پاکستان اور بھارت کشمیر پر براہ راست بات چیت کریں: امریکی وزارت خارجہ
- جمعہ 26 / فروری / 2021
- 7140
امریکہ نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے براہِ راست بات کی جائے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دونوں ملکوں کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔
خیال رہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کے سینئر فوجی کمانڈرز نے ایل او سی اور دیگر سیکٹرز پر تمام سمجھوتوں، معاہدوں اور جنگ بندی کی پابندی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے نیوز بریفنگ کے دوران اس سمجھوتے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت اور پاکستان کے مشترکہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ دونوں ممالک فوری طور پر ایل او سی پر جنگ بندی پر سختی سے عمل کریں گے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم فریقین کے درمیان بہتر روابط کی کوششوں، ایل او سی پر کشیدگی اور پر تشدد واقعات کم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ صحافیوں نے سوال کیا کہ اگر امریکا نے جنگ بندی کے اس نئے سمجھوتے کے لیے بات چیت میں مدد کی ہے تو کس حد تک کی ہے؟ میڈیا نمائندوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ نائب صدر کے طور پر بائیڈن کے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ وہ پاکستان کو افغان جنگ میں ایک اہم اتحادی سمجھتے تھے۔
جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ جب امریکا کے کردار کی بات آتی ہے تو ہم مسئلہ کشمیر اور دیگر معاملات پر پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست بات چیت کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ہم یقینی طور پر اعلان کردہ سمجھوتے کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔ نیڈ پرائس نے کہا کہ وہ اور جو بائیڈن حکومت کے دیگر عہدیدار دونوں پڑوسی ممالک پر کشیدگی کم کرنے کے لیے گزشتہ ماہ سے زور دے رہے ہیں جب امریکی صدر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے اس پوڈیم سے مجھے اور اس حکومت کے دیگر عہدیداران کو کہتے سنا ہوگا کہ ہم نے دونوں فریقین سے ایل او سی کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی جانب واپس جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم اس حوالے سے بالکل واضح ہیں اور ایل او سی کے پار دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کی مذمت کرتے ہیں۔
اس سوال پر کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 'غیر جانبدار' رہنے کی کوشش کس طرح امریکا کی پاکستان کے لیے پالیسی کو متاثر کرے گی؟ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک اہم اتحادی ہے جس کے ساتھ ہمارے بہت سے مشترکہ مفادات ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا کہ ہم اس معاملے میں بالکل واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانیوں پر زور دیتے ہیں کہ مشترکہ مفادات کے تمام پہلوؤں میں تعمیری کردار ادا کرے جس میں افغانستان، کشمیر اور ہمارے دیگر مشترکہ مفادات شامل ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے ہاٹ لائن رابطے کے ذریعے ایک دوسرے کے بنیادی معاملات اور تحفظات کو دور کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو امن کی خرابی اور تشدد کا سبب بنتے ہیں۔ دونوں ممالک نے لائن آف کنٹرول اور دیگر تمام سیکٹرز کی صورتحال کا آزاد، اچھے اور خوشگوار ماحول میں جائزہ لیا۔
فریقین نے ایل او سی اور دیگر تمام سیکٹرز پر تمام معاہدوں، سمجھوتوں اور جنگ بندی پر سختی سے عمل پیرا ہونے پر اتفاق کیا۔اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کسی بھی طرح کی غیرمتوقع صورتحال اور غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ہاٹ لائن رابطے کے طریقہ کار اور بارڈر فلیگ میٹنگز کا استعمال کیا جائے گا۔