ڈسکہ انتخاب میں وفاقی حکومت کی ایجنسیاں دھاندلی میں ملوث تھیں: مریم نواز
- بدھ 24 / فروری / 2021
- 3850
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے الیکشن کمیشن پاکستان میں پٹیٹشن جمع کروائی ہے جس میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-75 کے 20 پولنگ اسٹیشنز کے بجائے پورےحلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے منظم دھاندلی کی ہے۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ لوکل سطح پر دھاندلی ہوئی یا پی ٹی آئی کے لوکل ذمہ داران یا مقامی انتظامیہ ملوث ہے تو ایسا بالکل نہیں ہوا۔ اس میں ایجنسیز ملوث تھیں جو عمران خان کے ماتحت ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ میرے پاس نام آچکے ہیں اور میں الیکشن کمیشن کے پاس موجود ثبوتوں کے سامنے آنے کا انتظار کررہی ہوں اور چاہتی ہوں کہ یہ خود سچ بتادیں، شرمندگی سے بچ جائیں ورنہ وہ حقائق مجھے خود عوام کے سامنے لانا پڑیں گے۔ کس طرح 20 میں سے چند پریزائڈنگ افسران کو پوری رات گاڑیوں میں گھمایا گیا اور ان سے نتائج تبدیل کروائے گئے۔
باقی پریزائڈنگ افسران کو ایک ڈیرے پر لے جا یا گیا۔ وہاں پی ٹی آئی کا کون کون رکن موجود تھا وہاں کس کس ایجنسیز کا کون کون سا رکن موجود تھا۔ میں اچھی طرح جانتی ہوں، اگر یہ چیزیں ایکسپوز نہ کی گئیں تو میں کردوں گی۔
انتخابات کے بارے میں اسٹبلشمنٹ کے غیر جانبدار ہونے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر اسٹبلشمنٹ جانبدار ہے تو اسے نہیں آنا چاہئے۔ سیاسی معاملات، الیکشنز لڑنا، سیاسی حکمت عملی میں دخل اندازی کرنا، ایک ووٹ چور کو سپورٹ کرنا، ایک ایسی حکومت کو دوام دینے کی کوشش کرنا۔ اگر وہ یہ کررہے ہیں تو انہیں نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ عوام کے سامنے کھڑے ہونے کی بات ہے جو کسی بھی طرح ادارے کے لیے اچھی نہیں ہے۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 75 (سیالکوٹ 4) میں ضمنی انتخاب میں نتائج میں غیرضروری تاخیر اور عملے کے لاپتا ہونے پر 20 پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں ردو بدل کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے متعلقہ افسران کو غیرحتمی نتیجہ کے اعلان سے روک دیا تھا۔
میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید کے سینیٹ انتخابات کے لیے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی مذمت کی اور کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ انہیں کیوں نکالا گیا۔ ملک میں 2 قسم کے انصاف ہیں جنہیں پرویز رشید کی اپیل کے فیصلے نے مزید بے نقاب کردیا۔ پی ٹی آئی کے بدنام زمانہ کردار، جن پر غنڈہ گردی اور غلط کام ثابت ہوچکے ہیں ان کے کاغذات قبول ہوجاتے ہیں اور پرویز رشید جن کے پاس سوائے اپنی عزت اور جمہوری اصولوں کے کچھ نہیں ان کے مسترد ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہرایا معیار بے نقاب ہوگیا ہے۔ اسے پوری قوم نے دیکھا، یہ حربے زیادہ عرصے نہیں چلیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن میں ناقابل تردید ثبوت پیش کیے ہیں فیصلہ آنے دیں۔ میں چیف الیکش کمشنر سے کہنا چاہتی ہوں کہ پاکستان کے عوام کے حق رائے دہی کو یقینی بنانا، ووٹ کی حفاظت کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ 22 کروڑ عوام آپ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔