ہم او ر ہمارے ٹوٹتے رشتے
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 01 / مارچ / 2021
- 13260
آج بطیحا گھولنے بیٹھا ہوں تو لگا کہ میرے پاس اب کہنے کو کچھ رہا ہی نہیں۔ شاید میں یہ تک بھول گیا ہوں کہ میں کون ہوں اور کہاں ہوں۔ پاکستان سے آنے والی دنگے فساد ، قتل و غارت گری، لوٹ مار اور دن دیہاڑے ڈکیتی کی خبریں سن سن کر میرا ذہن اس قدر متاثر ہوا ہے کہ کبھی تو میرا جی چاہتا ہے کہ چیخیں مارتا ہوا کسی بیابان کو چل دو مگر کہاں ؟
مجھ ایسوں کی جائے پناہ شاید کوئی نہیں۔ یہی در بدری میرا مقدر ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ نصف صدی سے لکھنا میرا کل وقتی مشغلہ رہا ہے۔ قلم میری زندگی کا واحد ساتھی ہے ۔ اور پھر میں جانے کن کتابوں اور زمانوں کو یاد کرتا ہوں کہ میں نے کیا کیا پڑھا ہے:
حضرت لاؤزو علیہ رحمت کا ارشاد ہے کہ لفظ اُن کے آباؤ اجداد ہیں اور اُن کا کام ایک فرمانروا کا سا ہے ۔ اور چونکہ یہ بات کوئی نہیں جانتا، اِس لیے وہ بھی نہیں جانتے۔ اور ہم سب لکھنے والے بھی نہیں جانتے۔ لفظ کی حرمت کی گواہی اللہ تعالیٰ نے سورہ قلم میں دی ہے اور فرمایا ہے: ن، والقلم و ما یسطرون۔ نون کے حرفِ مقطع کے بعد قلم کی قسم کھائی گئی اور اور اہلِ قلم کی بھی جو لکھتے ہیں۔ موجودہ سیاسی تناظر میں نون کا حرف ایک سیاسی جماعت سے منسوب ہے جو دن رات دوسری سیاسی جماعتوں کے یاوہ گوؤں کے دوش بدوش حرف او ر لفظ کی بے حُرمتی کا ارتکاب کرتی ہے۔ قصیدہ خوانوں اور ہجو گویوں کا ایک ہجوم ہے جو دن رات لفظ کی شان میں گستاخی کرتا ہے او یہ لوگ ر ایک دوسرے پر لفظوں سے سنگ زنی کرتے ہیں۔
سیاست اور اقتدار میں لفظ کی بے حُرمتی کوئی نئی بات نہیں۔ لفظ کی طاقت سے واقف ہونے کی بنا پر قلم اور تلورار کو ایک ہی منصب پر رکھا جاتا ہے۔ سیاست میں لفظ کا کاروبار کرنے والوں نے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے ہاتھوں بڑے فریب کھائے ہیں۔ شاہ نامہ فردوسی کا واقعہ کس کو یاد نہیں ہوگا کہ محمود غزنوی نے اُسے شاہ نامہ کے ہر شعر کے عوض سونے کا ایک سکّہ دینے کا وعدہ کیا لیکن جب قیمت چکانے کا وقت آیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گیا۔ جس پر فردوسی نے اُس کی ہجو کہی جس کا ایک شعر تھا:
اگر مادرِ شاہ بانو بُدے
مرا سیم و زر تابزانو بُدے
ترجہ: اگر بادشاہ کسی شریف عورت کا بیٹا ہوتا تو وہ مجھے گھٹنوں تک سونے اور چاندی سے نہال کردیتا۔
یہ بات جب محمود کے کان تک پہنچی تو اپنی رُسوائی کے خوف سے اُس نے فردوسی کے گھر سونے کی مہریں بھجوائیں لیکن قدرت خُدا کی دیکھیے کہ ایک طرف سے فردوسی کا معاضہ لے کے بادشاہ کے پیادے جا رہے تھے اور مُخالف سمت سے فردوسی کا جنازہ آ ریا تھا۔ کس قدر رقت آمیز منظر رہا ہوگا کہ ظالم محمود نے اپنے عہد سے انحراف کر کے فردوسی کو جب طے شدہ معاوضہ دینے سے انکار کیا تو اُس بے چارے کی جان پر بن آئی اور وہ زمین کے خُدا کی عہد شکنی کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دل چسپ قصہ اور بھی ہے کہ ایک شاعر نے بادشاہ کا قصیدہ لکھا اور اُسے پیش کرنے کے لیے دربا میں حاضر ہو کر قصیدہ پیش کیا۔ قصیدہ پڑھا جا رہا تھا اور دربار سے داد و تحسین کے ڈونگرے برس رہے تھے۔ قصیدہ سُن کر بادشاہ بھی بہت خوش ہو ا اور شاعر سے ہا کہ وہ کل دربار میں آ کر اپنا انعام وصول کر لے جو ایک بڑی خطیر رقم ہے اور اُس کی قصیدہ گوئی کا شایانِ شان اعزازیہ ہے۔ شاعر خوش خوش گھر چلا گیا۔
بے چارے کو انعام کی خوشی میں شاید رات کو نیند بھی نہ آئی ہو گی۔ اگلے روز نیا لباس زیبِ تن کر کے دربار میں حاضر ہوا اور اپنا انعام طلب کیا۔ بادشاہ نے کہا کیسا انعام؟ وہ کل تم نے مجھے لفظوں سے خُوش کیا اور میں نے انعام کا اعلان کرکے تمہیں خوش کردیا۔ حساب برابر ہو گیا۔ اور بے چارہ شاعر؟ شاید اُس کا حشر بھی وہی ہوا ہوگا جو فردوسی کا ہوا لیکن حساب تو برابر ہوگیا۔ اُس وقت نیب کا ادارہ تو تھا نہیں اور نہ ہی کوئی جسٹس جاوید اقبال جیسا جج تھا جو غریب شاعر کی داد رسی کرتا اور نہ ہی کوئی جسٹس گلزار جیسا جج تھا کہ وہ شاعر کی حق تلفی پر سوموٹو نوٹس لیتا۔ چنانچہ بے چارہ شاعر قصیدہ گوئی کی موت مرگیا ۔
ایسا ہر عہد میں ہوتا رہا ہے کہ لفظ کا یوسف سرِ بازار بکتا رہا ہے اور اقتدار اور سیاست کی زُلیخا اُسے خریدتی رہی ہے۔ لفظ فروشی کی روایت جتنی قدیم ہے اُتنی ہی نئی بھی ہے۔ لفظ اب بھی بکتا ہے اور بڑی شان سے بکتا ہے۔ اس کے خریداروں میں سیاسی جماعتیں، سیاسی لیڈر، سیاسی، عسکری اور مذہبی ادارے اور میڈیا مالکان شامل ہیں،لیکن ایک فرق کے ساتھ کہ اب لفظ کی مارکیٹ گلوبل ہے اور انسانی رشتے بھی گلوبل ہیں۔ کمرشل ازم کے اس دور میں ہر شے کی قیمت ہے۔ اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس عہد میں رشتہ داری اور دوستی بھی خریدنی پڑتی ہے۔ چنانچہ جس کے پلے پھوٹی کوڑی نہ ہو وہ زندہ بدست مردہ ہے۔ اُس کی حیثیت گلیوں کے کوڑے سے زیادہ نہیں۔
رشتہ داری کا بزنس بہت سے تارکینِ وطن کے لیے گھاٹے کا سودا ثابت ہورہا ہے۔ گذشتہ روز اوسلو کے ایک نواحی شہر میں میں ایک پاکستانی الاصل شخص کی وفات کے سوگ میں لوگ جمع تھے ، جہاں ایک شخص اپنا دُکھڑا رو کر کچھ دوستوں کو سنا رہا تھا کہ اُس نے ناروے سے رقم بھجوا کر پاکستان میں زمین خریدی اور اپنے بھائیوں کو رقم بھجواتا رہا کہ وہ اُس پر ایک شاندار مکان تعمیر کریں۔ مکان بن گیا تو بھائیوں نے اُس میں رہائش اختیار کر لی ۔ مکان بن چکا تھا۔ مالک مکان ناروے میں بیٹھا اس مکان کے خواب دیکھ رہا تھا کہ اب وہ پاکستان جائے گا تو اپنے خوبصورت مکان میں قیام کرے گا لیکن پاکستان جا کر پتہ چلا کہ اس کے بھائیوں نے اُس کے مکان میں رہائش اختیار کر رکھی ہے ۔ وہ دو ایک دن مہمان بنا رہا لیکن اس نے تیسرے دن بھائیوں سے کہا کہ میں اب آ گیا ہوں، تم اپنے اپنے گھروں کو جاؤ تو بھائی بولے کہ یہ گھر ہمارا ہے ہم نے بنوایا ہے۔ تم جہاں سے آئے ہو وہیں واپس چلے جاؤ۔ جاؤ شاباش، ناروے تمہارا انتظار کر رہاہے۔ اور وہ اپنے بھائیوں کا خون کا رشتہ ایک مکان کے عوض چھن جانے پر روتا پیٹتا واپس آ گیا۔
یہ صرف ایک کہانی ہے۔ مشتے از خروارے۔ ورنہ اس قسم کی بہت سی کہانیاں ہیں جو ہمارے رشتوں ناتوں کے فروختنی ہونے کا کچا چٹھا بیان کرتی ہیں۔ روپے پیسے نے ہم سے ہماری محبتیں چھین لی ہیں۔ دوستیاں موقوف کردی ہیں۔ اب صرف مفادات کا سکہ چلتا ہے ۔ جہاں مفاد ہو وہاں دوستی بھی ہے اور رشتہ داری بھی ورنہ مفادات کی عدم موجودگی میں آدمی ٹھن ٹھن گوپا ل ہے۔ جہاں مفاد نہ ہو وہاں ہر آدمی ہر دوسرے آدمی کا دشمن ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے لا تعلق ہو گئے ہیں اور کوئی دوطرفہ رشتہ رہ گیا ہے تو وہ صرف اور صرف مفاد ہے۔ اور انسان کا انسانی رشتہ تو اب خیالی اور تصوراتی معاملہ ہے۔ عالی ظرفی کی باتوں کی جگہ مال و دولت کی باتیں ہوتی ہیں۔ جس نے بھی جس جائز یا ناجائز طریقے سے مال کمایا ہے اب وہ اس کے حوالے سے اپنی پہچان کا خواہشمند ہے کہ اُسے اُس کی دولت کے حوالے سے قابلِ احترام سمجھا جائے اور اُسے وہی عزت و احترام دیا جائے جو دولت مندوں کے شایانِ شان ہو۔ اپنے سے کم تر حیثیت کے شخص سے دوستی یا رشتہ داری کی کوئی روایت باقی نہیں رہی۔ اور سیاست میں تو بالکل بھی نہیں۔
سینیٹ اور اسمبلیوں کی سیٹوں کی قیمت ہوتی ہے جسے پیشگی ادا کرنا ہوتا ہے اور پھر سیاسی اثر و رسوخ کے بل پر وہ رقم کئی گنا کر کے سرکاری وسائل سے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ ہے ہمارا معاشرتی نظام جسے ہم جمہوری، اسلامی اور اعلیٰ انسانی قدروں کا امین کہتے ہیں۔