سری لنکا کے مسلمان اراکین پارلیمان سے عمران خان کی ملاقات منسوخ کردی گئی

  • منگل 23 / فروری / 2021
  • 3790

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا کے دوران مسلم ممبران پارلیمان سے طے شدہ ملاقات کو سیکورٹی خدشات کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم منگل سے دو روزہ دورے پر سری لنکا پہنچے ہیں۔

سری لنکا اس سے پہلے وزیر اعظم کے پارلیمنٹ سے خطاب کو منسوخ کرچکا ہے۔ اب سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ان کی دیگر مصروفیات کو بھی منسوخ کیا گیا ہے۔ پاکستانی  وزیر اعظم کے ساتھ مسلمان اراکین پارلیمان کی ملاقات کی منسوخی پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سری لنکن مسلم کانگریس کے رہنما راؤف حکیم نے کہا ہے کہ ’تمام مسلمان اراکین پارلیمان‘ نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی درخواست کی تھی اور اب منسوخی سے متعلق ’مضحکہ خیز اور بزدلانہ تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں‘۔

کابینہ کے ترجمان وزیر کہلیا رامبوک ویلا نے کہا کہ ’ان کے دورے کی تفصیلات دونوں ممالک کے پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ طے کرتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ سپورٹس کمپلیکس کا بھی دورہ کرنے والے تھے جو وہ اب سکیورٹی ایجنسیوں کی تجویز کے بعد نہیں کر رہے ہیں۔‘ ان کے دورے کی تفصیلات طے کرتے ہوئے ان کی سکیورٹی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ سکیورٹی کو یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے خاص کر کہ پاکستانی حکومت کے سربراہ کی۔‘

وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ مسلمان اراکین پارلیمان کی ملاقات کی منسوخی پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سری لنکن مسلم کانگریس کے رہنما راؤف حکیم نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ تمام مسلمان اراکین پارلیمان نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔  انہوں نے ملاقات کی منسوخی سے متعلق دی گئی وجوہات کا پارلیمان میں عمران خان کے خطاب کی منسوخی کی وجوہات سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ منسوخی کی ’مضحکہ خیز اور بزدلانہ تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں‘۔ راؤف حکیم نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے احترام میں ’جنہیں ہم سب بہت پسند کرتے ہیں، میں اس پر مزید کچھ نہیں کہوں گا۔‘

سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پکشے نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ حکومت کووڈ 19 سے مرنے والے مسلمان شہریوں کو دفنانے کی اجازت دے گی۔ سری لنکا میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے ہر شخص کی میت کو لازمی طور پر جلایا جاتا ہے جس سے مسلمان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔  سری لنکا کے وزیر اعظم کے اس بیان کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر سراہا تھا۔

یہ سب ایک ایسے موقع پر ہوا جب سری لنکا اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کونسل کے چھالیسویں اجلاس میں پاکستان کے ذریعے او آئی سی کے ممبران کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں سری لنکا کو مبینہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کے الزام کا سامنا ہے۔

وزیر اعظم راجا پکشے کی جانب سے پارلیمنٹ میں کووڈ 19 سے مرنے والے مسلمانوں کو دفنانے سے متعلق بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی سری لنکا کی حکومت نے کہا کہ کووڈ 19 سے مرنے والے افراد کی میت کو جلانے کی پالیسی جاری رہے گی اور اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔  حکومت کے اس بیان نے سری لنکا کے مسلمانوں کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم سے مداخلت کی اپیل کریں۔