پاکستانی حکومت فوری طور سے کورونا ویکسین نہیں خریدے گی
- جمعہ 05 / مارچ / 2021
- 4000
حکومت نے واضح کیا ہے کہ رواں سال کے دوران کورونا ویکسین خریدنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ اس کی بجائے عطیہ کی گئی ویکسین پر انحصار کیا جائے گا۔ یا عوام میں اجتماعی مدافعت ازخود پیدا ہوجائے گی۔
سیکریٹری وزارت صحت عامر اشرف خواجہ نے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے۔ قومی ادارہ صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل عامر اکرام کے مطابق چین کی کین سائنو ویکسین کی ایک خوراک کی قیمت 13 ڈالر ہے۔ پاکستان بین الاقوامی عطیہ دہندگان اور دوست ممالک مثلاً چین پر انحصار کررہا ہے۔
وزارت صحت کے سیکریٹری نے پی اے سی کو آگاہ کیا کہ چینی ادویات ساز کمپنی سائنو فارم نے کووِڈ 19 ویکسین کی 10 لاکھ خوراکیں عطیہ کرنے کا وعدہ کیا تھا جس میں سے 5 لاکھ خوراکیں پاکستان کو مل چکی ہیں۔ ان میں سے 2 لاکھ 75 ہزار کورونا وائرس کے مریضوں سے رابطے میں آنے والے ہیلتھ ورکرز کو لگائی گئی ہہں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں ہسپتالوں اور دیگر صحت سہولیات میں کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگائی جائے گی اور 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد 1166 پر ٹیکسٹ میسج کرکے ویکسین کے لیے رجسٹر کرواسکتے ہیں۔ سیکریٹری صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان رواں برس 7 کروڑ افراد کی ویکسینیشن کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو گلوبل الائنس فار ویکسین اینڈ امیونائزیشن (گاوی) کے ذریعے کووِڈ ویکسین کی ایک کروڑ 60 لاکھ خوراکیں ملیں گی۔ یہ بھارت میں تیار ہونے والی آسٹرازینیکا ویکسین ہے، جس سے ملک کی 20 فیصد آبادی کو ویکسین لگ سکے گی۔ خیال رہے کہ گاوی ایک عالمی پبلک پرائیویٹ ہیلتھ پارٹنر شپ ہے جس کا مقصد غریب ممالک میں ویکسین تک رسائی کو بڑھانا ہے۔
پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے سیکریٹری صحت سے سوال کیا کہ کیا وہ مفت ویکسین حاصل کرنے کا انتطار کررہے تھے جس پر عامر اشرف خواجہ نے کہا کہ ہمیں زیادہ ویکسین خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری صحت نے بتایا کہ پاکستان کو سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کی تیار کردہ آسٹرازینیکا ویکسین کا پہلا بیچ مارچ کے وسط میں مل جائے گا جبکہ بقیہ ویکسین جون تک پہنچنے کا امکان ہے۔
بزرگ شہریوں کو ویکسین لگانے کا عمل 5 مارچ سے شروع ہونا تھا لیکن ویکسین کی فراہمی تاخیر کا شکار ہوگئی۔ سیکریٹری صحت کے مطابق وزارت نے ان افراد کی تعداد معلوم کرنے کے لیے جون 2020 میں ایک سروے کیا تھا جن میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہوگئی ہے۔ سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 15 فیصد آبادی میں قوت مدافعت موجود ہے اور انہیں ویکسین کی ضرورت نہیں۔