سیاسی بیان بازی میں زبان و دہن بیک وقت بگڑ رہے ہیں
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- جمعہ 05 / مارچ / 2021
- 5610
ہمارے بزرگ ہمیں دعا دیتے تھے کہ اللہ آپ کو عدالتوں اور ہسپتالوں سے محفوظ رکھے۔ ہم اس بات پر جب بھی اور اب بھی آمناً و صدقناً کہتے ہیں۔
بات بڑی بنیادی ہے لیکن وقت کے تقاضے بدل رہے ہیں۔ ذرا غور فرمایئے تو معلوم ہوگا کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ عدالتوں اور جیل خانوں کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہے۔ شائستگی اور مہذب طرز تخاطب کی بات تو کر ہی نہیں سکتے کیوں کہ ہمیں آج کی سیاست میں ایسی چیز میلوں تک نظر نہیں آتی۔ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ آج کی سیاست نے ایک نیا طرز تخاطب ایجاد کیا ہے جس میں شائستگی، مروت اور تحمل کا داخلہ ممنوع ہے۔ جدید طرز کلام میں طنز زنی، ریاکاری اور ستائش باہمی کی بھرمار ہے۔ معقول زبان، کلام متروک ہو چکا ہے۔ حالیہ سیاست میں اس امر کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ سستی، عامیانہ اور نچلے درجے کی زبان کو اولین سمجھا جائے اور استعمال کیا جائے۔ مخالفین کو ہر موڑ پر نیچا دکھانے کے لئے گالی گلوچ کا سرعام اظہار کیا جائے۔
اس میں شک نہیں کہ ہمارے ورثے میں تہذیب اور روایت کا گہرا اثر ہے۔ ادب سے بات کرنا تو ہر گھرانے کا وطیرہ تھا بلکہ اسے خشت اول تسلیم کیا جاتا تھا۔ لیکن سیاسی طرز کلام نے اس کی ہیئت بدل دی ہے۔ ہم نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی ہے وہ بڑا بامروت معاشرہ تھا۔ یہی ہماری تربیت کی ابتدا تھی۔ اب ہم کس طرف جا رہے ہیں اس کی راہیں متعین نہیں۔ ہم میر و غالب کے زمانے سے گزرے ہیں۔ ہم مولانا ابوالکلام آزاد اور اقبال کے دور سے گزرے ہیں۔ یہ ہمارے ورثے ہیں اور ہماری تہذیبی خشت اول ہے۔ لیکن ہم یہ سب کچھ بھلا کر ایک نئی تہذیب کی طرف بڑھ رہے ہیں جیسے بدتہذیبی کرنا بڑی حد تک درست ہو گا۔ ہمارے ذہن میں بار بار بلاول بھٹو کی آواز آ رہی ہے جیسے وہ لاڑکانہ کے کسی گاؤں کے مشاعرے میں آزاد نظم سنا رہے ہیں:
تم تو کٹھ پتلی ہو اور
تمہاری ڈوریں تو کوئی اور ہلا رہا ہے
دوسری طرف مریم نواز تہذیب کے ہر معیار سے گر کر، ناگفتہ بہ الفاظ کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ وہ انگلی ہلا ہلا کر ”تم سلیکٹڈ ہو، تم نااہل ہو، تم نالائق ہو، تم چور ہو“ کی گردان کرتی ہیں اور جواب آں غزل طلال چوہدری، رانا ثنا اللہ، احسن اقبال، خاقان عباسی اور حتیٰ کہ مریم اورنگزیب بھی اسی رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔ اُدھر سرکاری ملازمین بھی اس سے مبرا نہیں۔ عمران خان سمیت چور، ڈاکو، کریمنل اور مافیا کے الفاظ بے تکلف استعمال کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن تو قصہ کوتاہ ہر بات کو جوتے کی نوک پر رکھ دیتے ہیں۔ جب مہنگائی کا ذکر آتا ہے تو پرانے قرضوں کی گردان دہرائی جاتی ہے۔
ہمارا موضوع الزام در الزام نہیں، ہم تو متانت کی بات کرتے ہیں، ہم تو تحمل کی بات کر رہے ہیں اور احترام کی بات کرتے ہیں۔ لیکن سیاسی جماعتوں کی حالیہ گفتار قوم کو صرف انحطاط کی راہ دکھا رہی ہے جس میں آنے والی نسلوں کیلئے خرابی کی صورت نمایاں ہے۔ حالیہ سیاسی تقریروں میں ایک تاثر ابھرتا ہے وہ ہے عناں اور عناں اور مزید عناں۔ ان تقاریر میں تعمیری سوچ کا فقدان ہے۔
ہم نے سارے رویوں کو بے نقاب کر کے سرعام رکھ دیا ہے:
دیکھو یہ میرے خواب تھے، دیکھو یہ میرے زخم ہیں
ہم نے تو سب حساب جاں برسرعام رکھ دیا
جیسا کہ اوپر عرض کیا تھا کہ بزرگ ہمیں دعا دیتے تھے کہ اللہ آپ کو عدالتوں اور ہسپتالوں سے محفوظ رکھے۔ کیا حالیہ سیاسی رویوں سے معلوم ہوتا ہے جیسے کال کوٹھڑی ہی سیاسی ”نروان“ ہو۔ نام دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک ہے نیک نام اور دوسرا ہے بدنام:
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تُو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے