سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہی ہوں گے: سپریم کورٹ

  • سوموار 01 / مارچ / 2021
  • 4810

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے میں کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہی ہوں گے۔  ووٹنگ میں کس حد تک سیکریسی ہونی چاہیے یہ تعین کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

سپریم کورٹ کی رائے کے بعد صدرِ پاکستان عارف علوی کی جانب سے سپریم کورٹ کو بھجوایا گیا ریفرنس مسترد ہو گیا ہے۔ عدالت نے صدارتی ریفرنس میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اپنی رائے محفوظ کر لی تھی۔ پیر کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سپریم کورٹ کی رائے اوپن کورٹ میں سنائی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین اور قانون کے تحت ہوتے ہیں اور یہ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے نہیں کرائے جا سکتے۔ یاد رہے کہ صدر عارف علوی نے سپریم کورٹ سے آئین کی تشریح کی درخواست کی تھی کہ آیا سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوسکتے ہیں یا صرف سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہی انتخاب ہو سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ سیکریسی کبھی بھی مطلق نہیں ہوسکتی اور ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہ سکتا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف اور کرپٹ پریکٹسز سے الیکشن کو محفوظ بنائے۔ الیکشن کمیشن کرپشن کے خاتمے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کرسکتا ہے۔ تمام ادارے کمیشن کے ساتھ تعاون کے پابند ہیں۔

سماعت کے دوران وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے ریفرنس کی حمایت کی تھی جب کہ صوبہ سندھ، الیکشن کمیشن، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی تھی۔ سپریم کورٹ نے چار ایک کی اکثریت سے یہ رائے دی ہے اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی رائے دی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ آرٹیکل 186 کے مطابق ریفرنس قانون کا سوال نہیں۔ لہذا وہ اس ریفرنس کو بغیر کسی جواب کے واپس بھجواتے ہیں۔

حکومت نے سپریم کورٹ کی رائے کو تاریخی قرار دیا ہے جب کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں صدارتی ریفرنس مسترد ہونے کو حکومتی ناکامی قرار دے رہی ہیں۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے معاملے پر حکومت کا سپریم کورٹ سے آئین کی تشریح مانگنا درست فیصلہ تھا۔ معزز ججز نے نشاندہی کی ہے کہ الیکشن کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے۔

حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ "ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ آئین، ووٹ چوروں کی چالبازیوں، بدنیتی پہ مبنی ریفرنسز اور سازشی آرڈیننسز سے بہت بالاتر ہے۔" انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ "اب کھمبے نوچتی کھسیانی بلیاں ٹیکنالوجی کا واویلا کر رہی ہیں۔ ووٹ کی طاقت سے ڈرتے کیوں ہو؟"

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ لڑکھڑاتی حکومت کو سینیٹ انتخابات سے قبل بڑی شکست ہوئی ہے۔ حکومت انتخابات سے بھاگنا چاہتی تھی مگر اسے راہ فرار نہیں ملی۔  انہوں نے کہا کہ حکومتی ترجمانی انتہائی ڈھٹائی سے سپریم کورٹ کی رائے کو اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے ذریعے جو سوال بھیجا اس کا جواب تو نفی میں ملا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے دی جانے والی رائے پر سپریم کورٹ کے سینئر وکیل جہانگیر جدون ایڈووکیٹ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب اعلیٰ عدالت نے سینیٹ انتخابات آئین اور قانون کے مطابق کرانےکا کہہ دیا تو پھر آرٹیکل 226 کے تحت انتخابات سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہی ہوں گے۔ حکومت اس بارے میں اپنی تشریح کر رہی ہے لیکن درحقیقت صدارتی ریفرنس خارج کر دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ کہنا ہے کہ بیلٹ پیپر کی سکریسی حتمی نہیں۔ اس سوال پر جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص نابینا ہے تو ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے اس کے بیلٹ پیپر کی سکریسی حتمی نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ کسی معذوری یا بیماری کی وجہ سے بھی اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی مدد سے ووٹ کاسٹ کرے تو اس کی سکریسی حتمی نہیں ہو گی۔ سپریم کورٹ نے اسی پیرائے میں کہا ہے لیکن حکومت اس تشریح کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید کورونا وائرس کی وجہ سے قرنطینہ میں ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی رائے پر اپنا ردعمل میڈیا کو بھجوایا ہے۔  اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ "اللہ کی مہربانی ہے جو چاہتے تھے وہ مل گیا ہے۔" سپریم کورٹ نے قابلِ شناخت سینیٹ کے بیلٹ کا کہہ دیا ہے، اب یہ الیکشن کمیشن پر منحصر ہے کہ وہ بیلٹ پیپر پر بار کوڈ لگائے یا سیریل نمبر۔ اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی یہ رائے بہت اہمیت کی حامل ہے کہ بیلٹ پیپر کی سیکریسی حتمی نہیں ہے۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اکرام چوہدری نے کہتے ہیں آئین اور قانون کا مطلب آئین کے تحت انتخابات ہیں اور آئین میں لکھا ہے کہ سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے انتخاب ہوگا لہذا اس میں کوئی دوسری رائے نہیں۔ سپریم کورٹ بار کے صدر لطیف آفریدی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو اس ریفرنس کو پہلے دن ہی خارج کر دینا چاہیے تھا۔ آئین میں لکھا ہے کہ وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ کے علاوہ تمام انتخابات سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہوں گے۔

لطیف آفریدی کہتے ہیں آئین کے مطابق کوئی بھی ووٹ جس کے ذریعے اس کی شناخت ہو سکے وہ ووٹ ہی نہیں ہے۔ آرٹیکل 226 ایک اخلاقی مسئلہ ہے، لیڈر کو اپنے ایم این ایز پر اعتبار نہیں ہے اور ایم این ایز کو اپنے لیڈر پر اعتماد نہیں۔

صدر مملکت عارف علوی نے سپریم کورٹ سے رائے لینے کے لیے صدارتی ریفرنس 23 دسمبر 2020 کو سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار جنوری کو اس کی پہلی سماعت کی تھی۔ بیس سماعتوں کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنی رائے محفوظ کی تھی۔