الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کی تنقید مسترد کردی
- جمعہ 05 / مارچ / 2021
- 4510
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیرِ اعظم عمران خان کی سینیٹ انتخابات سے متعلق تنقید مسترد کر دی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔
سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر شکست کے بعد وزیرِ اعظم اور حکومتی وزرا کی جانب سے الیکشن کمیشن پر تنقید کی جا رہی تھی۔ کمیشن نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اراکین اور وزیرِ اعظم کا خطاب سن کر دکھ ہوا۔ ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔
الیکشن کمیشن نے وزیرِ اعظم کے قوم سے خطاب کے دوران کمیشن پر تنقید کے جواب میں کہا ہے کہ " اگر کہیں اختلاف ہے تو شواہد کے ساتھ آکر بات کریں۔ آپ کی تجاویز سن سکتے ہیں تو شکایات کیوں نہیں۔ الیکشن کمیشن آئینی اور آزاد ادارہ ہے جسے کام کرنے دیں، احساس کریں اور ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالیں۔"
بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ کسی کے دباؤ میں نہ آئے ہیں اور نہ آئیں گے۔ اگر فیصلوں پر اعتراض ہے تو آئینی راستہ اختیار کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں بلکہ قانون کی پاسبانی ہے۔ اگر اسی طرح آئینی اداروں کی تضحیک کی جاتی رہی تو یہ اداروں کی کمزوری کے مترادف ہو گا۔
الیکشن کمیشن نے بیان میں کہا ہے کہ سب کی بات سنی جاتی ہے اور کمیشن صرف آئین و قانون کی روشنی میں ہی اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ کمیشن آزادانہ طور پر بغیر کسی دباؤ کے فیصلے کرتا ہے تاکہ پاکستانی عوام میں جمہوریت کو فروغ ملے۔
یاد رہے کہ عمران خان نے جمعرات کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے 'جمہوریت کو نقصان' پہنچانے کے لیے الیکشن کمیشن کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اوپن بیلیٹ کی خلاف ورزی کی اور سپریم کورٹ کے کہنے کے باوجود 1500 ووٹوں پر بار کوڈ نہیں لگایا۔ تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر حکمراں جماعت کے امیدوار حفیظ شیخ کو شکست ہوئی تھی۔ اُن کے مدِ مقابل حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے اس نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جس نتیجے پر تبصرہ اور ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے، الیکشن کمیشن اسے مسترد کرتا ہے۔ یہی جمہوریت، آزادانہ الیکشن اور خفیہ بیلٹ کا حسن ہے جو پوری قوم نے دیکھا اور یہی آئین کی منشا تھی۔ "ایک ہی روز، ایک چھت تلے، ایک ہی الیکٹورل میں اور ایک ہی عملے کی موجودگی میں جو ہار گئے وہ نامنظور اور جو جیت گئے وہ منظور۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔؟
بیان کے مطابق کمیشن ایک آئینی اور آزاد ادارہ ہے جسے آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے۔ کمیشن کو ہی یہ دیکھنا ہے کہ آئین اور قانون اسے کیا اجازت دیتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ردِ عمل پر وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کے بیان پر الیکشن کمیشن کی جانب سے پریس ریلیز جاری کرنا نا مناسب ہے۔ ادارے اپنی غیر جانبداری پریس ریلیز سے ظاہر نہیں کرتے۔
دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ "پوری قوم کو بتانا چاہتی ہوں اور اداروں کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ سسلین مافیاز کون ہیں۔ اگر ادارے آپ کے حق میں بات کریں تو ٹھیک نہ کریں تو آپ اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کوئی ذاتی رائے نہیں تھی۔ انہوں نے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی پوزیشن اختیار کی۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کی اس پوزیشن کو تسلیم کیا۔ مریم نواز نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی ایک نشست نے آپ کا کچا چھٹا کھول دیا تو آپ نے الیکشن کمیشن کو متنازع بنانا شروع کر دیا۔ ہم نے اداروں کو متنازع نہیں بنایا بلکہ تقدس کے لیے جیلیں بھگتیں اور آج بھی ان کے تقدس کی بات کرتے ہیں۔
مریم نواز نے وزیرِ اعظم کے اعتماد کے ووٹ پر کہا کہ "قومی اسمبلی کا اجلاس آرٹیکل 91 (7) کے تحت بلایا گیا جس کے لیے صدر نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ اعتماد کا ووٹ لیں۔ میں صدر مملکت کو بھی مبارک باد دیتی ہوں کہ جو بات عوام کو ضمنی الیکشن میں سمجھ آگئی، وہ سینیٹ الیکشن کے بعد سمجھ گئے ہیں۔"
حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری نے الیکشن کمیشن کے بیان کو جرات مندانہ ردِ عمل قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کا بیان آئینی ادارے پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔ عمران خان نے شکست تسلیم کرنے کے بجائے آئینی ادارے کے کردار پر سوالیہ نشان اٹھایا۔ عمران خان میں شکست تسلیم کرنے کی جرات اور صلاحیت ہونی چاہیے۔ الیکشن کمیشن کے بیان کے بعد وزیرِ اعظم باضاطہ طور پر معافی مانگیں۔