جمہوری تحریک کی حیرت انگیز کامیابی

سینیٹ انتخابات میں اپوزیشن اتحاد پاکستان جمہوری تحریک کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی ایک سیٹ بیک حیرت یاکرشمے سے کم نہیں ہے۔

حکومتی اور اپوزیشن ووٹوں کے تناسب سے اس کا امکان نہیں تھا اور پھر وزیراعظم نے اپنے امیدوار کو جتوانے کیلئے دن رات ایک کر دیا تھا۔ اپنے جن ممبران قومی اسمبلی کو وہ مدتوں سے نہیں مل پا رہے تھے ان کے نخرے اٹھانے کیلئے بھی انہوں نے کیا کیا جتن کئے مگر اس کے باوجود الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ تگ و دو نے کام کیا۔ ان کے اپنے بقول ان کی پارٹی قومی اسمبلی بک گئے بالکل اسی طرح جیسے 2018 میں پی ٹی آئی کے بیس کے قریب اراکین کے پی کے اسمبلی بکاؤ مال بن گئے تھے اور ان کی ویڈیوز بھی بنی تھیں۔

اتنی حیرت انگیز سبکی و ناکامی کے بعد اپوزیشن پر ان کا غصہ قابل فہم ہے لیکن انہوں نے جس طرح ایک قابل احترام قومی ادارے الیکشن کمیشن کو مطعون کیا ہے، یہ ناقابل فہم اور زیادتی والی بات ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اس ہارس ٹریڈنگ کا ذمہ دار ہے۔ اس نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں جا کر یہ کیوں نہیں کہا کہ ووٹ کی سیکریسی نہیں ہونی چاہیے یا یہ کہ 1500 بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ لگانا کون سا مسئلہ تھا۔

یہ کہتے ہوئے انہوں نے ایک بار بھی یہ واضح نہیں کیا کہ اس حوالے سے غیر مبہم آئینی تقاضا کیا تھا؟ آئین، جس کے تحفظ کی نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ دیگر تمام اداروں اور ان کے ذمہ داران سمیت خود اس اعلیٰ ترین ذمہ داری پر فائز شخص نے بھی قسم کھا رکھی ہے۔ اس قسم یا حلف توڑنے کا حق کسی ایک کو بھی حاصل نہیں ہے۔ یہ وہ حساس ذمہ داری تھی جس کا الیکشن کمیشن نے نہ صرف یہ کہ ادراک کیا بلکہ پورے وقار سے اپنے حلف کو نبھایا۔ اس پر پوری قومی سیاست و صحافت کو الیکشن کمیشن کی تحسین کرنا بنتا تھا نہ کہ تنقیدی نشتر چلانا۔

ہاں اگر تنقید بنتی تھی تو وہ اپنی پارٹی اور اس کے ڈسپلن پر بننی تھی۔ آپ تو کہا کرتے تھے کہ اگر اوپر بیٹھا دیانتدار ہو تو نیچے بے ایمانی ہو ہی نہیں سکتی۔جن ممبران اسمبلی کو اتنی اہم ذمہ داری پر فائز کرانے کیلئے آپ نے اور آپ کے دیگر پارٹی ذمہ داران نے خود پارٹی ٹکٹ جاری کیے اور یقیناً دیکھ بھال کر میرٹ کا خیال کرتے ہوئے ہی جاری کئے ہوں گے۔ اگر آپ نے یا آپ کے پارٹی عہدیداران نے میرٹ کا خیال نہیں کیا۔ اپنی پارٹی کے محنتی اور دیانتدار کارکنان کو نظر انداز کرتے ہوئے بے ایمان اور کرپٹ لوگوں کو ٹکٹ بانٹے تو پھر خود کردہ را علاج نیست کے مصداق آپ خود کو ایسے کرپٹ لوگوں کے آگے لائے جانے سے کیسے بری الذمہ قرار دیے جا سکتے ہیں؟

آج اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ میں بہت ایماندار ہوں اپنا خرچہ خود اٹھاتا ہوں، اپنے قریبیوں کو نہیں نوازتا، اپنی کوئی فیکٹری نہیں لگائی ہے بلکہ کہنا یہ چاہیے تھا کہ نہ خود کوئی فیکٹری لگائی ہے اور نہ کسی کو لگانے دی ہے، جو لگی ہیں ان کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔ حضور اپنے منہ سے اپنی تعریفیں کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ جناب کی تشریف آوری کے بعد شاید صرف اس ایک صنعت یعنی خودستائی نے ہی ترقی کی ہے۔ بات تو یہ ہے کہ دوسرے ان حوالوں سے کیا کہتے ہیں۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ آپ نے کوئی ایسا محکمہ چھوڑا نہیں ہے جہاں اپنے من پسند لوگوں کو لا لاکر بٹھایا نہیں ہے، کہنے والوں کی کیا ہے وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ تین سو کنال کا گھر کون سے سابق کھلاڑی کا ہے جس کا کوئی کاروبار پروفیشن یا خاص ذریعہ آمدن تک نہ ہو۔ اے ٹی ایم مشینوں کے قصے بھی سنے گئے ہیں۔ پھر مشینوں سے اربوں کمائی والی باتیں بھی کئی لوگ ادھر ادھر سے بیان کر رہے ہیں۔

بارہا یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان جب سے بنا ہے، یہاں چاروں سو کرپشن ہی کرپشن رہی ہے اور اب بھی صرف ہمارے سوا سب کرپٹ ہیں، ایک بس ہم بے چارے ایمانداری کے واحد ٹھیکے دار ہیں لیکن کرپٹ لوگ اکٹھے ہو کر ہمیں چلنے نہیں دےرہےہیں۔ آخرت کی فکر بھی صرف ہمی کو ہے، باقی سب تو اخلاقیات سے بھی عاری ہیں لیکن اگر کوئی ہماری سابقہ زندگی پر نظر ڈالے تو ہمیں بہت برا لگتا ہے۔

سیانے کہتےہیں کہ دوسرے کی طرف انگلی اٹھانے سے پہلے چار انگلیاں جو اپنی طرف اٹھتی ہیں کچھ اپنے من میں جھانک کر ان پر بھی غور کر لینا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس سینیٹ الیکشن میں دوسری پارٹیوں نے بھی اپنے امیدواران کو ٹکٹ جاری کیے، اپنے ساتھیوں پر جو ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ہیں کیا کسی اور نے بھی اس نوع کے گھناؤنے الزامات عائد کیے ہیں؟ شنید تو یہ ہے کہ آپ کی پارٹی کے ممبران اسمبلی نے پی ڈی ایم کے امیدوار کو جتوانے کیلئے اپوزیشن کے رابطے پر کہا کہ ہمیں اگر یہ گارنٹی دلوا دیں کہ اگلے انتخابات میں ہمیں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دے دیا جائے گا تو ہم گیلانی صاحب کو ووٹ دینے کیلئے تیار ہیں، جس کے معنی یہ ہیں کہ اپنے بعض لوگوں کو آپ کرپٹ قرار دے رہے ہیں وہ آپ سے اور آپ کی پارٹی سے اس قدر نالاں و مایوس ہیں کہ وہ ن لیگ کے ٹکٹ کو آئندہ انتخاب میں کامیابی کی گارنٹی سمجھتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ ان کی پارٹی عوام میں اس قدر غیر مقبول ہو چکی ہے کہ آنے والے انتخابات میں عوام اپنے دکھوں کا مداوا انہیں شکست دے کر کریں گے جس کے آثار حالیہ دنوں ہونےوالے ضمنی انتخابات کے نتائج سے دیکھے اور سمجھے جا سکتے ہیں۔

اس ملک کے ایک سے بڑھ کر ایک داخلی و خارجی مسائل ہیں۔ کروڑوں عوام مہنگائی، بیروزگاری اور غربت و افلاس کی چکی میں پس رہےہیں۔ لوگ خود کشیاں کر رہےہیں، جہالت،مذہبی جنونیت اور غربت جیسے عفریت زوروں پر ہیں اور آپ بات بےبات کہتے ہیں کہ میں کسی کو چھوڑوں گا نہیں میرے علاوہ سب کرپٹ ہیں۔ پہلے کہتے تھے کہ اپوزیشن والے کرپٹ ہیں ، اب کہتےہیں میری پارٹی کے اندرمیرے اپنے کئی ممبران قومی اسمبلی بھی کرپٹ ہیں۔

الیکشن میں سیکریسی کی روح یہ ہے کہ لوگ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ سکیں۔ اوپن بیلیٹ میں لوگوں کی کئی مجبوریاں ہو سکتی ہیں، وہ پارٹی جبر کےتحت بے بس ہو سکتے ہیں جبکہ متبادل پارٹیوں میں جدوجہد کرنے والوں کو ان کی پارٹیاں نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ جہاں یہ لوگ خود کو ایڈجسٹ کروا سکیں اس لئے یہ ممبران خیال کرتے ہیں کہ کھلے بندوں مخالفت کرکے وہ کہاں جائیں۔ آج آپ اعتماد کا ووٹ لینے جا رہے ہیں آپ یقین رکھیں کہ بہت سے ممبران اسمبلی آپ کو اپنی مجبوریوں کے تحت ووٹ کریں گے ورنہ اگر خفیہ بیلیٹ کے ذریعے آپ نے اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا تو وہی کچھ ہونا تھا جو تین مارچ کو ہوا۔

زرداری صاحب کی یہ بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پندرہ دیگر ووٹ بھی تھے، وہ نہ جانے کن کی وجہ سے کہاں چلے گئے ورنہ ہمارے امیدوار کو تو بیس ووٹ زائد پڑنے تھے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہےکہ اندرونی منافرت کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ آپ منافرت کی راگنی بند کرتے ہوئے ملک و قوم میں اتحاد و یکجہتی، وقار ، احترام اور بھائی چارے کی فضا بننے دیں۔ سیاست میں اس قدر تلخیاں بڑھانے کی بجائے مل بیٹھ کر گفتگو اور مکالمے کے ذریعے ایکتا و یگانگت کا ماحول بننے دیں۔ یہ کوئی حق و باطل یا زندگی موت کے ایشوز نہیں ہیں۔ ہم سب ایک دوسرے سے محبت کرنے والے پاکستانی بھائی بہن ہیں۔ خدارا اب منافرت بھرے پروپیگنڈے بند کرتے ہوئے احترام باہمی کی فضا پیدا ہونے دیں۔

اپنی چند روزہ زندگی کی طرح اس چند روزہ اقتدار کو عارضی چیز سمجھیں، کوئی تو اچھی یادگار چھوڑ جائیں۔ یہ کیا بات ہے کہ میں محروم اقتدار ہونے کے بعد بھی منافرت و دشمنی کاکلچر جوں کا توں برقرار رکھوں گا۔ خدارا کچھ تو انسانیت کابھرم قائم رہنے دیں۔