عمران خان زندہ باد!

’میں جب دیکھتا تھا کہ ہمارے ملک میں غریب کی  زندگی اجیرن ہے، امیر امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں اور غریب غربت کی گہرائی میں گرتے جا رہے ہیں تو میرا دل بہت کُڑھتا تھا۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں ان لوگوں کے لئے کچھ کر سکوں لیکن میں کرکٹ میں مصروف تھا‘۔

وہ ہجوم پریس کانفرنس میں بولے جارہے تھے اور میں ہمہ تن گوش سُن رہا تھا۔ مجھے ان کی باتیں سمجھنے میں دُشواری ہو رہی تھی کہ یہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں لیکن میں دم سادھے اُن کی گفتگو سُن رہا تھا۔ اُن کے چہرے پہ تھکن اور غُصے کے آثار نمایاں تھے۔ اُن کے ساتھی بھی چہروں پہ مایوسی لئے اُن کے ارد گرد بیٹھے تھے۔ فواد چودھری اور شاہ محمود قریشی مصروفیت کے باعث موجود نہیں تھے۔ پریس کانفرنس سے پہلے وہاں چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں کہ اُن کی کابنیہ کی اکثریت زردادی صاحب سے ملاقات کر چُکی ہے۔ اور اپنے ضمیر کےمطابق فیصلہ کرنے والی ہے۔ شیخ رشید صاحب نگران حکومت کے وزیر اطلاعات ہوں گے، حفیظ شیخ صاحب بدستور وزیر خزانہ رہیں گے۔

بہرحال خان صاحب ڈاکٹر عارف علوی اور اسد عُمر کے ساتھ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ وہ تحریک انصاف کی تاریخ بیان کر رہے تھے۔ گویا ہوئے ’میری زندگی میں موڑ اس وقت آیا جب میری والدہ کو سرطان کی تشخیص ہوئی۔ میرے سارے خاندان پہ بجلی سی کوند گئی۔ اللہ تعالیٰ کا شُکر ہے کہ ہماری مالی حالت اچھی تھی لیکن اس کے باوجود ہمیں اپنی والدہ کے علاج کے دوران بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تب میں نے سوچا کہہ ہمارے اتنے اچھے مالی حالات کے باوجود، ہمیں اتنی مشکلات کا سامنا کرنا پرا ہے تو غریب اور کم وسائل والے لوگوں کا کیا حال ہوگا؟ اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ جب کرکٹ سے ریٹائر ہوجاؤں گا تو ایک کینسر ہسپتال بناؤں گا جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو گا۔ میں نے اس کے لئے دن رات جدوجہد کی اور ایک ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

پھر میں نے غریب بچوں کی تعلیم کے لئے ایک عالمی معیار کی یونورسٹی بنائی۔ ان منصوبوں کے لئے میں نے اپنے عوام کے سامنے جھولی پھیلائی ۔ انہوں نے مجھے مایوس نہیں کیا۔ اور دل کھول کر عطیات دیے۔ یہ عطیات نہ ہوتے تو میں اپنے منصوبوں کو کبھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکتا۔ لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ اس طرح کے منصوبوں سے میں کچھ لوگوں کو تو فائدہ پہنچا سکتا ہوں لیکن ملک کی اکثریت کو نہیں۔ اس لئے میں نے کچھ رفقا کے ساتھ مل کے ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دی جس کا مقصد معاشرتی اور معاشی ناہمواریوں کا خاتمہ کر کے معاشی اور معاشرتی انصاف قائم کرنا تھا۔ اسی یئے میں نے اس کا نام تحریک انصاف رکھا۔ میرا خیال تھا کہ میرا پروگرام دیکھ کے لوگ جوق در جوق میری جماعت میں آئیں گے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہوا۔ تحریک انصاف نے انتخابات میں حصہ لیا لیکن صرف میں ہی اپنی نشست جیت پایا۔ میں کرپٹ نظام،اور مقتدرہ کے سیاست میں کردار پہ کھل کے تنقید کرتا رہا۔ جس چیز کو ملک اور عوام کے لئے مُضر سمجھا۔ کھل کے اس کی مخالفت کی‘۔

سب لوگ خاموشی سے خان صاحب کی کہانی اُن کی اپنی زبانی سُن رہے تھے اور توقع کر رہے تھے کہ اب کوئی نئی بات سامنے آئے گی کیونکہ یہ سب تو سارا پاکستان پہلے سے جانتا تھا۔ انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا

’میری جدوجہد چلتی رہی، نوجوان طبقہ اور اوورسیز پاکستانی میری حمایت کرتے تھے لیکن پاکستان میں اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی کے لئے یہ حمایت ناکافی تھی۔ کسی نے مجھے مشورہ دیا کہ اگر اپنے مشن میں کامیابی چاہتے ہو تو پاکستانی مقتدرہ سے بنا کے رکھو لیکن یہ تو میرے اصول اور میری جدوجہد کے خلاف تھا۔ میں کیسے اس طبقے سے ہاتھ ملا لیتا جو میری رائے میں پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ مجھ پہ یہ عقدہ کھلا کہ یہ راستہ اختیار کئے بغیر میری جدو جہد کامیاب نہ ہوگی۔ لہذا میں نے مقتدرہ سے ایک طرح سے معاہدہ کرلیا کہ میں اُن سے مل کے کام کروں گا۔ انہوں نے کچھ اور لوگوں سے بھی بات کی اور انہیں میری پارٹی میں شامل کیا۔ مجھے بتایا گیا کہ اس ملک میں کرپشن بہت ہو گئی ہے، اس لئے تمہیں کرپشن کے خلاف کام کرنا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اس ملک کی حالت زار کی وجہ زرداری اور نوازشریف کی بدعنوانی ہے۔ اور اسے ختم کئے بغیر یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ میں نے اُن کی بات پہ اعتبار کر لیا اور ان دونوں کے خلاف خوب تقریرں کیں اور بیانات دیے۔ میں نے 2011 میں طاقت کا پہلا مظاہرہ کیا جو بہت کامیاب ہوا۔ کیونکہ مقتدرہ میرے ساتھ تھی۔ بڑے بڑے سیاستدان میری جماعت میں آ گئے۔ میرا خیال تھا کہ میرا پروگرام ہی اتنا پُرکشش ہے کہ لوگ کھنچے چلے آتے ہیں۔ مجھے بتایا بھی یہی گیا تھا۔ میں نے بدعنوانی کے خلاف اپنی جدوجہد تیزتر کر دی۔ پھر 2013 کے انتخابات آگئے۔ مجھے بتایا گیا کہ اس میں دھاندلی ہوئی ہے۔ پینتیس پنکچر لگائے گئے ہیں۔ میں نے اس پہ شدید احتجاج کیا۔ مظاہرے کئے، دھرنا دیا۔ نواز شریف کے خلاف ہر طرح کی زبان استعمال کی۔ اس کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ایک سو چھبیس دن اسلام آباد میں کاروبار زندگی معطل کئے رکھا۔

مجھے مقتدرہ نے اور نئے ساتھیوں نے بتایا تھا کہ میرا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے۔ میں تو اپنا جائز حق واپس لینے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ لیکن پاک فوج کی بروقت مداخلت سے نواز حکومت بچ گئی۔ اس کے بعد پانامہ کیس آیا۔ میں نے نوازحکومت پہ مقدمہ کیا۔ اب بھی میرا خیال تھا  کہ میری جدوجہد خالص ہے،  یہ لوگ واقعی بدعنوان ہیں۔ بلکہ نوازشریف غدار بھی ہیں۔ میں نے جگہ جگہ ان کے خلاف نعرے لگوائے۔ بالآخر عدالت نے اقامہ کی بنیاد پہ فیصلہ دے کے نوازشریف حکومت ختم کر دی۔ میں نے سُکھ کا سانس لیا۔ پھر اس کے بعد 2018 کے عام انتخابات آ گئے۔ میرا اب بھی خیال تھا کہ لوگ میرے پروگرام سے متاثر ہو کے میری جماعت میں آرہےہیں۔ میں بہت خوش تھا۔ کہ اب مجھے موقع ملنے والا تھا۔

میں نے اپنے سے پہلے حکومت کرنے والی دونوں پارٹیوں کو خوب رگیدا۔ مقتدرہ میرے ساتھ ایک پیج پہ تھی۔ نوجوان ، بچے، بوڑھے ، خواتین اور بزرگ سب میرے ساتھ تھے۔ میں نے انتخابات جیتنے کے بعد جب کابینہ بنائی تو مقتدرہ نے مطالبات کرنے شروع کر دیے کہ فلاں کو یہ عہدہ دو اور فلاں کو وہ عہدہ۔ مجھے پہلی دفعہ محسوس ہوا کہ میں اپنی مرضی سے کام نہیں کر پا رہا۔ لیکن میں نے پھر بھی حالات سے سمجھوتہ کیا۔ کیونکہ میرا یہ خیال تھا کہ سابقہ حکومتوں نے ملک کو صرف لوٹا ہے کوئی کام نہیں کیا۔ وہ چاہتے تو کام کر سکتے تھے لیکن مجھے اب احساس ہوا کہ یہاں تو ہم کچھ بھی اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے۔ میں نے اپنے تئیں بہت کوشش کی کہ حالات میں تبدیلی لاؤں لیکن میرے ارد گرد سب لوگ مقتدرہ کے تھے۔ میں ایک قدم آگے چلتا تھا، وہ مجھے دس قدم پیچھے کھینچ لیتے تھے۔ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ اس ملک میں حکومت کرنا کتنا مشکل کام ہے۔

مجھے افسوس ہے کہ مجھے پہلے اس بات کا احساس نہ ہوا اور میں نہایت آسانی سے میاں نواز شریف کے خلاف استعمال ہو گیا۔ آج سوچتا ہوں کہ نواز شریف اور زرداری یہاں بہت سے لوگوں سے کم بدعنوان ہیں۔ ان دونوں بدنام کرنے اور اپنے آپ کو پاکیزہ ثابت کرنے کے لئےانہوں نے مجھے استعمال کیا۔ یہ بات میرے پہ اب آشکار ہوئی کہ اصل مسئلہ بد عنوانی نہیں تھا بلکہ یہ لوگ مقتدرہ کی کچھ باتیں ماننے سے انکاری تھے۔ مقتدرہ پہ اندھا اعتماد کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اب ایک نئے میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے تاکہ ہم جمہوریت کو مضبوط کرسکیں اور سول بالا دستی قائم کر سکیں۔ میں اس سلسلے میں جلد میاں نواز شریف اور زرداری صاحب سے ملاقات کرنے والا ہوں تاکہ اس معاہدے کے خد و خال طے کئے جاسکیں‘۔

میں نے جب عمران خان کی یہ تمام باتیں سُنیں تو خوشی سے زوردار نعرہ لگایا: عمران خان زندہ باد، عمران خان زندہ باد۔ میں نے اتنے زور سے یہ نعرہ لگایا کہ میری اپنی ہی آواز سے میری آنکھ کُھل گئی۔