عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا

  • ہفتہ 06 / مارچ / 2021
  • 5810

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا ہے۔ 178 اراکین نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ وزیراعظم کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے 172 ووٹ درکار تھے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں ایوان زیریں کا خصوصی اجلاس دن سوا 12 بجے شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی گئی۔ جس کے بعد قومی ترانا پڑھا گیا۔ وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے ایک نکاتی ایجنڈے پر ہونے والے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایوان میں قراداد پیش کی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ‘یہ ایوان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد بحال کرتی ہے جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 91 کی شق (7) کے تحت ضروری ہے‘۔ قرارداد پیش کیے جانے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اراکین کو طریقہ کار سے متعلق بتایا اور ایوان میں اراکین کے آنے کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں۔

بعدازاں ایوان کے دروازے بند کردیے گئے اور اراکین کو اعتماد کا ووٹ دینے کے لیے لابی میں جانے کی ہدایت کی گئی۔ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد گنتی کی گئی اور اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ اگست 2018 میں عمران خان نے ایوان سے 176 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ آج کے اس خصوصی اجلاس میں وزیراعظم نے 178 ارکان کے ووٹ حاصل کرلیے۔ اس طرح وزیر خارجہ کی پیش کردہ قرار داد منظور کرلی گئی۔

وزیراعظم کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ایوان نعروں سے گونج اٹھا اور اراکین اسمبلی کی جانب سے ڈیسک بجا کر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایوان سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لیں، تاکہ انہیں اندازہ ہ کہ سینیٹ الیکشن میں کتنا پیسہ چلا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہر مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے ہونے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے اپنے قانون سازوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ گزشتہ روز جو حالات دیکھے تو مجھے یہ احساس ہوا کہ حفیظ شیخ کے سینیٹ پر ہارنے پر آپ سب کو دل سے تکلیف ہوئی۔ مجھے آپ میں ایک ٹیم نظر آئی اور ہماری یہ ٹیم مضبوط ہوتی جائے گی کیونکہ اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ میں تمہارے ایمان کو بار بار آزماؤں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب آپ مشکل وقت سے نکلتے ہیں تو اور مضبوط ہوجاتے ہیں۔ بڑا انسان بننے کے لیے مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئی جماعت تب ہی مضبوط ہوتی ہے جب وہ مشکل وقت سے گزرتی ہے۔ آج میں اپنی جماعت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ اس مشکل وقت سے نکلے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس لیے تو نہیں بنا تھا کہ شریف اور زرداری ارب پتی بن جائیں، ہمیں واپس اپنے نظریے کی طرف رخ کرنا چاہیے کہ یہ ایک بڑا خواب تھا۔ سینیٹ انتخابات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے شرمندگی ہوتی ہے کہ کدھر پاکستان کا خواب اور کدھر یہ بکرا منڈی بنی ہوئی ہے لوگوں کو خریدنے کے لیے۔ ہمیں ایک مہینے سے پتا تھا کہ اس انتخابات کے لیے پیسا جمع کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہوئی کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ ہم آزاد ادارہ ہیں اور ہم نے بہت اچھا الیکشن کرایا ہے۔  اگر یہ الیکشن آپ نے اچھا کرایا ہے تو پتا نہیں برا الیکشن کیا ہوتا ہے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک چیز سمجھتے نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے معاشی حالات بہت برے ہیں، قرضے چڑھے ہوئے ہیں جبکہ یہ جو قرضے چڑھے ہوئے ہیں یہ ایک بیماری کی علامات ہیں۔ بیماری کچھ اور ہے، ہماری قوم کو اخلاقی طور پر تباہ کیا گیا ہے کیونکہ اس کے بعد معاشی تباہی آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دنیا میں ثابت ایک کرپٹ آدمی آصف زرداری، جس پر دنیا میں لکھا ہوا ہے کہ مسٹر ٹین پرسنٹ، اس پر مضمون لکھے ہوئے ہیں لیکن اس کو اس ملک میں لوگ کہیں کہ ایک زرداری سب پر بھاری کیونکہ وہ رشوت دیتا ہے تو سب پر بھاری ہوگیا، کیا یہ ہمارا ملک ہے‘۔

’یہاں بیٹھے لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف ہمارا لیڈر ہے جبکہ نواز شریف ایک ڈاکو، ملک کو 30 سال لوٹ کر ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے۔ وہ جھوٹ بول کر باہر بھاگا ہوا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے یہ سارے ڈاکو اکٹھا ہوکر یہ سمجھ رہے ہیں کہ عمران خان کو کرسی کا اتنا شوق ہے کہ اس پر اتنا دباؤ ڈالو کہ جس طرح پرویز مشرف نے ہمیں این آر او دیا تھا یہ بھی دے دے گا۔

آصف زرداری کا 60 ملین ڈالر سوئٹزر لینڈ میں پڑا ہوا تھا اور جج نے جب اس کی واپسی کا کہا تو یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میں خط نہیں لکھتا۔ ’وہ آپ کے باپ کا پیسا نہیں تھا بلکہ پاکستانی قوم کا پیسا تھا‘۔ اس بات پر وہ نااہل ہوجاتا ہے لیکن وہ اب ایسے پھر رہا ہے جیسے نیلسن مینڈیلا  ہے۔ ان کے پاس اتنا پیسا ہے کہ انہیں خود نہیں پتا کہ ان کا کتنا پیسا باہر پڑا ہے۔ یہ 30 سال سے پیسا چوری کر رہے ہیں اور اب ان کی کوشش ہے کہ عمران خان پر دباؤ ڈالو۔

ان کا صرف ایک نکاتی ایجنڈا ہے، میں انہیں جانتا ہو۔، ان کا صرف ایک خوف ہے عمران خان این آر او نہیں دے گا لہٰذا اسے بلیک میل کرو۔ یوسف رضا گیلانی کو پاکستان کا کرپٹ ترین آدمی کہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوسف رضا کے وزیراعظم بننے سے پہلے اور بعد کے اثاثے دیکھ لیں آپ کو پتا چل جائے گا کہ انہوں نے اپنے زمانے میں کیا کیا۔ ہمیں سب پتا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔

الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ پاکستان کی ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لیں۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس الیکشن میں کتنا پیسا چلا ہے۔ تاکہ آپ اس طرح کا بیان نہ دیں کہ ہماری آزادی ختم کر رہے ہیں۔ میں کیا آپ کی آزادی ختم کر رہا ہوں۔ ہم نے انتخابی اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم الیکٹرانک مشین لائیں گے کیونکہ اس کے بغیر اب ہمیں الیکشن نہیں کرنا چاہیے۔ ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

مہنگائی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اپنی قوم کو کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت میری حکومت ایک ہی چیز پر لگی ہوئی ہے کہ کس طرح مہنگائی کا بوجھ کم کریں اور آنے والے دنوں میں ہم چیزیں لے کر آئیں گے۔ اس کے علاوہ ہم ایک پروگرام ’بھوکا نہ سوئیں‘ لارہے ہیں۔

قرضوں سے چھٹکارے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم دولت میں اضافہ کریں، اس سلسلے میں مختلف منصوبے لارہے ہیں اور پاکستان میں پہلی مرتبہ ماڈرن شہر بنا رہے ہیں۔ پاکستان کی جیو اسٹریٹجک لوکیشن شاید ہی کسی اور ملک کی ہو۔ اللہ نے 12 موسم دیے ہوئے ہیں، یہاں کی زمین زرخیز ہے۔اس کے علاوہ ملک میں نوجوان آبادی ہے۔