یوسف رضا گیلانی سینیٹ کے رکن منتخب ہوگئے، حکومت کو شکست کا سامنا

  • بدھ 03 / مارچ / 2021
  • 4410

سینیٹ انتخابات سابق وزیراعظم اوراپوزیشن کے مشترکہ امیدواریوسف رضاگیلانی نے وزیرخزانہ اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار حفیظ شیخ کو شکست دے دی ہے۔ یوسف رضاگیلانی نے 169 ووٹ حاصل کیے جبکہ حکومتی امیدوار کو 164 ووٹ ملے ۔ سات ووٹ مسترد ہوئے ۔

سینیٹ انتخابات میں سندھ اسمبلی سے پیپلزپارٹی کی امیدوار پلوشہ خان بھی کامیاب ہوگئیں۔ سندھ اسمبلی سے سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخابات میں سندھ اسمبلی کے 168 میں سے167 اراکین نےحق رائے دہی استعمال کیا جبکہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن سید عبدالرشید نے پارٹی پالیسی کے تحت ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق سندھ سے پیپلز پارٹی کی شیری رحمان، جام مہتاب، فاروق ایچ نائیک اور سلیم مانڈوی والا بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔ حریک لبیک کا یشاء اللہ نے 3 ووٹ حاصل کیے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نگرانی میں ووٹنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوا اور بروقت پولنگ کے آغاز کو یقینی بنانے کے لیے ای سی پی کا عملہ صبح سویرے ہی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گیا۔ پولنگ کا عمل بغیر کسی وقفے کے 5 بجے تک جاری رہا۔  وزیراعظم عمران خان بھی ایوانِ زیریں میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے پہنچے اور ووٹ ڈالا۔ اس موقع پر حکومتی اراکین نے نعرے بھی لگائے۔

وزیراعظم کے علاوہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ان کے صاحبزادے اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔

الیکشن کے دوران کسی امیدوار یا ووٹر کو پولنگ بوتھ کے اندر موبائل فون لے جانے پر پابندی عائد تھی، سیکیورٹی عملے کا کہنا تھا کہ پولنگ بوتھ میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے موبائل فون کو پولنگ بوتھ میں لے جانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

پارلیمنٹ کا ایوان بالا اب تک 104 قانون سازوں کا ایوان تھا اور ہر رکن استعفیٰ، نااہلی یا انتہائی غیرمعمولی حالات کو چھوڑ کر 6 سال کی مدت پوری کرتا ہے۔ یہ تمام اراکین ایک ہی وقت میں منتخب نہیں ہوتے بلکہ ان میں سے نصف ایک مرتبہ جبکہ باقی کے نصف 3 سال بعد ہوتے ہیں۔

2021 میں 52 سینیٹرز (جو 2015 میں منتخب ہوئے تھے) وہ ریٹائر ہورہے ہیں جبکہ باقی 52 جو 2018 میں منتخب ہوئے تھے وہ 2024 میں ریٹائر ہوں گے۔ تاہم اس مرتبہ سابق وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد انتخابات صرف 48 نشتوں پر ہورہے ہیں۔