ڈسکہ کا انتخاب: پی ٹی آئی کو سیاسی دھچکہ
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 28 / فروری / 2021
- 4410
پاکستان کی سیاست میں انتخابی شفافیت ہمیشہ سے ایک اہم او رمتنازعہ مسئلہ رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابات میں شکست کو قبول کرنے کی بجائے اپنی شکست کو پس پردہ قوتوں کی سازش یا انتخابی دھاندلی سے جوڑ تی ہیں۔ انتخابات کے بعد انتخابی شکست کی بازگشت میں انتخابی نظام کی خرابیاں دور کرنے کا امکان پیدا نہیں ہوتا۔
ڈسکہ این اے 75کا ضمنی انتخاب دو بڑی سیاسی قوتوں مسلم لیگ ن او رپی ٹی آئی کے درمیان تھا۔ پہلے سے یہ بات واضح تھی کہ یہ مقابلہ نہ صرف سخت ہوگا بلکہ انتخابی مہم بھی شدیدہوگی۔ لیکن ڈسکہ کے انتخابی معرکہ میں جو کچھ ہوا اسے ہماری سیاسی بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن جس کے بارے میں عمومی رائے یہ ہی ہے کہ وہ ایک خود مختاراور شفاف یا آزاد ادارہ نہیں بلکہ حکمران طبقات کی سیاسی طاقت کا شکار رہتا ہے۔ البتہ اس بار ڈسکہ کے انتخابی معرکہ میں الیکشن کمیشن نے سخت نوٹس لیا۔ الیکشن کمیشن کے پاس تین ہی آپشن تھے۔ اول کہ دھاندلی کی شکایت ملی اس کے کوئی شواہد نہیں ملے اور تحریک انصاف کی جیت کا اعلان کیا جاتا۔ دوئم بیس پولنگ اسٹیشن کے دوبارہ ری پول کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ سوئم پورے انتخابی نظام کو مشکوک سمجھا جاتا ہے او راس بنیاد پر پورے حلقہ میں د وبارہ انتخاب کا اعلان کیاجاتا۔ الیکشن کمیشن تیسرا آپشن اختیار کرکے پورے حلقہ میں 18مارچ کو پھر سے انتخاب کروانے کا اعلان کیا ہے۔
اسی طرح ایکشن کمیشن نے کمشنر، ریجنل پولیس آفیسرگوجرانولہ کو علاقہ بدر، ڈی سی او، ڈی پی او سیالکوٹ، اسٹنٹ کمشنر سمیت دو دی ایس پیز کو بھی معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ غفلت پر چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو بھی چار مارچ کو طلب کیا ہے کہ وہ کمیشن کے سامنے پیش ہوں۔الیکشن کمیشن کے بقول پریذائیڈنگ افسروں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ الیکشن کمیشن نیبتایا ہے کہ ڈسکہ کا الیکشن منصفانہ، ایماندرانہ اور شفاف نہیں تھا اور امن و امان ناقص، انتخابی نتائج مشکوک، ووٹروں کو آزادانہ ماحول فراہم نہیں کیا گیا۔یقینا یہ الیکشن کمیشن کا ایک بڑا فیصلہ ہے او رماضی میں اس طرح کے فیصلوں کی نظیر نہیں ملتی۔یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کے لیے مستقبل میں مشکلات بھی پیدا کرسکتا ہے کیونکہ جو ٹرینڈ سیٹ کیا گیا ہے اس کی بنیاد پر ہر انتخاب کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ہارنے والا امیدوار اسی بنیاد پر اپنے انتخاب کو چیلنج کرسکے گا۔
الیکشن کمیشن کے اس فیصلے سے مسلم لیگ ن کو سیاسی ریلیف ملا ہے او ران کے موقف کو سچ تسلیم کیا گیا ہے تو وہیں پی ٹی آئی کو یقینی طور پر الیکشن کمیشن کے پورے حلقہ میں ری پول کروانے پر بڑا سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کو لگتا تھا کہ الیکشن کمیشن اگر کوئی بڑا فیصلہ کرے گا تو وہ بیس پولنگ اسٹیشن میں دوبارہ پولنگ تک ہی محدود رہے گا۔لیکن الیکشن کمیشن نے حکومتی دباؤکی بجائے اپنا فیصلہ خود کرکے اپنی خود مختاری کی جھلک پیش کی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن سمیت بہت سے لوگ الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ کو جرات مندانہ سمجھ رہے ہیں او راس کی پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔عمومی خیال یہ تھا کہ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرکے آگے بڑھے گی۔لیکن اب تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ لیکشن کمیشن نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔
دیکھنا ہوگا کہ پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ سے کیا ریلیف ملتا ہے مگر پی ٹی آئی کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی انتخابی مہم کے سربراہ عثمان ڈار اور ان کی ٹیم کی نااہلی کا سیاسی نقصان ہؤا ہے۔الیکشن کمیشن کی خود مختاری، شفافیت اور آزادی ہمیشہ اہم مسئلہ رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے الیکشن کمیشن کے موجودہ فیصلہ کو اس ادارے کی آزادی او رمستقبل میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے بقول یہ ملک میں آزادانہ ا ور منصفانہ انتخاب کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ کاش ایسا ہی ہو۔ ہمارے ہاں واقعات کی بنیاد پر جذباتیت کو بہت غلبہ حاصل ہوتا ہے تو اس فیصلہ کی روشنی میں بھی جذباتیت نمایاں طور پر دیکھنے کو ملی ہے۔حالانکہ اسی ایک ماہ میں آٹھ کے قریب ضمنی انتخابات ہوئے ہیں اورہر جگہ ہارنے والے نے انتخابی نتائج پر اعتراض کیا ہے۔
الیکشن کمیشن اگر اپنے ہی فیصلوں کی روشنی میں انتخابات کا جائزہ لے تو اس میں بڑی بے ضابطگیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر الیکشن کمیشن کے مطابق کوئی بھی رکن قومی، صوبائی اسمبلی ممبر، وزیر، مشیر، وزیر اعلی، وزیر اعظم کو انتخابی مہم میں براہ راست حصہ نہیں لے سکتا۔ لیکن اسی ڈسکہ کے انتخابی معرکہ میں حکومت او رحزب اختلاف کے ارکان اسمبلی یا وزیر و مشیر وں کی براہ راست انتخابی عمل میں شرکت پر سوائے نوٹس کے الیکشن کمیشن کچھ نہیں کرسکا۔اسی طرح جس طرح سے سرعام اسلحہ کا استعمال ہوا اور اسلحہ استعمال کرنے والوں کی ویڈیو فوٹیج بھی موجود ہیں۔ دونوجوان جان کی بازی بھی ہار گئے،لیکن الیکشن کمیشن اس پر کوئی بڑا نوٹس نہیں لے سکا۔ پیسے کے بے دریغ استعمال کا قانون بھی مذاق بن کر رہ گیا ہے۔اس لیے یہ کہنا کہ ڈسکہ کے فیصلے سے الیکشن کمیشن آزاد ہوگیا ہے تو یہ درست نہیں بلکہ اس آزادی، خود مختاری او رشفافیت کے لیے ابھی بڑی جنگ باقی ہے۔
انتخابات کی شفافیت کی جنگ محض حکومت او رالیکشن کمیشن نے ہی نہیں لڑنی بلکہ اس میں تمام فریقین کو اپنا اپنا کردارا دا کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتیں جو انفرادی سطح پر خود انتخابات کی شفافیت کو قائم کرنے کی بجائے اس میں جائز طور طریقے اختیار کرکے نتائج کو اپنے حق میں کرتی ہیں ان میں بھی بڑی اصلاحات درکار ہیں۔ہماری بیوروکریسی کا استعمال، پولیس او رمقامی انتظامیہ یا دھونس، دھاندلی، تشدد، ڈر اور خوف کو پیدا کرنا، پیسوں کا آزادانہ استعمال، بڑی طاقتوں کی سیاسی، انتظامی مداخلت او رانتخابی نتائج پر کی جانے والی رٹوں پر برسوں برس فیصلے نہ ہونا جیسے امور شامل ہیں۔ماضی میں بدقسمتی سے ہمارے یہاں انتخابی اصلاحات کے نام پر سیاسی تماشہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔لیکن یہ ہی فریقین ان ہی انتخابی اصلاحات کا سرعام مذاق بھی اڑاتے رہے ہیں۔کیونکہ سیاسی سطح پر ہماری قیادت خود شفافیت کے نظام میں ایک بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ جب ہم حزب اختلاف میں ہوتے ہیں تو شفافیت کے مروڑ اٹھتے ہیں، لیکن جیسے ہی ہم اقتدار کی سیاست کا حصہ بن جاتے ہیں تو وہی غلطیوں کو دہراتے ہیں جو ماضی کی بدنما سیاست کاحصہ ہوتے ہیں۔
اس لیے محض انتظامی، قانونی بنیاد پر ہی نہیں بلکہ ہمیں سیاسی سطح پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بھی انتخابی نظام کی شفافیت کے لیے ایک بڑی سیاسی تبدیلی درکار ہے۔