الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے: وزیر اعظم
- جمعرات 04 / مارچ / 2021
- 4210
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ آپ کو سپریم کورٹ نے موقع دیا تو بیلیٹ پیپرز پر بار کوڈ نہیں لگانا چاہئے تھا۔
قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں آپ نے اوپن بیلیٹ کی مخالفت کیوں کی۔ کیا آئین چوری کی اجازت دیتا ہے۔ پھر آپ نے قابل شناخت بیلٹ پیپزر کی مخالفت کی۔ اگر ایسا ہو جاتا تو آج جو ہمارے 15، 16 لوگ بکے ہیں ہم ان کا پتا لگا لیتے۔ یہ پیسے دے کر اوپر آنا کیا جمہوریت ہے۔ الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ کو اندازہ نہیں کہ اس الیکشن میں کتنا پیسا چلا ہے۔ میں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ ریٹ لگ گئے ہیں، کیا آپ کو نہیں پتہ یہ تحقیقات کرنے کی ذمہ داری آپ کی تھی۔ جو کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ ریکور کیسے کرے گا، جو کروڑوں روپے خرچ کر کے سینیٹر بنے گا وہ کیا حاتم طائی ہے۔ سینیٹ کے انتخابات جس طرح ہوئے ہیں انہی سے ملک کے مسائل کی وجہ سمجھ آجاتی ہے۔
سینیٹ کے انتخابات میں جب ایک سینیٹر رشوت دے کر سینیٹر بن رہا ہے اور ارکان پارلیمنٹ پیسے لے کر اپنے ضمیر بیچ رہے ہیں تب سے میں نے اوپن بیلٹ کی مہم چلانا شروع کی۔ ہم نے پارلیمنٹ میں بھی اوپن بیلیٹ کا بل پیش کیا۔ ہم نے اوپن بیلیٹ کے لیے بل پیش کیا تو یہ تمام جماعتیں خفیہ بیلیٹ پر اکٹھی ہوگئیں۔ جس کے بعد ہم معاملے کو سپریم کورٹ لے کر گئے، وہاں الیکشن کمیشن نے اس کی مخالفت کی اور عدالت عظمیٰ نے کہا کہ صاف و شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
عمران خان نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے تب سے پرانی جماعتوں کی کرپٹ قیادت کو خوف ہے کہ میں نے کرپشن کے خلاف ہی مہم چلائی ہے تو کہیں یہ ہم پر ہاتھ نہ ڈال دیں۔ میں کہہ چکا تھا کہ جب ان پر ہاتھ پڑے گا تو یہ سب اکٹھے ہوجائیں گے اور ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے مجھ پر ہر طرح سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پوری کوشش کی کہ سینیٹ انتخابات کے لیے ہمارے اراکین توڑیں اور ہماری اکثریت کو ختم کریں۔ اکثریت ختم کرنا عدم اعتماد کا ووٹ نہیں ہے۔ ان کا مقصد تھا کہ اعتماد کے ووٹ کی تلوار مجھ پر لٹکائیں اور میں این آر او دوں۔ لیکن میں اپوزیشن کے ہاتھوں نہ بلیک میل ہوں گا نہ این آر او دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کو اتنی ہی سیٹیں ملیں جتنی ملنی تھیں۔ سارا ڈرامہ ایک عبدالحفیظ شیخ کی نشست کے لیے کیا۔ ہمارے اراکین نے بتایا کہ انہیں فون کرکے پیسوں کی پیشکش کی گئی اور 2 کروڑ سے بولی لگنا شروع ہوئی۔ میں پرسوں اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے رہا ہوں۔ ارکان اسمبلی ضمیر کے مطابق ووٹ دیں۔ اگر میں اہل نہیں ہوں اور مجھ پر اعتماد ظاہر نہیں کیا جاتا تو میں اپوزیشن میں چلا جاؤں گا۔
اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو مخاطب کرکے ان کا کہنا تھا کہ اگر اقتدار چلا جاتا ہے تو میرا کیا نقصان ہوگا۔ مجھے سرمایہ جمع نہیں کرنا اور جائیداد نہیں بنانی۔ سفر اور سیکیورٹی کے علاوہ مجھ پر حکومت کا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہو رہا۔ لیکن میں باہر بھی ہوجاؤں تب بھی آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔ قوم کا پیسہ واپس کرنا ہوگا۔ میرا ایمان ہے کہ یہ ملک ایک عظیم ملک اس وقت بنے گا جب ڈاکوؤں کو سزائیں ملیں گی۔