قرآن نے تاریخ سے سیکھنے کا حکم دیا ہے: وزیر اعظم
- اتوار 28 / فروری / 2021
- 4490
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو روزگار دینا ہے۔ سیاحت سب سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پاکستان بھر کے سیاحتی مقامات کو ترقی دیں گے۔
جہلم کے علاقے قلعہ نندنہ میں البیرونی ہیریٹیج ٹریل کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتی جب تک وہ صحیح معنوں میں اپنی تاریخ کا موازنہ نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن شریف میں اللہ پاک نے ہمیں نصیحت کی ہے کہ گزشتہ زمانوں میں کیا ہوا تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے اور ہمیں اپنی زندگی کیسے گزارنی چاہیے۔
آج کل جتنی بھی اقوام ترقی کر گئی ہیں وہ سب اپنی پرانی عمارتوں اور تاریخی مقامات پر کھدائی کرکے آثار قدیمہ نکالتے رہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں یہ کام نہیں کیا گیا۔ سارے جدید ممالک میں مسلسل کھدائی کرکے قدیم چیزیں نکال کر دیکھا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں کس طرح لوگ رہتے تھے۔ ساری دنیا یہ کرتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی تہذیب انگریزوں نے دریافت کی تھی۔ اس کے بعد ہمارے اپنے آرکیالوجسٹس نے بہت کم کام کیا بلکہ کچھ کیا ہی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ایک آرکیالوجسٹ صمد نے ہری پور میں دنیا کا سب سے بڑا 40 فٹ کا بدھا کا مجسمہ، جسے 'سلیپنگ بدھا' کا نام دیا گیا، دریافت کیا ہے اور ایسے قابل پی ای ڈی آرکیالوجسٹس انتہائی کم ہیں۔ پوری دنیا میں جہاں بدھ مت مذہب کے ماننے والے ہیں اب وہ سب آکر اس مجسمے کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ان سب چیزوں کو محفوظ کرنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا ہے کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو روزگار دینا ہے، سیاحت ایک ایسی صنعت ہے جو سب سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ پاک نے جس طرح کی نعمتیں بخشی ہوئی ہیں، دنیا کے ہر ملک میں ایسی چیزیں نہیں ہوتیں۔ سمندر، سب سے اونچا پہاڑ اور دنیا کی سب سے پرانی تہذیب موجود ہے۔ اس لیے ہم دنیا کو سیاحت کے بہتر مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا جس مقام پر سیاحوں کی رہائش اور دیکھ بھال کا اچھا انتظام نہ ہو وہاں سیاح نہیں آئیں گے۔ دنیا کے جن ممالک میں سیاحت ہے مثلاً سوئٹزر لینڈ، سری لنکا، ملائیشیا، ترکی میں مقامی افراد سیاحوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اس کا فائدہ انہیں ہی پہنچتا ہے۔ انہیں پیسہ اور روزگار میسر آتا ہے جس سے پورے علاقے کا فائدہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاحت کو مقامی افراد کامیاب بناتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوگی کہ اس گاؤں کو ماڈل ولیج بنائیں پھر دیگر سہولیات فراہم کریں تا کہ سیاح یہاں آکر قیام کریں، پیسہ خرچ کریں جس سے سارے علاقے کا فائدہ ہو۔ یہ دنیا کی بہت خاص جگہ ہے جہاں ایک ہزار سال قبل البیرونی نے کئی سال رہ کر زمین کی پیمائش کی۔ جبکہ یورپ میں یہ کام 4 سے 5 سو سال بعد ہوا۔ ہم اس علاقے کو ڈیولپ کریں گے، یہ دنیا کے نقشے پر آجائے گا جس سے سارے علاقے میں تبدیلی آجائے گی۔