لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی سے آگے

یادش بخیر! اپنے 14فروری کے کالم ’’ ایل اے سی  پر جنگ بندی، ایل او سی پر کیوں نہیں‘‘ میں مَیں نے اصرار کیا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی جانی چاہیے۔ پر خبر نہیں تھی کہ پس پردہ پاک بھارت بات چیت چل رہی تھی۔ گو کہ جنرل باجوہ حال ہی میں دوبار امن کی بات کرچکے تھے اور وزیراعظم عمران خان بھی اس کا عندیہ دیتے رہے تھے۔ 

بھارت میں سارا فوکس شمالی لداخ کے علاقے میں لائن آف ایکچوول کنٹرول پہ جاری بات چیت اور پھر فوجوں کے پیچھے ہٹائے جانے کے معاہدہ پر تھا۔ اچانک 25 فروری کو پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز  نے ’’تمام معاہدوں، افہام و تفہیم اور لائن آف کنٹرول و دیگر سیکٹرز میں فائر بندی پہ اتفاق کیا ہے۔‘‘  جس سے 2014 سے جاری لائن آف کنٹرول پر ہزاروں خلاف ورزیاں بند کردی گئی ہیں جو یقیناً کے دونوں جانب بسے ہوئے مظلوم کشمیریوں کے لیے باعث اطمینان ہے لیکن جو دو طرفہ بیان جاری کیا گیا ہے، وہ سفارتی تعطل کو توڑنے اور دو طرفہ ضدوں سے آگے بڑھنے کا ہے۔ 

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’باہمی طور پر فائدہ مند اور پائیدار امن کے مفاد میں، اتفاق کیا گیا ہے کہ ایسے بنیادی  ایشوز/ تشویشات) کو ایڈریس کرنے پہ اتفاق کیا گیا ہے، جن سے امن میں خلل پیدا ہوسکتا ہے اور جو تشدد کی طرف لے جاسکتا ہے۔‘‘  بیان کا یہ حصہ فائر بندی کے فیصلے سے آگے بڑے فیصلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارت پہلے سرحد پار دہشتگردی ختم کرو پھر بات ہوگی اور پاکستان پہلے 5اگست کے کشمیر دشمن اقدامات واپس لو تو پھر بات ہوگی کو منوائے بغیر بات چیت پر راضی ہوگئے ہیں اور دونوں اطراف بڑے ایشوز پر دو طرفہ مذاکرات پہ تیار ہوگئے ہیں۔ 

14فروری 2019 کو پلوامہ دہشتگردی، 26 فروری 2019 کو بالا کوٹ پر بھارتی فضائیہ کے حملے اور 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر اور لداخ کی خصوصی ریاستی حیثیت کی تنسیخ کے بعد دونوں ملکوں میں سخت ردعمل پیدا ہوا اور مودی اور عمران حکومتوں کے موقف میں بہت سخت گیری آگئی، جس سے بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند ہوگئے۔ اس اثنا میں بھارت میں عام انتخابات ہوئے اور نریندر مودی اور بی جے پی نے جنگی ماحول بنا کر انتخابات میں جھاڑو پھیر دی۔ جنگی ماحول بھی انتخابی جیت کے بعد جاری رکھنا ضروری نہ رہا۔ پھر چین اور بھارت میں جھڑپیں ہوگئیں اور دونوں ملک کشیدگی ختم کرنے پہ آمادہ ہوگئے۔ یہ تو تھا واقعاتی جائزہ!

لیکن اس خوش آئند تبدیلی کے مضمرات و عوامل اور مقاصد پہ ایک گہری نظر ڈالنا ضروری ہے کہ کیا واقعی یہ قابل یقین ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 2003 کی فائر بندی کے معاہدے کی تجویز بھی ایک فوجی لیڈر جنرل مشرف نے سافما  کی پاک بھارت پارلیمانی کانفرنس میں شریک بھارتی پارلیمنٹ کے ساٹھ سے زائد اراکین کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے دی تھی، جس کا بڑا خیر مقدم کیا گیا تھا اور فوراً ہی یہ معاہدہ ہوگیا تھا۔  اس بار بھی لگتا ہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار نے یہ پہل کی ہے اور پاک فوج اس کی قوت محرکہ ہے۔ اور دوسری طرف سے بھی معاہدے پہ دستخط فوجی کمانڈر نے کیے ہیں۔ مشترکہ بیان ہی کے بعد دونوں ملکوں کی وزارت ہائے خارجہ نے اس ضمن میں توثیقی بیان جاری کیے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کا بیان ہے کہ ’’ہماری خواہش پاکستان کے ساتھ معمول کے ہمسائیگی کے تعلقات کی ہے۔ ہم پرامن طریقے سے دو طرفہ بنیادوں پر معاملات)کو ایڈریس کرنے بارے پرعزم ہیں۔‘‘ پاکستان کے محکمہ خارجہ نے بھی اسی خوش دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ 

بلکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آگے کی جانب پیش قدمی کا اشارہ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس بیان سے قبل بھارت سے بات چیت کی خواہش کو دہرایا تھا اور سارک کو پھر سے متحرک کرنے پہ زور دیا تھا۔  اچھی خبر یہ ہے کہ امریکہ اور اقوام متحدہ نے فائر بندی کو خوش آمدید کہا ہے اور بات چیت سے کشمیر سمیت دو طرفہ معاملات کو حل کرنے کی ترغیب دی ہے اور حریت کانفرنس نے بھی اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ برصغیر میں بار ہا ایسا ہوا ہے کہ معاملات سلجھتے سلجھتے بگڑتے رہے ہیں اور پھر سے سلجھانے کی کوششوں میں نئے نئے بگاڑ پیدا ہوتے رہے ہیں کہ یہ ایک طرح کا لاحاصل سلسلہ نظر آنے لگتا ہے۔ 

وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم واجپائی کے مابین معاہدہ لاہور ایک بڑی پیش رفت تھا، جسے کارگل کی مہم جوئی نے سبوتاژ کردیا۔ پھر جنرل مشرف اور واجپائی بعدازاں وزیراعظم من موہن سنگھ میں کشمیر پہ چار نکاتی فارمولے پہ اتفاق ہوگیا تھا کہ ’’عدلیہ بحالی تحریک‘‘ کے اصل محرکین نے اسے منہدم کردیا۔ جب صدر آصف علی زرداری نے معاملہ آگے بڑھانا چاہا تو 2008 میں ممبئی میں خوفناک دہشتگردی ہوئی اور دونوں ملک جنگ کرتے کرتے رہ گئے۔ 

جب نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ان سے بات کرنے پہ رضامندی ظاہر کی اور اچانک وزیراعظم مودی جاتی امرا میں نواز شریف کے مہمان بنے جو کہ پاک بھارت تعلقات میں ایک انہونی تھی۔ پھر پٹھان کوٹ اور بعدازاں اڑی کے واقعات نے اس نئی کوشش پہ پانی پھیر دیا اور حالات خراب ہوتے گئے اور مودی بی جے پی کے جنگجویانہ اور کشمیر پہ جبری قبضے کی جانب چل پڑے۔  اس دوران ’’سرجیکل اسٹرائیکس‘‘ اور آخر میں بالاکوٹ تک فضائی حملے آزمائے گئے، جن سے انتخابی ٹرافی تو مل گئی مگر مقصد پورا نہ ہوا۔ البتہ کشمیر کو زبردستی ضم کرنے کا بہانہ ضرور مل گیا، جس سے بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بڑے مجرم کے طور پر دنیا میں بدنام ہوا۔ 

اگر چین کے ساتھ فوجی محاذ آرائی سے بھارت نے یہ دیکھ لیا کہ یہ سودا مہنگا ہے اور چین نے بحر ہند اور انڈوپیسفک ریجن میں بھارت کے فوجی عزائم سے اس کی توجہ ہٹا کر  ایل اے سی پہ مرکوز کرادی ہے تو پاکستان نے سرجیکل اسٹرائیکس کے دانت کھٹے کردیے ہیں۔  بھارت کے لیے دو محاذوں اور اندرونی خلفشار کے آدھے محاذ پہ لڑنا مشکل ہوتا چلا گیا ہے۔ لہٰذا ہم ایل اے سی اور ایل او سی پہ بھارتی لچک کا مظاہرہ دیکھ رہے ہیں۔ دریں اثنا یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ پاک بھارت جنگ دو ایٹمی طاقتوں میں ممکن نہیں۔ 

کورونا وبا، عالمی ماحولیاتی تباہی، عالمی معاشی تنزلی اور بین الاقوامی تجارت میں سست روی نے مجبور کیا ہے کہ بھارت و چین اور پاکستان و بھارت پھر سے بڑی معاشی ضرورتوں اور علاقائی تعاون کی جانب پلٹیں۔ جیو اسٹرٹیجک دشمنی، جیو اکنامک پارٹنر شپ کے لیے جگہ چھوڑے۔ اگر دنیا کثیر القطبی ہے تو ایشیا بھی جس میں چین، بھارت اور دوسرے حصے دار ہیں۔ ایسے ہی جنوبی اور جنوب مغربی و وسطی ایشیا میں بھی پاکستان، بھارت اور چین حصہ دار ہیں۔ بھارت کے مفاد میں نہیں کہ چین سے مقابلے میں پاکستان سے دشمنی برقرار رکھے اور پاکستان کے بغیر بھارت اس خطے میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ 

اب ضرورت ہے کہ ماضی میں کیے گئے تمام معاہدوں پر سرعت سے عمل کیا جائے جس میں زرداری/من موہن تجارتی معاہدے کا مسودہ، سیا چن اور سرکریک، سندھ طاس کا معاہدہ ، مشرف / منموہن چار نکاتی انڈر اسٹینڈنگ، ویزا کی آسانی، عوامی رابطے اور بھرپور سفارتی تعلقات شامل ہیں۔ بھارت زرداری / من موہن تجارتی معاہدے پہ دستخط کرے اور ایم ایف این  کا درجہ پائے۔ 

پراکسی وارز ختم ہوں اور افغانستان میں امن کے عمل کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور سارک کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ملک شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن میں وسیع تر علاقائی تعاون بشمول سی پیک کو آگے بڑھائیں۔ آگے ﷲ بیلی

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)