ایف اے ٹی ایف اور پاکستان کا مقدمہ
- تحریر سلمان عابد
- منگل 02 / مارچ / 2021
- 4860
پاکستان دہشت گردی کی جنگ لڑرہا ہے۔یہ کوئی معمولی جنگ نہیں بلکہ ایک مشکل اور طویل جنگ ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی نے ہماری معاشرت و سماج کو بری طح متاثر کیا ہے اور ہمیں شدید تنقید کا سامنا رہاہے۔
پاکستان کی ریاست، حکومت، سیاسی قیادت سمیت فوج یا دیگر سیکورٹی اداروں کو داد دینی ہوگی کہ جن کی کوششوں سے آج ہم کافی حد تک دہشت گردی سے خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ یہ جنگ محض فوج نے ہی نہیں لڑی بلکہ ہر پاکستانی کسی نہ کسی شکل میں اس جنگ میں بطور سپاہی لڑتا رہا ہے۔انتظامی اور سیاسی و سماجی سطح پر بیانیہ کی یہ جنگ بدستور ہم لڑرہے ہیں۔اس جنگ سے نمٹنے کے لیے ایک بڑی کوشش’ایف اے ٹی ایف‘ کی سطح پر گرے لسٹ سے نکلنے کی بھی ہے۔ 22-25فروری کو پیرس میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو مزید تین شرائط پوری کرنے کے لیے جون 2021تک مہلت دی گئی ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے 27نکات میں سے 24نکات پر پاکستان کی مجموعی کارکردگی کو خوب سراہا ہے۔
پاکستان کو جوتجاویز دی گئی تھیں اس پر اس نے بھرپور پیش رفت کی گئی ہے۔جن تین نکات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں ان پر بھی جز وی طور پر پاکستان کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے اور مزید بہتری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔جو تین نکات جن پر ہماری توجہ دلائی گئی ہے وہ درج ذیل ہیں اول یہ ظاہر کرنا کہ ٹیرر فاننسنگ کی تفتیش اور قانونی کاروائی ان افراد یا اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو نامزد افراد یا اداروں کی ہدایت پر کام کرتے ہیں۔دوئم یہ ظاہر کریں کہ ٹیریر فانسنگ کے خلاف قانونی کاروائی کے نتیجے میں موثر او رمتناسب پابندیاں عائد کی گئی ہیں، سوئم تمام 1267یا1373نامزد دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ مالی پابندیوں کے موثر نفاذکا مظاہرہ کرنا شامل ہے۔
ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے بتایا کہ پاکستان مزید چار ماہ نگرانی میں رہے گا، البتہ وہ پاکستان کی بھرپور سنجیدہ کوششوں کی ہر سطح پر تعریف کرتے ہیں۔ جن تین نکات پر ہمارے تحفظات ہیں اس پر اگر واقعی پاکستانی مزید موثر اقدامات اٹھاتا ہے تو جون کے اجلاس میں پاکستان گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے۔وفاقی وزیر حماد اظہر کے بقول ہم نے 90فیصد معاملات کو عالمی معیارات کے مطابق ڈھال لیا ہے اور جو دس فیصد کام باقی ہے اس پر بھی سنجیدگی سے کوششیں جاری ہیں۔پاکستان نے مالیاتی شعبہ اور بارڈر کنٹرول سے متعلق ایکشن پلان کے دس نکات پر عمل کرلیا ہے۔جبکہ دہشت گردوں تک مالیاتی رسائی سے متعلق تحقیقات اور پراسیکیوشن سے متعلق آٹھ میں سے چھ نکات پر عملدرآمد کرلیا ہے۔اسی طرح ٹارگٹڈ مالی پابندیوں کے نو نکات میں سے آٹھ پر مکمل عمل درآمد بھی کرلیا گیا ہے۔بالخصوص اسی اجلاس میں دہشت گردوں کی مالیاتی رسائی کی روک تھام کے لیے پاکستان کی اعلی قیادت کی تعریف کی ہے۔
جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہمیں کچھ عرصہ اور گرے لسٹ میں رہنا ہوگا۔لیکن ایف ا ے ٹی ایف میں ہماری کارکردگی کو جس انداز سے سراہا گیا ہے وہ قابل تعریف ہے اور حوصلہ بھی دیتی ہے کہ پاکستان ان اہم معاملات پر درست سمت میں جارہا ہے۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے وہ نہ صرف درست ہے بلکہ ہمیں یقینی طور پر مستقبل میں گرے لسٹ سے باہر نکلنے میں بھی مدد فراہم کرے گی۔ مسئلہ محض گرے لسٹ سے نکلنا یا عالمی دباؤ کا نہیں بلکہ یہ تمام اقدامات کسی نہ کسی سطح پر ہماری ریاست کے مفاد میں ہیں۔ کیونکہ جو کچھ بھی غلط ہورہا تھا یا اب بھی ہورہا ہے اس کا خاتمہ دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے اور یہ ہماری قومی ترجیحات کا اہم حصہ بھی ہے۔
ہمیں وفاقی وزیر حماد اظہر سمیت، وزرات خارجہ، نیکٹا، سمیت سیاسی اور عسکری قیادت کو بھی داد دینی ہوگی کہ انہوں نے ان تمام معاملات سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔اصل مسئلہ جہاں پالیسی یا قانون سازی کرنے کا ہے وہیں ان نکات پر عملدرآمد کے تناظر میں شفافیت پیدا کرنے کے لیے سخت اورکڑی نگرانی کا نظام، ادارہ جاتی سطح پر موثراصلاحات اورمضبوط بنانا، جوابدہی اور احتساب کا موثر نظام، بغیرکسی سیاسی،مذہبی تفریق کے دہشت گردوں یا ان کے معاونت کاروں کے خلاف یکساں پالیسی، پولیس اور دیگر اداروں کی جدیدبنیادوں پر تربیت سمیت ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ درکار ہے ۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں و دیگر اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور بہتر تعلقات، جامع پالیسی اور تعاون کے امکانات کو آ گے بڑھانا ہے۔ ایسے میں بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے نظام کو بھی داخلی سیاست میں زیادہ موثر اور منظم کرنا ہوگا۔تاکہ محض انتظامی بنیادوں پرہی نہیں بلکہ علمی و فکری بنیادوں پر بھی ہم اپنا کردار ادا کرسکیں۔
ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی سنجیدہ کوششوں او رکارکردگی کی اہمیت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ہمیں بھارت کی جانب سے اپنے کام پر سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔بھارت نے پوری کوشش کی ہے کہ پاکستان کو اول تو گرے لسٹ سے کسی بھی صورت نکلنے نہ دیا جائے بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر ہمیں بلیک لسٹ میں شامل کرنا بھی اس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں بھارت کی جانب سے مسلسل مزاحمت کا سامنا ہے۔فرانس نے بھی اس اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نکالنے کی مخالف کی او راس کی وجہ بھارت اور فرانس کے درمیان حال ہی میں ہونے والے دفاعی معاہدے ہیں اور فرانس نے مخالفت کرکے بھارت ہی ایجنڈے کو تقویت دی ہے۔یا د رہے کہ پاکستان کو 2018میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا اور ایف اے ٹی ایف کی چالیس شرائط میں سے ہم گیارہ پر پورا اترتے تھے اور ہمیں مزید27شرائط پر عمل کرنے کا پابند کیا گیاتھا۔
ایسے میں ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کی کارکردگی کو سراہنا یا تعریف بھارت کے لیے مایوسی کا سبب بنتی ہے۔اس لیے پاکستان کو جہاں بھارت مخالف مہم کا مقابلہ کرنا ہے وہیں مزید سنجیدہ کوششوں سے مزید تین اقدامات پر خود کو موثراور بہتر پیش کرکے دنیا کو باور کرواناہے کہ ہم درست سمت میں چل پڑے ہیں اور یہ کوئی مصنوعی کوشش نہیں بلکہ اس ایجنڈے کو ٹھوس بنیاد پر اختیار کیا گیا ہے۔اگرچہ ہمارے گرے لسٹ میں بدستور رہنے کے پیچھے عالمی طاقت ورممالک کی پالیسی کا بھی دخل ہے جو ہر صورت میں ہم پر اپنا دباؤ بڑھا کر ہم پر بالادستی چاہتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کافی مشکل، سٹرٹیجک، جامع اور چیلنجنگ پلان دیا گیا ہے۔اس لیے ہمیں بہت سے امور کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے کی بجائے اسے عالمی ایجنڈے سے جوڑ کر بھی دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ ہم گلوبل دنیا کا حصہ ہیں، اس لیے ہمیں ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اپنی کوششوں پر سیاسی، سفارتی محاذ پر بھی جنگ لڑنی ہے تاکہ ہم خود کو بطور ریاست کامیاب ہوں۔