سری لنکا: رسمی دوستی سے آگے کیا؟

لگ بھگ دس سال قبل  کا واقعہ ہے، ایک ٹریننگ کے سلسلے میں ہم  سری لنکا کے شہر کولمبو میں کچھ دنوں کے لئے قیام پذ یر تھے۔  رات گئے رکشہ میں  کولمبو  کے ساحل کنارے سے سی فوڈ کھا کر واپس  آتے ہوئے ہمیں کافی تاخیر ہو گئی۔  

ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ پر رکشہ رکا،  سپاہی نے رکشہ ڈرائیور سے پوچھا: کہاں سے آرہے ہو؟ کتنے مسافر ہیں؟ ڈرائیور کی وضاحت کے دوران ہی سپاہی نے اندھیرے میں مسافروں کو چیک کرنے کے لئے رکشے کے اندر ٹارچ  روشن کرکے ہمارا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ غیر ملکی مسافر دیکھ کر وہ مزید چوکنا ہو گیا۔ ہم نے سوچا، کہیں پوچھ گچھ کے چکر میں  مزید دیر  نہ ہو جائے۔ اس نے  پوچھا: کس ملک سے؟ پاکستان سے۔  اوہ، اچھا اچھا، جائیں!  ہم  نے سکون کا سانس لیا، رکشہ ڈرائیور نے رکشہ  دوبارہ رواں کرتے  ہوئے ہمیں بتایا: پاکستان اور سری لنکا سپیشل دوست ہیں، نو پرابلم۔

 پاکستان اور سر ی لنکا  کے مابین بہت حد تک مثالی دوستی ہے۔  تاریخی، سیاسی اور عوامی  روابط  میں اونچ نیچ کم ہی آئی۔  گزشتہ چند دِہائیوں کے دوران  دونوں ممالک کودہشت گردی کا سامنا رہا، اس کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے  ملک بھارت کی ہمسائیگی  سے منسلک مسائل دونوں ملکوں میں مشترکہ سردرد  رہے ہیں۔ سری لنکا کو دو دہائیوں سے زائد تامل  شدت پسندوں  کے ساتھ ایک طویل دہشت گردی جنگ کا سامنا رہا۔ اس دوران دونوں ممالک  کے  دفاعی تعلقات میں مزید  قربت پیدا ہوئی۔  اس قربت کا ایک اتفاقیہ حوالہ پاکستان میں بہت مشہور  ہے۔  اکتوبر 1999  کے واقعہ کے دوران ا س وقت کے چیف  آف  آرمی اسٹاف  کولمبو  کے دورے پر تھے  اور ان کی  واپسی کے دن  وہ سب واقعات رونما ہوئے جن کا  نتیجہ 12 اکتوبر کو  پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے پر منتج ہوا۔

وزیر اعظم عمران خان رواں ہفتے سری لنکا کے سرکاری دورے پر تھے۔  حسب معمول کئی معاہدوں کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ پاک سری لنکا انوسٹمنٹ کانفرنس میں عمران خان نے سر ی لنکا کے سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ  سی پیک  سے مربوط منسلک صنعتی زونز میں سرمایہ کاری کریں۔  قبل ازیں  سری لنکن پارلیمنٹ سے  وزیر اعظم  کا خطاب بھی طے تھا مگر بوجوہ یہ پروگرام بعد میں معطل کر دیا گیا جسے کچھ احباب نے ایک سفارتی  خفت تک کا نام دے ڈالا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سری لنکا اور بھارت کے درمیان سیاسی اور سفارتی تعلقات میں کئی پیچیدگیاں ہیں۔ بھارت جیسے بڑے ہمسائے اور طاقتور ملک کے ساتھ سری لنکا  کے معاملات میں بہت سے اتار چڑھاؤ  آتے رہے ہیں۔ دونوں کے  درمیان دوستی اور گریزپائی  کا تعلقات استوار  ہے۔ اس پسِ منظر میں یہ پروگرام موقوف کیا جانا  قابل فہم ہے۔

جنوبی ایشیا  کے ممالک کے درمیان سارک نام سے ایک علاقائی تعاون تنظیم موجود ہے۔   اقتصادی تعاون کا باہمی معاہدہ  کئی سالوں کی ریاضت کے بعد کیا گیا مگر اس پر عمل کی نوبت کم ہی آسکی۔ عمل درآمد کی کوششیں  سارک میں بھارت  کے جثے اور غلبے  تلے کچلی گئیں۔   اس پسِ منظر میں  پاکستان اور سری لنکا سارک کانفرنس میں ہمیشہ  ایک دوسرے کے  بااعتماد ساتھی رہے ہیں۔ سفارتی  و سیاسی معاملات میں  اتار چڑھاؤ کے باوجود بھارت اور سری لنکا کے درمیان عوامی اور عملی سطح پر  تعلقات کار بہت بہتر  رہے ہیں۔ بھارت سری لنکا کا ایک بہت اہم اور بڑا تجارتی اور سرمایہ کار پارٹنر ملک  ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 2001 میں ایک آزاد تجارت کا معاہدہ   طے پایا اور رو بہ عمل بھی ہو گیا۔  خطے میں سفارتی  ہمسری کی کوشش میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان  بھی   ایف ٹی اے 2002 میں طے پایا اور 2005 میں رو بہ عمل ہو گیا۔  تمام تر دعوؤں اور توقعات کے باوجود مگر  اس ایف ٹی اے کے  بعد بھی باہمی تجارت کا حجم چند سو ملین ڈالرز سے زیادہ نہیں ہو سکا۔  گو وزیر اعظم عمران خان نے یہ تجارتی حجم ایک ارب ڈالرز تک بڑھانے کا  عزم ظاہر کیا ہے مگر حقیقت یہ ہے  کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی گرمجوشی  تو  خوب پھلی  پھولی مگر تجارت کا حجم نہایت معمولی اور منجمد   ہی رہا ہے۔

سری لنکا  میں مسلمانوں کی تعداد دس فیصد کے لگ بھگ ہے۔سوا  دو کروڑ  آبادی کے اس ملک میں  بدھ مت ہی غالب آبادی کا مذہب ہے۔ تقریبا ٌ  سّتر  فیصد سے زائد۔  عمومی طور پر مذہبی  رواداری  سری لنکا کا شیوہ رہا۔ ہمیں یاد ہے  کہ سر ی لنکا  کے  کئی  سفروں کے دوران  کولمبو اور دیگر شہروں میں جا بجا مساجد دیکھیں،  مساجد سے بلند ہونے والی  اذان بھی بارہا سنی۔ دوسرے بڑے شہر کینڈی کی ایک بڑی مسجد میں نماز پڑھنے گئے تو معلوم ہوا کہ اس مسجد کی تعمیر میں پاکستان نے بھی مالی تعاون کیا او ربعد ازاں جنرل ضیاء الحق ایک دورے میں اس مسجد  میں گئے بھی۔ حلال کھانا   با آسانی سے دستیاب ہے۔  مگر پھر یہ سب کچھ تیزی سے بدلنا شروع  ہو گیا۔

کچھ شدت پسند بدھ  مذہبی  پیشواؤں  نے  مذہبی معاملات  میں نفرت اور شر انگیزی  کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ بدھ مسلم فسادات کے چند بڑے واقعات میں مسلمانوں کا  نہ صرف بھاری نقصان ہوا بلکہ  مذہبی روا داری اور ہم  آہنگی کو شدید جھٹکا لگا۔ رہی سہی کسر دو سال قبل  ہونے والے  دہشت گرد ی  کے واقعے نے پوری کر دی۔  چھ  مقامات پر  ان دہشت گرد واقعات میں تین سو  کے لگ بھگ لوگ جان سے گئے  اور پانچ سو سے زائدزخمی ہوئے۔  دہشت گردی کرنے والے  پڑھے لکھے اور متمول مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد  مذہبی تعصب اور  مسلمانوں کے لئے مشکلات بڑھیں۔ 

 اس پس منظر  میں سری لنکا  پاکستان کے لئے انتہائی علاقائی ملک ہے۔ تاہم  پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات  کو  فقط  بھارت کے حلقہ اثر   اور سیاسی رسوخ  کی  نظر  کے علاوہ  دیکھنے اور مزید ہمہ جہت کرنے کی ضرورت ہے۔ تجارت  اور سرمایہ کار ی کا حجم  بڑھانے، عوامی سطح پر  سیاحت، تعلیم اور تجارتی مراسم میں بہتری سے رسمی دوستی کو نئی جہت دی جا سکتی ہے۔ رسمی دوستی سے آگے جانے کی ضرورت ہے۔