چیف جسٹس کے عہدے کو مفادات کے ٹکراؤ کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے: جسٹس عیسیٰ

  • جمعرات 04 / مارچ / 2021
  • 6650

سپریم کورٹ میں نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی پوزیشن کو مفادات کے ٹکراؤ کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کے معاملے پر وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی سماعت کی۔ فاضل جج نے خود دلائل دیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس میں اپنے وکیل منیر اے ملک کی طبیعت کی ناسازی کے باعث خود دلائل دے رہے ہیں۔

10 رکنی بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس امین الدین خان شامل ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مسلسل تیسرے روز اپنے دلائل کا سلسلہ جاری رکھا اور کہا کہ آئین سپریم کورٹ کی پالیسی کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ آئین سپریم کورٹ کے رولز کی بات ضرور کرتا ہے۔ بنچ کے سربراہ جسٹس عمرعطا بندیال نے جسٹس عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت نے یہ آبزرو کیا تھا کہ یہ انتظامی اور پالیسی معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ کے رولز کون بناتا ہے، یہ رولز فل کورٹ ہی بناتی ہے۔ بنچ کے تمام ججز آپ کو سننا چاہتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین میں سپریم کورٹ کی پالیسی کا ذکر نہیں ہے۔ عدالت سے بنیادی حقوق آرٹیکل 19 اے کی عمل داری چاہتا ہوں۔ عدالتی بنچ اپنے جوڈیشل اختیارات سے سپریم کورٹ رولز پر فیصلہ دے سکتا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی پہلے سوال سن لیں، آپ یہاں ہماری معاونت کے لیے کھڑے ہیں۔ اس پر جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے سوال پوچھا ہے یا معاملے کا تعین کر رہے ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس عیسیٰ نے اس کیس کو براہ راست دکھائے جانے سے متعلق کہا کہ لائیو ٹیلی کاسٹ کا یہ پہلا ٹیسٹ کیس ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے متنازع ذوالفقار علی بھٹو کا کیس ہے۔ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے بعدازاں ذوالفقار بھٹو کیس میں دباؤ تسلیم کیا۔ اس پر جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کیس کی اپیل اوپن کورٹ میں ہوئی تھی؟ جس کے جواب میں جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ اپنی لائیو ٹیلی کاسٹ کی درخواست پر توجہ مرکوز کریں۔

جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم جوڈیشنل کونسل کے چیئرمین ہیں۔ چیف جسٹس فل کورٹ میٹنگ کی صدارت بھی کرتے ہیں۔ چیف جسٹس کی پوزیشن کو مفادات کے ٹکراؤ کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔  جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کہتے ہیں انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے، کیا جب پاکستان میں ٹی وی نہیں تھا تو انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آتا تھا؟  اس پر جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے۔ انہوں نے جسٹس منیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں معاونت کے لیے موجود ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پنجاب میں ماتحت عدلیہ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کیمرے لگائے گئے ہیں۔ عدلیہ نے ہمیشہ ٹیکنالوجی کو قبول کیا ہے، ٹیکنالوجی کے استعمال سے عدالتی نظام میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔

جسٹس عیسیٰ نے دلائل دیے کہ لائیو ٹیلی کاسٹ سے برے وکلا کو بے نقاب کیا جائے، یہاں اچھے وکلا بھی ہیں اور برے وکلا بھی ہیں۔ فرض کر لیں اس مقدمے کی کارروائی لائیو ہوتی ہے، کیا عوام اس سے مستفید ہوں گے یا نہیں۔ لائیو ٹیلی کاسٹ سے عدالتی کارروائی میں مزید ڈسپلین آئے گا۔

اس پر جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ آپ وہاں کھڑے ہوکر جو بات کر رہے ہیں وہ جج کی آبزویشن بن جائے گی۔ وکیل تو روسٹرم پر کھڑے ہو کر ادھر ادھر کی باتیں کر جاتے ہیں۔ آپ کی روسٹرم پر کی گئی باتیں بطور جج آپ کے سامنے آئیں گی۔ جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ میں جج ہوں لیکن عدالت کے سامنے ایک درخواست گزار بھی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ لائیو ٹیلی کاسٹ کا حق مجھے نہیں ملنا بلکہ نظر ثانی کیس میں لائیو ٹیلی کاسٹ کا حق عوام کو ملنا ہے۔ جج کو عوام کی سطح پر بدنام کیا جاتا ہے، کیا جج کو لائیو ٹیلی کاسٹ میں سنا نہیں جا سکتا۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ لائیو ٹیلی کاسٹ کی درخواست کی مخالفت کریں گے۔ جسٹس عیسیٰ نے جواب دیا کہ فیڈریشن تو کیس کو ختم نہیں کرنا چاہتی تھی۔ یہ بظاہر کیس سے بھاگ رہے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مقدمے کو ہم نے لمبا نہیں کرنا۔ درخواست گزار کی مشکلات اور عدالتی مشکلات سامنے ہیں۔ دس رکنی لارجر بنچ سے دوسرے مقدمات متاثر ہورہے ہیں۔ کوئی شبہ نہیں کہ ٹیکنالوجی ہر شعبہ میں انقلاب لاتی ہے، ہم کھلے ذہن کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے لائیو ٹیلی کاسٹ پر وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور کیس کی سماعت مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔