پاکستان کو بدستور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ

  • جمعرات 25 / فروری / 2021
  • 4000

عالمی ادارے فناشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو جون تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت سے متعلق پاکستان کےاب تک کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو ادارے کی جانب سے تجویز کردہ 27 میں سے 3 سفارشات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اس لیے اسے جون 2021 تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے جس کے بعد اس پر دوبارہ نظر ثانی کی جائے گی۔ یاد رہے کہ اکتوبر 2020 میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی تھی جن میں مزید کام درکار تھا اور اس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا وقت فراہم کیا تھا۔

یہ فیصلہ منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی نگراں ادارے ایف اے ٹی ایف کے تین روزہ اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستانی حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات کے تناظر میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو شدت پسندوں کی مالی امداد کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کورونا وبا کے باعث ورچوئل اجلاس منعقد ہؤا۔

ایف اے ٹی ایف نے جن تین شعبوں کی نشاندہی کی گئی وہ یہ ہیں:

1) پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا عملی مظاہرے کریں کہ وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق جرائم کی نشاندہی کر کے نہ صرف اس کی تحقیقات کر رہے ہیں بلکہ ان جرائم میں ملوث افراد اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور ان کے لیے کام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

2) اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف جو قانونی کارروائی کی جائے اس کے نتیجے میں انہیں سزائیں ہوں تاکہ ان جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہو پائے۔

3) اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد دہشتگردوں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ انہیں فنڈز اکھٹا کرنے سے روکا جا سکے اور ان کے اثاثوں کی نشاندہی کر کے منجمد کیا جائے اور ان تک رسائی روکی جائے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں بھی ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا گیا تھا۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ماضی میں ادارے کی جانب سے پاکستان کو تجویز کردہ 27 میں سے 6 سفارشات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو فروری 2021 تک گرے لسٹ میں  رکھا جائے۔

دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور شدت پسندوں کی مالی امداد روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے 40 سفارشات مرتب کی گئی ہیں اور ان سفارشات پر عملدرآمد کو مدنظر رکھتے ہوئے رکن ممالک کو گرے یا بلیک لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔  

گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان نے بہت سے مشتبہ دہشت گردوں اور دہشت گردی میں ملوث افراد کی گرفتاریاں بھی کی ہیں۔ اسی سلسلے میں اپریل 2019 میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ سے منسلک تنظیموں اور افراد کو بھی گرفتار کیا گیا اور سزائیں سنائی گئیں۔  پاکستان ایف اے ٹی ایف کی 27 سفارشات پوری کرنے اور ٹیرر فاننسنگ کی روک تھام کے لیے 15 معاملات پر قانون سازی بھی کر چکا ہے۔

اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح ایک بلیک لسٹ بھی ہے جس میں اس وقت دنیا کے دو ممالک ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔

گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر روکا جا سکتا ہے۔