلو جین اور ٹی شرٹ میں گزارتے ہیں اور سنڈے کو بن سنور کر چرچ جاتے ہیں:
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جسے اس کی
جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
یہ لوگ بڑے ملنسار ہیں۔ غالباً ان کا صرف ایک دکھ ہے۔ تنہائی اور ڈھلتی عمر، جب انہیں کوئی ہم نوا، یار دیرینہ مل جاتا ہے تو گزرتی زندگی
کے قصہ پارینہ کے دفتر کھل جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی پوری پوری سعی کرتے ہیں۔ وہ فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کا بیٹا یا بیٹی لاس اینجلس یا شکاگو یا نیویارک میں مقیم ہے اور ان کے بچے اعلیٰ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بعض اوقات یہ محفلیں طویل ہو جاتی ہیں تو سبھی بھاگ کر گھروں سے کچھ نہ کچھ لے آتے ہیں اور ”باربی کیو“ کا اہتمام ہو جاتا ہے اور سارے الاؤ کے گرد بیٹھ کر اپنے بھولے بسرے ہوئے دنوں کا سرا ڈھونڈ لاتے ہیں اور وہ نئے سرے سے گپ میں جٹ جاتے ہیں:
ہم وہاں ہیں جہاں ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی