احسان اللہ احسان کے فرار میں ملوث فوجیوں کےخلاف کارروائی کی جاچکی ہے: ترجمان پاک فوج

  • بدھ 24 / فروری / 2021
  • 6220

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فوج کی تحویل سے فرار ہونے میں چند فوجی افسران ملوث تھے، جن کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ احسان اللہ احسان کا فرار ہو جانا ایک بہت سنگین معاملہ تھا اور اس کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔ کارروائی سے متعلق پیش رفت جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ احسان اللہ احسان کی دوبارہ گرفتاری کی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن فی الوقت انہیں علم نہیں ہے کہ احسان اللہ احسان کہاں ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان کی جانب سے نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی کو ٹوئٹر پر دھمکی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 'میری معلومات کے مطابق جس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ملالہ کو دھمکی دی گئی وہ جعلی اکاؤنٹ تھا۔‘

یاد رہے کہ گزشتہ برس فروری کے آغاز میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ احسان اللہ احسان مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ بعد ازاں 17 فروری کو وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے احسان اللہ احسان کے فرار سے متعلق میڈیا میں چلنے والی خبروں کی تصدیق کی تھی۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی فروری میں پہلی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے 11 جنوری 2020 کو پاکستانی سیکیورٹی اتھارٹیز کی حراست سے فرار ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ترکی میں موجود ہیں جبکہ متعدد ذرائع کا ماننا ہے کہ دہشت گرد گروہ کے سابق ترجمان افغانستان میں ہیں۔

اگست 2020 میں میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کے دوران احسان اللہ احسان کے فرار اور اس کے بعد مبینہ آڈیو ٹیب سے متعلق سوال پر تصدیق کی تھی کہ ایک آپریشن کے دوران احسان اللہ احسان کو استعمال کیا جارہا تھا اور وہ اس دوران فرار ہوگیا۔ اس سے قبل اپریل 2017 کو پاک فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا۔

ترجمان پاک فوج نے جبری طور پر لاپتہ افراد کے حوالے سے سوال پر کہا کہ ’لاپتہ افراد کے معاملے پر بننے والے کمیشن نے بہت پیش رفت کی ہے۔‘ اس کمیشن کے پاس 6 ہزار سے زائد افراد کے مقدمات تھے جن میں سے 4 ہزار حل کیے جا چکے ہیں، جبکہ یہ معاملہ بہت جلد حل ہو جائے گا۔‘

واضح رہے کہ حال ہی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے چند لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے اسلام آباد میں کئی روز دھرنا دیا تھا۔  یہ دھرنا وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی اس یقین دہانی کے بعد ختم کیا گیا کہ اگلے ماہ وزیر اعظم عمران خان ان سے ملاقات کریں گے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی گفتگو میں انکشاف کیا کہ گزشتہ ماہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 11 کان کنوں کے قتل کے واقعے میں ملوث چند افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔  یہ بہت اہم گرفتاریاں ہیں لیکن ان کی مزید تفصیل نہین دی جاسکتیں۔