حلقہ این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی انتخاب کالعدم قرار، دوبارہ پولنگ کا حکم

  • جمعرات 25 / فروری / 2021
  • 6810

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں گزشتہ ہفتے ہونے والے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈسکہ کا ضمنی انتخاب "شفاف اور منصفانہ" نہیں تھا۔ کمیشن نے حلقے کے تمام پولنگ اسٹیشنز پر 18 مارچ کو دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے ضمنی انتخاب سے متعلق اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ 19 فروری کو ضمنی انتخاب میں لڑائی جھگڑے اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے اور ووٹرز کو حقِ رائے دہی کے لیے آزادانہ ماحول فراہم نہیں کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن ایکٹ کی شق 9 کے تحت الیکشن کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں بدنظمی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے جب کہ فائرنگ کے واقعے میں دو افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج تاخیر سے ملنے پر حلقے کا نتیجہ روک لیا تھا۔ سماعت میں تحریکِ انصاف کے اس حلقے سے امیدوار علی اسجد ملہی نے اپنے نئے وکیل علی ظفر ایڈوکیٹ کے ذریعے مؤقف پیش کیا کہ فائرنگ ہر الیکشن میں ہوتی ہے، اس لیے شکایت نہیں کی۔

علی اسجد ملہی کا کہنا تھا کہ ہر علاقے کے ووٹرز کی مرضی ہے ووٹ ڈالیں یا نہ ڈالیں۔ حلقے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگی ہوئی نہ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر پر منحصر ہے کہ ووٹ ڈالنے آئے یا نہ آئے اس وجہ سے کسی پولنگ اسٹیشن پر ووٹنگ کی شرح کم ہونے پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کمیشن سے این اے 75 کا انتخابی نتیجہ جاری کرنے کی استدعا کی۔

(ن) لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے متنازع 20 پولنگ اسٹیشنز کے ووٹوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پورے حلقے میں فائرنگ ہوئی۔ فائرنگ کرنے والا جو بھی ہو ووٹرز ہراساں ہوئے۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل کے ساتھ شرمناک فراڈ کیا گیا۔ پریزائیڈنگ افسران کے موبائل اور پولیس کے وائر لیس ایک ساتھ بند ہو گئے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ عام انتخابات میں بھی فارم 45 کا مسئلہ سامنے آیا تھا۔ تاہم ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن کو فارم 45 نہ ملنے کی شکایت نہیں آئی۔ اس کے بعد چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے حلقہ این اے 75 ڈسکہ سے متعلق سماعت پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کرائے جائیں۔

جمعرات کو الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخاب کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے اعلان کے بعد وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ جب تفصیلی فیصلہ آئے گا تو اسے دیکھ کر پاکستان تحریکِ انصاف آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔ الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ اداروں کو سیاست سے آزاد کیا جائے گا اور ان کے بقول اس پر انہیں آج فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت عدالتی فیصلوں کو مانتی ہے اور ان کے آگے سر تسلیمِ خم کرتی ہے۔ شبلی فراز نے  اس سوال پر کہ پنجاب حکومت ڈسکہ میں امن وامان قائم رکھنے میں ناکام رہی کیا اس پر عثمان بزدار کو مستعفی ہونا چاہیے؟ شبلی فراز نے کہا کہ عثمان بزدار کو بالکل مستعفی نہیں ہونا چاہیے، البتہ آپ کو صحافت چھوڑ دینی چاہیے۔

رواں ماہ 19 فروری کو سیالکوٹ کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پرتشدد واقعات ہوئے، فائرنگ کے ایک واقعے میں 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے تھے، جب کہ 20 پریزائیڈنگ افسران پولنگ بیگز کے ہمراہ لاپتہ ہوگئے، جو اگلے روز صبح 6 بجے آر او دفتر پہنچے تھے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "ڈسکہ کے عوام کا شکریہ جنہوں نے نہ صرف ووٹ دیا بلکہ ووٹ پر پہرا بھی دیا اور ووٹ چوروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر قانون کے حوالے کر دیا۔" واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج تاخیر سے ملنے پر حلقے میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے اور الیکشن کمیشن سے پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ڈسکہ انتخاب کے معاملے پر چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو فرائض سے غفلت برتنے پر چار مارچ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن اور آر پی او گوجرانوالہ رینج کو ان کے موجودہ عہدوں سے تبدیل کر کے گوجوانوالہ ڈویژن سے باہر بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے اسٹبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ، ڈی پی او سیالکوٹ اور اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ کو معطل کیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے وفاقی اور پنجاب حکومت کو حکم دیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ جاوید لاشاری، ڈی پی او سیالکوٹ حسن اسد علوی، اے سی ڈسکہ آصف حسین، ڈی ایس پی سمبڑیال ذوالفقار ورک اور ڈی ایس پی ڈسکہ محمد رمضان کمبوہ کو معطل کیا جائے اور ان کو آئندہ کسی الیکشن ڈیوٹی پر تعینات نہ کیا جائے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ ان تمام افسران کے خلاف الیکشن کمیشن خود انکوائری کرے گا یا وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کو انکوائری کرنے کا حکم دے گا جس کا فیصلہ بعد میں ہو گا۔ پاکستان میں حال ہی میں ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات میں ڈسکہ کا انتخابی حلقہ سب سے زیادہ موضوعِ بحث رہا تھا۔ اس حلقے میں اصل مقابلہ حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف اور حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان تھا۔ یہ نشست مسلم لیگ (ن) کے رکنِ اسمبلی سید افتخار الحسن شاہ کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔