افغانستان میں تین خواتین صحافیوں کا قتل، میڈیا ورکرز میں خوف کی لہر

  • بدھ 03 / مارچ / 2021
  • 4240

افغانستان میں منگل کو تین خواتین صحافیوں کے قتل کے بعد صحافی برادری خصوصا صحافتی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کارکنان عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

صحافتی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے واقعات کے ذمے داروں کا تعین کر کے اُنہیں قرار واقعی سزا دے۔ افغانستان میں حالیہ چند ماہ کے دوران صحافیوں کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہؤا ہے۔ طالبان ان واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ماضی میں اس نوعیت کے واقعات کی زمہ داری دولت اسلامیہ (داعش) بھی قبول کرتی رہی ہے۔

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں نامعلوم مسلح ملزمان نے تین خواتین صحافیوں کو منگل کے روز فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ منگل کی شام اس وقت پیش آیا جب تینوں خواتین دفتر سے واپس گھر جا رہی تھیں۔ پولیس کے مطابق تینوں خواتین کا تعلق انعکاس ٹیلی وژن سے تھا۔ دو خواتین موقع پر جب کہ تیسری صحافی نے اسپتال میں دم توڑا۔

اس واقعے کی فوری طور پر ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔ البتہ طالبان نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔  یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں اسی ادارے سے وابستہ ایک سینئر صحافی ملالئی میوند کو ان کے ڈرائیور سمیت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ملالئی کے قتل کی ذمہ داری دہشت گرد تنطیم داعش نے قبول کی تھی۔

کابل میں مقیم ایک خاتون افغان صحافی گزشتہ چھ برس سے داخلی امور سمیت افغانستان میں خواتین کے مسائل پر رپورٹنگ کررہی ہیں۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث وہ اپنا اصل نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کے حالات ایک بار پھر نوے کی دہائی کی جانب جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

نائن الیون کے بعد افغانستان میں ایک نئی حکومت کا قیام عمل میں آیا جس کے بعد خواتین کی تعلیم، آزادی اور کام کرنے کے حوالے سے کافی پیش رفت ہوئی۔ اب ایسا نہیں ہو سکتا کہ خواتین اپنا وطن چھوڑ کر کہیں اور چلی جائیں یا گھروں تک محدود ہو جائیں۔ وہ کہتی ہیں کہ افغانستان کی خواتین میں اب شعور بیدار ہو گیا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ گھروں سے باہر نکلیں اور اپنے حق کا تقاضا کریں۔

'انعکاس' ٹیلی وژن کے براڈ کاسٹ منیجر شکراللہ پاسون نے بتایا کہ قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والی تینوں صحافیوں نے بہت کم عرصے میں اپنی محنت اور لگن سے مقام بنایا تھا۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں مختلف ممالک کے ڈرامے اور فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ افغان عوام کی سہولت کے لیے یہ تینوں خواتین ان فلموں اور ڈراموں پر اپنی آواز میں پشتو زبان میں کرتی تھیں۔

وحیدہ فیضی افغان جرنلسٹس سیفٹی کمیٹی (اے جے ایس سی) کے ساتھ بطور سینئر معاون فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ یہ تنظیم افغانستان میں میڈیا کارکنوں کے لیے ایک محفوظ ماحول میں کام کرنے کے حوالے سے کام کرتی ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے وحیدہ فیضی نے بتایا کہ افغانستان کے سیکیورٹی کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ خواتین اس ملک کی سب سے طاقت ور آواز ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ خواتین کو سیکیورٹی فراہم کرے۔