بھارتی چیف جسٹس سے ریپ ملزم کو رعایت کی پیشکش کے بعد استعفیٰ کا مطالبہ

  • بدھ 03 / مارچ / 2021
  • 5780

بھارتی چیف جسٹس پر ریپ کے ملزم کو سزا سے بچنے کے لیے متاثرہ طالبہ سے شادی کرنے کی تجویز دینے کی وجہ سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔ ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 5 ہزار سے زائد افراد نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے جس پر چیف جسٹس اروند بوبدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔  انہوں نے سماعت کے دوران ملزم سے کہا تھا کہ 'اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں، اگر نہیں تو آپ اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور جیل چلے جائیں گے'۔

مہم چلانے والی خاتون وانی سبرامنیم نے بتایا کہ چیف جسٹس اروند بوبدے کی رائے پر ہنگامہ کھڑا ہوا ہے۔ خواتین کے حقوق کی کارکنان کی جانب سے کھلا خط لکھا گیا ہے جس میں ان سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس خط پر اب تک 5 ہزار 200 سے زائد دستخط ہوچکے ہیں۔

خط کے مطابق اس شخص پر الزام ہے کہ اس نے لڑکی کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے اور اس کے بھائی کو قتل کرنے سے قبل اسے ڈنڈے مارے۔ اسے باندھ کر رکھا اور بار بار زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی سے اس کا ریپ کرنے والے شخص کی شادی کی تجویز دے کر چیف جسٹس آف انڈیا نے متاثرہ لڑکی کو ملزم کے ہاتھوں ساری زندگی ریپ کروانے کی ’پیشکش‘ کی ہے۔

واضح رہے کہ 2012 میں دہلی کی ایک بس میں ایک طالب علم کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور اس کے قتل کے بعد سے جنسی زیادتی پر بھارت کا غیر معمولی ریکارڈ بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہا ہے۔  پولیس اور عدالتوں کے ہاتھوں متاثرین کا استحصال معمول ہے۔ سمجھوتہ کے نام پر مجرموں کو متاثرین سے شادی کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

احتجاجی خط میں پیر کو ہونے والی ایک اور سماعت کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی گئی ہے جس کے دوران اروند بوندے نے مبینہ طور پر سوال کیا تھا کہ کیا شادی شدہ جوڑے کے درمیان جنسی تعلقات کو بھی عصمت دری سمجھا جاسکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ شوہر ظالم ہوسکتا ہے تاہم کیا آپ قانونی طور پر شادی شدہ مرد اور بیوی کے درمیان روابط کو ریپ قرار دے سکتے ہیں؟

انسانی حقوق کی مہم چلانے والوں کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ رائے نہ صرف شوہر کے ذریعے کسی بھی طرح کے جنسی، جسمانی اور ذہنی تشدد کو جائز قرار دیتی ہے بلکہ یہ تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین کو مایوس کرے گی۔ واضح رہے کہ بھارت میں ازدواجی تعلقات میں زبردستی کرنا جرم نہیں ہے۔ چیف جسٹس اروند بوبدے نے ابھی تک اس تنقید کا جواب نہیں دیا۔