منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی ضمانت منظور ہوگئی

  • بدھ 24 / فروری / 2021
  • 4350

لاہور ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کرلی ہے۔

جسٹس سرفراز ڈوگر اور اسجد جاوید گورال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر نیب کی جانب سے سینئر وکیل فیصل بخاری عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب کے وکیل نے درخواست ضمانت کی مخالفت کی۔ نیب وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز کے اثاثے 2003 میں چند لاکھ تھے، 2018 میں ان کے اثاثے 537 ملین (53 کروڑ 70 لاکھ) ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ انویسٹی گیشن مکمل کرنے کے بعد 2020 میں نیب نے ریفرنس دائر کردیا۔ 20 ملزمان کے خلاف نیب نے ریفرنس دائر کیا، جن میں 6 ملزمان اشتہاری ہو چکے ہیں جبکہ چار ملزمان ریفرنس میں وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ 11 نومبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی اور اب ٹرائل جاری ہے، اس سے پہلے بھی لاہور ہائیکورٹ سے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حمزہ شہباز کو بیرون ملک سے 81 ملین کی ٹی ٹیز آئیں، حمزہ شہباز نے اپنی ٹرانزیکشنز اور وصول رقم کا آج تک کوئی ذریعہ (سورس) نہیں بتایا۔

اس موقع پر نیب کے وکیل نے منی لانڈرنگ سے متعلق تیار کیا گیا چارٹ بھی عدالت میں پیش کیا اور کہا کہ ماڈل ٹاؤن آفس سے منی لانڈرنگ کا نیٹ ورک چلایا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نصرت شہباز، حمزہ شہباز، رابعہ عمران، جویریہ علی اور سلمان شہباز کے نام پر ٹی ٹیز آتی رہیں۔ ٹی ٹیز وصولی کے بعد حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نے مخلتف جگہ سرمایہ کاری کی۔

عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا اور حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کرلی اور انہیں جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں11 جون 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ 84 روز تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں بھی رہے تھے۔