انتخابی دھاندلی کا تدارک مگر کیسے؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 25 / فروری / 2021
- 9030
ہم میں سے ہر شخص کی یہ تمنا ہے کہ ترقی یافتہ جمہوری ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی ایک مستحکم اور آئیڈیل جمہوری سسٹم مضبوطی سے قائم و دائم ہو جائے۔ لیکن یہاں سب سے بڑی خرابی سول ملٹری تعلقات میں غیر آئینی ہتھکنڈوں کے استعمال کی صورت شروع دن سے چلی آ رہی ہے۔
بارہا یوں محسوس ہوتا ہے کہ 1947 میں برطانوی راج سے انتقال اقتدار ہمارے عوام کو نہیں طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو منتقل ہوا تھا۔ سو یہ تسلسل سات دہائیاں گزرنے کے باوجود نہ صرف قائم و دائم ہے۔ بلکہ جمہوریت نواز سیاستدانوں کے لئے درمیان میں اگر کچھ مواقع آئے بھی ہیں تو وہ یا محض شراکتِ اقتدار تک محدود رہے ہیں یا طفیلی و چاپلوسی کے ساتھ مخصوص سرکل تک۔ کیونکہ ملک کی دفاعی پالیسیاں تو رہیں ایک طرف مملکت کی خارجہ پالیسی بھی کبھی آزاد جمہوری فضا میں تشکیل نہیں پا سکی۔
خدائی طاقتوں کے فضل و کرم سے اول تو یہاں انتخابات کے بلا رکاوٹ یا تسلسل سےمنعقد کرنےکی روایت قائم نہیں ہو سکی۔ دوسرے جب جب انتخابات منعقد ہوئے ہیں، اکثر و بیشتر اُن کی شفافیت پر ایک سو ایک اعتراضات وارد ہوتے رہے ہیں۔ سوائے 1970 والے انتخابات کے جو متحدہ پاکستان کے پہلے اور آخری براہِ راست انتخابات تھے۔ ان انتخابی نتائج کے مطابق شیخ صاحب کی عوامی لیگ نے تین سو کے ایوان میں 161سیٹیں جیتی تھیں جبکہ محض 81سیٹیں لینے والا خود کو وزارتِ عظمیٰ کا سب سے بڑا حقدار قرار دے رہا تھا۔ وہ یہ سب کس کی آشیر باد سے کر رہا تھا یہ کسے معلوم نہیں ہے۔ عرض مدعا یہ ہے کہ تب اس واحد موقع پر اگر رگنگ کا الزام قومی سطح پر اس طریقے سے نہیں ابھرا تھا، تب بھی اس کا فائیدہ قوم کو کیا ہوا؟ جب آپ نے مخصوص اشاروں پر نتائج کو سبوتاژ کرنے کا گھناؤنا جرم کر ڈالا۔
ماقبل محترمہ فاطمہ جناح اور جنرل ایوب خاں کے بالواسطہ صدارتی انتخابات کو آج کوئی بھی منصفانہ یا دھاندلی سے پاک تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ مابعد جب محترمہ بے نظیر اور میاں نواز شریف کے درمیان مخصوص اشاروں پر منافرتوں کا طوفان اٹھتا رہا، سیاسی مخالفت بی کو دین ایمان یا زندگی موت کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا تب کا کلہاڑا چلاتے ہوئے اٹھاون
اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ ایک کو رخصت کرتا تھا تو واضح پیغام ہوتا تھا کہ جس کو ہٹایا جا رہا ہے اب اس کو آنے نہیں دینا۔ لہٰذا غیر مرئی طاقتوں کا تمام تر جھکاؤ دوسرے پلڑے میں ہو جاتا تھا۔ ان تمام تر انتخابات کی شفافیت ہمیشہ متنازع رہی۔ ابتداً اسٹبلشمنٹ سے عوامی سطح پر اتنی نفرت محسوس نہیں کی جاتی تھی جتنی آج ہے۔ بالخصوص 70 کی دہائی میں یہاں سویلین آمریت کا جو تلخ تجربہ ہوا اس کے نتیجے میں وسیع تر دھاندلی کے خلاف ریکارڈ توڑ تحریک چلی۔ نتیجتاً بحالی جمہوریت کیا ہوتی ہم ایک گڑھے سے دوسری کھائی میں جا گرے۔
تب تک کم از کم اپوزیشن کی حد تک یہ مطالبہ ضرور تھا کہ آرمی اور جوڈیشری کی نگرانی میں منصفانہ انتخابات کروائے جائیں لیکن افسوس وقت کے ساتھ ہمارے اداروں کی اس قدر ناکامی و بدنامی ہو چکی ہے کہ آج کی اپوزیشن اس نوع کا مطالبہ کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتی ہے۔ آج ایک ہی مطالبہ ہے اور یہ درویش بھی تسلسل کے ساتھ اس پر لکھتا چلا آ رہا ہے کہ پاکستان میں ہندوستان کی طرح الیکشن کمیشن کو اتنا مضبوط بنا دیا جائے کہ تمام تر انتخابی پراسس میں طاقتور یا ان کے فیورٹ مختلف انتخابی مراحل پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ کسی بھی ایشو کے ماہرین جب اپنا کام دھندا کرتے ہیں تو اس میں ہاتھ کی ایک صفائی یا مہارت اس خوبی سے استعمال ہوتی ہے کہ اس کی لغویات اس میں چھپ جاتی ہیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ نقل کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ 2018 کے انتخابات میں جو دھاندلی ہوئی کوئی بھی غیر جانبدار تجزیہ نگار اس کی وسعت یا مہارت و چابکدستی سے انکار نہیں کر سکتا۔ اس کی تفصیلات میں پوری کتاب رقم کی جا سکتی ہے لیکن اس کے بالمقابل 19فروری کو ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے حلقہ 75میں اناڑیوں کے ہاتھوں جو اودھم بپا ہوا ہے، وہ اتنا مکروہ ہے کہ کسی پردہ پوشی یا اخلاقی نارمز کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔
آج الیکٹرانکس میڈیا یا سوشل میڈیا کے عروج میں جب ہر ہاتھ میں وڈیو کیمرہ ہے، آپ نے کیسے گمان کر لیا کہ ایک پریذائیڈنگ آفیسر انتخابی ووٹوں کے تھیلے لئے بھاگ رہا ہو تو وہ دسترس میں نہیں آئے گا۔ یا 23پولنگ اسٹیشنوں سے انتخابی عملہ انتخابی ریکارڈ کے ساتھ رات گئے گھنٹوں غائب رہے تو یہ بات آسانی سے ہضم ہو جائے گی۔ اس سے شرمناک بات کیا ہو سکتی ہے کہ دیگر تین صد پولنگ اسٹیشنوں پر تو ڈالے گئے ووٹوں کی ریشو 35فیصد ہو جبکہ ریکارڈ لے کر روپوش ہونے والے ووٹوں کی ریشو 80یا 85 فیصد قرار دے دی جائے۔
عرض مدعا یہ ہے کہ رگنگ کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے۔ اور پھر جس طرح فائیرنگ اور تشدد کا استعمال ہوا ہے تاکہ لوگ خوف میں ووٹ ڈالنے نہ آ سکیں۔ کئی پولنگ اسٹیشنوں پر گھنٹوں انتخابی پراسس رکا رہا، یہ سب منفی ذہنیت کے اناڑی پن کا ثبوت ہیں۔ بھلے مانسو اگر دھاندلی کی تمنا بھی ہے تو کم از کم کچھ ظاہری بھرم ہی رہنے دو۔ ظاہر ہے اس سارے گھٹیا دھندے کے پیچھے اصل سہولت کار ہماری بیورو کریسی ہے۔ بلاشبہ اب کے خاکی پیچھے ہٹے ہیں تو سویلین نے کہا ہم کیوں دست تعاون نہ بڑھائیں۔
ہماری ان مناجات پر جسے شک ہے وہ ایک مرتبہ پھر چیف الیکشن کمشنر کے اظہار تلخ نوائی پر نظر ڈال لے۔ جن کا استدلال ہے کہ میں نے رات گئے چیف سیکرٹری سے لے کر فلاں فلاں سرکاروں سے روابط کی کوششیں کیں مگر....آج متعلقہ ریٹرنگ آفیسر فرما رہے ہیں کہ ’’کچھ پریذائیڈنگ آفیسر بظاہر دھاندلی میں ملوث تھے‘‘۔ وغیرہ وغیرہ۔ کوئی شک نہیں کہ آئینی و قانونی لحاظ سے الیکشن کمیشن یا چیف الیکشن کمشنر کی بہت اتھارٹیز ہیں مگر سپریم جوڈیشری اُسے کس حد تک بے بس کر سکتی ہے، اس پر بحث ہونی چاہئے۔ نیز سپریم جوڈیشری سے طاقت حاصل کئے بغیر کیا محض اختیارات لکھ دینے سے ہمارا الیکشن کمیشن اتنا طاقتور ہو سکتا ہے کہ حکومتی دھاندلی میں سہولت کار بننے والوں کو کماحقہ لگام ڈال سکے۔ محض یہی راستہ ہے جس پر چل کر انتخابی دھاندلیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے بشرطیکہ باشعور میڈیا اور بھرپور عوامی دباؤ اس کی پشت پر ہو۔