سینیٹ انتخابات اور سنیٹر پرویز رشید سے ’حسن سلوک‘

سینیٹ انتخابات ضوابط کے مطابق ہر تین سال بعد منعقد ہوتے ہیں مگر اب کے ایسا رولا پڑا ہے کہ نہ جانے کونسا بھونچال آنے و الا ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات یہاں سرےسے موجود ہی نہیں جس کے جتنے ووٹ ہیں کم و بیش تھوڑا اوپر نیچے حصہ بقدر جثہ ہی ملنےہیں۔

پچھلے سینیٹ انتخابات میں کچھ ایسی ’’انہونی ‘‘ ہوئی جس کے پیش نظر ہمارے لوگوں نے سمجھا کہ شاید وہی سب کچھ اب کے بھی دہرایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے یہ بلنڈر کیا کہ واضح آئینی شق کی موجودگی کے باوجود اپنا غیر آئینی آرڈیننس لاگو کرنے کی منفی سوچ کے زیر اثر صدارتی ریفرنس تیار کرتے ہوئے خواہ مخواہ سپریم جوڈیشری کو آزمائش میں ڈال دیا۔ کسے معلوم نہیں کہ تشریح وہاں کی جاتی ہے جہاں کوئی سقم یا ابہام ہو ۔

عدالتی فیصلوں کا تنقیدی جائیزہ ہمیشہ لیا جاتا ہے۔ کوئی آئینی شق اس سے نہیں روکتی۔ ہماری سپریم جوڈیشری کا جو فیصلہ آیا ہے اسے عدالتی رائے کہیں یا کوئی اور نام دیں عملی انطباق کے حوالے سے ،کان کو دائیں سے پکڑیں یا بائیں سے ، نتائج ایک جیسے ہی ہیں۔ جب سیکریسی قطعی واضح آئینی تقاضا ہے تو پھر اس پر حجت بازی کے مقاصد ناقابل فہم ہیں۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیوں اور کیسے کیا جا سکتا ہے اور پھریہ دعویٰ کہ سیکریسی مطلق یا قطعی نہیں ہوتی، کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ پروسیڈنگ کے دوران بھی اس نوع کے ریماکس دینا کہ کیا سیکریسی کا یہ مطلب ہے کہ رازداری قیامت تک کے لئے ہے ؟ ایک غیر ضروری اور بلامقصد الجھاؤ ڈالنے والی باتیں ہیں۔

مسٹر جسٹس یحییٰ کے اختلافی نوٹ میں ایک فقرہ اس ساری کج بحثی پر حاوی ہے ’’صدر مملکت نے جس معاملے پر رائے طلب کی ہے وہ آئین کے آرٹیکل 186کے تحت قابل غور ہی نہیں ہے ‘‘۔ اور ریٹائرڈ جسٹس شائق عثمانی صاحب کا یہ استدلال اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ ووٹ قابل شناخت ہو تو الیکشن کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ دراصل ہمارے یہاں کرپشن سے نفرت کی سوچ کو اپنے مخصوص کے لئے یا اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے ہر دور میں جس طرح استعمال مقاصد کے لئے کیا گیا ہے اور کیا جاتا ہے یہ قابل نفرت ہی نہیں حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو خود اس پارسائی کے پروپیگنڈے کے اندر ایک بدترین کرپشن چھپی ہوتی ہے۔ جو شخص جھوٹ ، بے ایمانی یا کرپشن کے خلاف جتنا زیادہ پروپیگنڈا کرتا ہے، حقائق کی روشنی میں اس کا پوسٹمارٹم کیا جائے تو درحقیقت وہ شخص خود اتنا ہی بڑا کرپٹ ہوتا ہے۔

ملک میں آخر اور بھی بڑی چھوٹی بہت سی سیاسی پارٹیاں ہیں جو اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے دعوے نہیں کرتیں بالخصوص وہ پارٹی جس کی قیادت پر آپ نے گندے الزامات لگاتے ہوئے کیا کچھ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اپنے جن لوگوں کو سنیٹر بنانے کیلئے آپ کے بقول نوازا ہے ایک ایک پر بحث ہو سکتی ہے کہ وہ کتنی طویل مدت سے لیگ یا لیگی سوچ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان حوالوں سے ان کی خدمات ہیں جبکہ آپ کی نوازشات میں ذاتی تعلقات یا ذاتی مفادات کی بات نہ بھی کی جائے تو بھی یہ سوال بار بار میڈیا کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے کہ باتیں آپ غریب کارکنوں یا ان کی قربانیوں کی کرتے ہیں مگر معاملہ جب بھی شیرینی بانٹنے کا آتا ہے تو کروڑ پتی یا ارب پتی لوگ ہی کیوں آپ کے منظور نظر ہوتے ہیں ؟

سینیٹ انتخابات میں ایک طرف وہ شخص ہے جس کی اپنی پارٹی سے وابستگی کی طویل تاریخ ہے جو اپنے طویل تعلق کی بنیاد پر ہی اعلیٰ ترین ذمہ داری پر فائز رہ چکا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ساری خدمات تو آئی ایم ایف کیلئے رہی ہیں۔ سیاسی وابستگی کتنی ہے، یہ بھی سب کو معلوم ہے۔ لیکن ہمارے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جس نوع کے کرشمے کی وہ توقع کرنے لگتے ہیں وہ ’’مہربانوں‘‘ کی خصوصی محبت کے بغیر کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔ اگر بظاہر آپ کو تھوڑی سی غیر جانبداری دکھائی دی ہے محض اس برتے پر لوگ کیسے یہ سوچ سکتے ہیں کہ کوئی کرشمہ ہونے والا ہے۔ بوجوہ ہو بھی سکتا ہے۔ زرداری صاحب ہوشیار آدمی ہیں، کوئی کرشمہ دکھا بھی سکتے ہیں ۔

درویش کو کسی کی ہار جیت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور میڈیا سے منسلک کسی بھی شخص کو پوری کوشش کرنی چاہئے کہ وہ سچائی اور اصولوں کی بنیاد پر حمایت یا مخالفت کرتے ہوئے ایک نوع کا غیر جانبدارانہ رویہ اپنائے ۔ البتہ سنیٹر پرویز رشید صاحب کے ساتھ ان سینیٹ انتخابات میں جو رویہ اپنایا گیا ہے اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے ۔

جناب پرویز رشید کی پارٹی وابستگی سے لے کر آئین اور جمہوریت کی سربلندی کیلئے جدوجہد اور قربانیوں کی طویل داستان ہے ۔اس ملک میں جب جب آئین شکنی ہوئی اور غیر جمہوری ہتھکنڈے اپنائے گئے ہیں پرویز رشید صاحب آمریت کے بالمقابل پوری استقامت سے کھڑے ہوئے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں اس عظیم انسان پر ستم کے پہاڑ توڑے گئے مگر ان کے پائے استقلال میں جنبش نہ ہوئی۔ جمہوری جدوجہد اور اعلیٰ انسانی اقدارپر ایمان رکھنے و الوں کیلئے وہ رول ماڈل ہیں۔ ڈان لیکس سکینڈل کیا تھا ؟ اس کی تمام تر تفصیلات ہمارے میڈیا میں آ چکی ہیں مگر اس کا نشانہ ناجائز طور پر اس ذمہ دار شخصیت کو بنا دیا گیا ۔

ایک سنیٹر سے آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ سنیٹر بننے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ آپ پنجاب ہاؤس کے نادہندہ ہیں وہ بقایاجات اٹھائے پھر رہا ہے ۔دفاتر کے چکر کاٹتا ہے مگر کوئی وصو لی کے لئے تیار نہیں ہے۔ آخر یہ کھیل کیوں اور کس لئے کھیلا گیا ہے ؟ جب ادائیگی کرنے والا چیک تھامے تیار ہے تو پھر اعتراض ازخود ختم ہو جاتا ہے۔ ہمارا گمان تھا کہ اپیل میں ایشو ختم ہو جائے گا مگر جب اپیل بھی مسترد ہوئی تو اندازہ ہوا کہ کواکب جس طرح دکھتے ہیں ضروری نہیں کہ وہ ہوں بھی اسی طرح۔

ایک برانا محاورہ ہے کہ برا آدمی برائی چھوڑ بھی دے پھر بھی کچھ نہ کچھ ہیرا پھیری کر ہی لیتا ہے۔ اب ہمارے چھوٹے بڑوں کو اس نوع کا رویہ یا وتیرہ ترک کر دینا چاہئے۔ توبہ کرنے والوں کے لئے کہا گیا ہے کہ توبتہ النصوع کرو۔