سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین کا منحرف ارکان پر حملہ، شدید ہنگامہ آرائی

  • منگل 02 / مارچ / 2021
  • 4810

سینیٹ انتخابات سے قبل سندھ اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے اپنی پارٹی کے اُمیدواروں کے حق میں ووٹ نہ دینے کا اعلان کرنے والے ساتھیوں پر مبینہ طور پر حملہ کردیا۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل تحریک انصاف کے منحرف اراکین کریم بخش گبول، شہریار شر اور اسلم ابڑو نے اسمبلی کے رجسٹر میں حاضری لگائی تھی جہاں حکومتی اراکین نے تینوں اراکین صوبائی اسمبلی کا استقبال کیا۔ تاہم پی ٹی آئی کے دیگر اراکین منحرف ساتھیوں کے ایوان میں آتے ہی ان سے الجھ پڑے اور مبینہ طور پر ان پر حملہ کردیا اور دونوں گروپوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔

بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس کل تک کے لیے ملتوی کردیا۔ اجلاس ملتوی ہونے کے بعد رکن صوبائی اسمبلی حلیم عادل شیخ کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے دیگر اراکین میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافیوں سے بھی الجھ پڑے جس کی وجہ سے نیوز کانفرنس کو ختم کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی کے باغی اراکین نے صوبائی اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی نے اغوا نہیں کیا، پاکستان کا آئین ہمیں حق دیتا ہے کہ اپنی مرضی سے جسے چاہے ووٹ دیں۔

شہریار کا کہنا تھا کہ ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں کچھ دو، سندھ کے عوام مطالبہ کر رہے ہیں، انہیں اب تک کچھ نہیں ملا ۔ سینیٹ انتخابات میں رائے شماری خفیہ ہونی تھی۔ ہم چاہتے تو چھپ کر بھی دے سکتے تھے تاہم ہمارے ضمیر نے اس کی اجازت نہیں دی۔

اس موقع پر اسلم ابڑو نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی اراکین کریم بخش گبول کو اغوا کر کے لے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی میں ہیں اور رہیں گے تاہم اپنا ووٹ ضمیر کے مطابق دیں گے۔  میں ڈھائی سال تک گورنر کے سامنے کہتا رہا کہ سندھ میں ترقیاتی کام کریں، ہمارا کوئی وفاقی وزیر دیہی سندھ میں نہیں آیا۔

اسلم ابڑو کا کہنا تھا کہ  میں رات تک گھومتا رہا، مجھ پر اغوا کا ڈراما رچایا گیا۔ یہ ڈراما بند کریں۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ پی ٹی آئی کے اُمیدوروں کو ووٹ نہیں دوں گا۔

پیپلز پارٹی کی رہنما  شہلا رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی مذمت کی۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اجلاس کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران دو اراکین کو میں نے خود روکنے کی کوشش کی تھی تاہم ایک نے مجھے ہی دھکا دے دیا۔  پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے  کہا کہ تینوں پی ٹی آئی اراکین اپنی مرضی سے آئے تھے اور انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت سے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اغوا کرنے اور پیسوں کی بات کے الزامات کا کوئی جواز نہیں۔ تینوں رکن اسمبلی ایک ہی گاڑی میں آئے تھے تاہم کریم بخش گبول کو پی ٹی آئی اراکین اپنے ساتھ لے جانے لگے تو ہمارے اراکین سمجھے کہ زبردستی کی جارہی ہے۔ جب کریم بخش گبول نے کہا کہ میں خود تحریک انصاف والوں کے ساتھ جانا چاہتا ہوں، تو ہمارے اراکین پیچھے ہٹ گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، سب کو حق ہے کہ جسے چاہے ووٹ دے۔ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے بھی کھل کر اپنی پارٹی سے ناراضی کا اظہار کیا ہے، ہر جگہ ان کے اپنے لوگ ان کی پالیسیز سے تنگ ہیں۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے صحافیوں پر بھتہ خوری، کرپشن اور لفافے لینے کا الزام بھی عائد کیا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ اور پی ٹی آئی کے دیگر ارکان سندھ اسمبلی کی جانب سے صحافیوں پر ایک سیاسی جماعت سے وابستگی کے الزامات لگانے اور انہیں غیرمناسب الفاظ سے مخاطب کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

کے یو جے نے مطالبہ کیا کہ حلیم عادل شیخ سمیت پی ٹی آئی کی قیادت صحافیوں سے فوری طور پر معافی مانگے۔ کے یو جے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ سے سوالات کیے تو انہوں نے جواب دینے کی بجائے الٹا صحافیوں پر ہی الزامات عائد کرنا شروع کردیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوال کرنا صحافی کا حق ہے لیکن حلیم عادل شیخ سمیت پی ٹی آئی کے ارکان سندھ اسمبلی کا رویہ انتہائی حد تک نازیبا تھا۔