میرے اور اہل خانہ کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

  • سوموار 01 / مارچ / 2021
  • 7050

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس میں فاضل جج نے خود دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے اور میرے اہل خانہ کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی۔

عدالت عظمیٰ کے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی پہلی سماعت کی۔ اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ سیرینا عیسیٰ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ اس 10 رکنی بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس امین الدین خان شامل ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کی طبیعت ناساز ہے اور وہ عدالت نہیں آسکتے۔  اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود عدالت میں دلائل دیے۔ بنچ کے سربراہ  جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آپ خود دلائل دیں گے؟

جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ ہم 2019 سے مشکل میں مبتلا ہیں، میں خود دلائل دوں گا، میں نہیں چاہتا کہ کوئی اور ساتھی، کیس کے خاتمے تک بنچ سے ریٹائر ہو جائے۔ جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میں نے ایک متفرق درخواست بھی دائر کر رکھی ہے، میری درخواست غیر معمولی ہے۔ سپریم کورٹ میری درخواست پر غور کرے۔

میں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ نظرثانی کیس کی کارروائی براہ راست  نشر کی جائیں۔ میں نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ نظر ثانی کیس پی ٹی وی اور نجی ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر کیا جائے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے اور میرے اہل خانہ کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی۔

عدالت عظمیٰ کے سینئر جج اور درخواست گزار جسٹس عیسیٰ کے دلائل پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم وفاق کا مؤقف سن لیتے ہیں۔ عدالت میں موجود ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان علالت کے سبب سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوسکے۔

جس پر جسٹس عمر نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مکالمہ کیا کہ اگر ہم سماعت کل تک ملتوی کردیں تو کیا آپ دلائل دے سکتے ہیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت جو مناسب حکم جاری کرے میں تیار ہوں۔ خیال رہے کہ 19 جون 2020 کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بنچ نے 7 ججز کے اکثریتی مختصر حکم میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کے اکثریتی فیصلہ میں سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ان کے اہل خانہ سے ان کی جائیدادوں سے متعلق وضاحت طلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے پر رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرانے کا کہا تھا۔ بنچ میں شامل جسٹس مقبول باقر، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا لیکن انہوں نے اختلافی نوٹ لکھا تھا۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ کے اس مختصر فیصلے کے پیراگرافس 3 سے 11 کو دوبارہ دیکھنے کے لیے 8 نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی تھی۔ یہ درخواستیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین، ایڈووکیٹ عابد حسن منٹو اور پاکستان بار کونسل نے دائر کی تھیں۔

نظرثانی درخواستوں میں درخواست گزاروں نے اعتراض اٹھایا تھا کہ 19 جون کے مختصر فیصلے میں پیراگرافس 3 سے 11 کی ہدایات/ آبزرویشنز یا مواد غیر ضروری، ضرورت سے زیادہ، متضاد اور غیرقانونی ہے اور یہ حذف کرنے کے قابل ہے چونکہ اس سے ریکارڈ میں ’غلطی‘ ہوئی ہے لہٰذا اس پر نظرثانی کی جائے اور اسے حذف کیا جائے۔

اس کیس کا 23 اکتوبر کو تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا جو 174 صفحات پر مشتمل تھا، جس میں سپرم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 209 (5) کے تحت صدر مملکت عارف علوی غور شدہ رائے نہیں بنا پائے لہٰذا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ’مختلف نقائص‘ موجود تھے۔ تفصیلی فیصلے کے بعد اکتوبر میں سپریم کورٹ کو 4 ترمیم شدہ درخواستیں موصول ہوئی تھی جن میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق اکثریتی فیصلے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

نظرثانی کے لیے پہلے ایک 6 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا تھا تاہم درخواست گزروں نے 6 رکنی نظرثانی بنچ کی تشکیل کو چیلنج کردیا تھا اور یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف کیس میں اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے تینوں ججز کو نظرثانی بنچ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ 22 فروری 2021 کو جاری کردہ 28 صفحات پر مشتمل فیصلے میں معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا تھا کہ وہ بنچ کی تشکیل سے متعلق فیصلہ کریں اور وہ نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیں۔

23 فروری 2021 کو چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ایک 10 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا جس میں ان تینوں ججز کو بھی شامل کرلیا گیا تھا جنہوں نے اکثریتی فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا تھا۔