تحریک انصاف کے غنڈوں نے اپوزیشن لیڈروں پر حملہ کیا: مولانا فضل الرحمان

  • ہفتہ 06 / مارچ / 2021
  • 5690

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز کے سامنے اپوزیشن قیادت  پر پاکستان تحریک انصاف کے غنڈوں نے حملہ کیا۔ ایسی بداخلاقی اور بدکرداروں سے ملک نہیں چلا کرتے۔

سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کا جواب دے سکتے ہیں۔  انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو مخاطب کرکے کہا کہ ’تمہارا حکمران آج ہے کل نہیں ہوگا‘۔ مولانا فضل الرحمٰن نے متنبہ کیا کہ ’تمہیں گلی کوچوں میں جلنے کی بھی جگہ نہیں ملے گی۔ اس لیے شرافت کا ہاتھ دامن سے نہ جانے دیں ورنہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے پھر سے اعتماد کا ووٹ لینے کی بات کی ہے اور اس سلسلے میں اصولی مؤقف اختیار کرنا چاہتا ہوں۔ صدر مملکت نے ایوان کا اجلاس بلایا جبکہ آئین میں صراحت سے کہا گیا ہے کہ اگر صدر مملکت کو یقیین ہوجائے کہ وزیر اعظم کے پاس اکثریت موجود نہیں ہے تو وہ ازخود اسمبلی کا اجلاس طلب کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس جعلی وزیر اعظم کی سمری پر بلایا گیا ہے کیونکہ یہ سب کچھ ایک ڈھونگ ہے۔  پی ڈی ایم کے صدر نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کے اجلاس اور اس میں اعتماد کے ووٹ کے عمل کو تسلیم نہیں کرتے۔  ’ہمیں معلوم ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی نگرانی کن کن ایجنسیوں نے کی اور ساری رات ممبرز کے دروازے کھٹکھٹا کر حاضری لی گئی‘۔

مولانا فضل الرحمٰن نے وزیر اعظم عمران خان پر الزام لگایا کہ ’بدکردار انسان کس منہ سے ریاست مدینہ کا نام لے سکتا ہے‘۔ تمام شعبے اس وقت ناکارہ ہوچکے ہیں۔ حکومت بتائے کہ کون سے فیصلے انہوں نے آئین کی روح کے مطابق کیے۔  اگر عمران خان میں ہمت، جرات اور غیرت ہے تو اعتماد کا ووٹ عوام سے لے۔ ملک میں الیکشن کروائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کل جنہیں کرپٹ کہا اور آج انہی کا ووٹ لے کر ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔  پوری دنیا سے معاشی روابط قائم نہیں رہے، دیگر خطوں کے ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔  پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی سے نکالنے کے لیے عوام کو نئے انتخاب میں نئیقیادت چننا ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی نے کہا کہ ہمیں نہ گھسیٹا جائے تو پھر وہ خود میدان میں نہ آئیں، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ انہیں کسی سیاسی معاملے میں گھسیٹا جائے۔