سینیٹ انتخاب: مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات
- جمعہ 26 / فروری / 2021
- 5560
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات پر توجہ مرکوز رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان جمعرات کو جاتی امرا میں ملاقات ہوئی۔ اس میں ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دینے کی پیش رفت، سینیٹ انتخابات اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت مخالف تحریک پر مشاورت ہوئی۔ یہ ملاقات ایسے موقع پر ہوئی ہے جب سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے محفوظ کر لی ہے۔ اسی روز الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیا۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جب بھی اپوزیشن اکٹھی ہوتی ہے تو اِس کا کچھ نہ کچھ مطلب ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں رہنما آپس میں اتحاد کو مضبوط کرنے اور اختلافات ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے بقول دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات سینیٹ انتخابات کے حوالے سے تھی اور اب سینیٹ الیکشن ایک اہم سیاسی ہدف بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ این اے 75 سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ ایک اچھا، انتظامی اور سیاسی فیصلہ ہے۔ جس سے نہ صرف الیکشن کمیشن کی سمت درست ہو گی بلکہ آئندہ سب کو تنبیہہ ہو جائے گی کہ جس الیکشن میں دھاندلی ہوئی اسے الیکشن کمیشن کالعدم بھی قرار دے سکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس سے متعلق سوال پر سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے جو آئین میں لکھا ہے اُسی کو دوبارہ دہرایا ہے۔ جس طرح سے حکومت اور صدرِ پاکستان نے اپنا بوجھ سپریم کورٹ تک منتقل منتقل کیا، اسی طرح سپریم کورٹ نے بھی بڑی خوبصورتی سے اس بوجھ کو دوبارہ پارلیمنٹ تک منتقل کر دیا ہے۔
مریم اور بلاول کے درمیان ملاقات کو سینیٹ انتخابات کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سینیٹ انتخابات میں کامیابی کے دعوے بھی کیے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا مقصد ملک میں حقیقی جمہوریت بحال کرنا ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حیثیت میں کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے۔ بلاول کے بقول اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کی جیت سے ثابت ہو گا کہ پارلیمنٹ بھی پی ڈی ایم کے ساتھ ہے۔ حفیظ شیخ سے گیلانی کا مقابلہ ہمارا امتحان ہے۔ ہم اس وقت عدم اعتماد کا کھیل نہیں کھیل رہے بلکہ سینیٹ انتخابات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کہتی ہیں غیر منتخب حکومت نے تین سال میں عوام کی زندگی تنگ کر دی ہے۔ یوسف رضا گیلانی کو جمہوریت پسند لوگ چاہتے ہیں۔ آئین میں تبدیلی پارلیمان نے لانی ہے۔ ان کی جماعت 'جعلی حکومت' کے ساتھ نہیں بیٹھے گی۔ پاکستان تحریک اِنصاف کی حکومت سے متعلق ایک سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ آئینی مدت پوری کرنے کا فارمولا منتخب حکومت پر لاگو ہوتا ہے۔
تجزیہ کار نسیم زہرہ نے مریم نواز اور بلاول بھٹو کے درمیان ہونے والی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی یہ کوشش ہے کہ حکومت پر ایک طرف سیاسی دباؤ برقرار رکھا جائے اور دوسری طرف سینیٹ انتخابات میں کوئی سرپرائز سامنے لائیں۔
نسیم زہرہ کے مطابق سینیٹ انتخابات کے حوالے سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اعداد و شمار پر خفیہ رائے شماری ہو گی یا سب کے سامنے ہو گی۔ پی ڈی ایم نے اپنا راستہ کچھ تبدیل کیا ہے۔ وہ بائیکاٹ اور استعفوں سے ہٹ گئے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد اب موجودہ سسٹم کے ذریعے ہی سیاست کو متحرک کیے ہوئے ہے۔
نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ ایک طرف حمزہ شہباز کو ضمانت ملی تو دوسری طرف آصف علی زردای کے مقدمات بھی کراچی منتقل ہو گئے ہیں۔ تو کسی حد تک حزبِ اختلاف میں شامل سیاسی جماعتوں کو ریلیف ملنے کی بات تو ہوئی ہے۔