سینیٹ الیکشن: سراب ختم ہوا اضطراب نہیں
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 06 / مارچ / 2021
- 5070
سینیٹ الیکشن انجام کو پہنچا مگر کچھ یوں کہ اس کا انجام کئی نئے امکانات کا آغاز کر گیا۔ الیکشن یوں تو تین درجن سے زائد نشستوں کے لئے ہوئے مگر سیاست کی جان ڈاکٹر حفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی کے معرکے میں اٹک گئی۔ یوسف رضا گیلانی کی جیت نے حکومت کو اس غیر متوقع صورتحال سے دوچار کر دیا جس کی پیش بندی کے لئے قبل ازوقت سینیٹ الیکشن کاڈول ڈالا گیا تھا۔
سینیٹ میں پارٹی پوزیشن کے مطابق پی ٹی آئی سب سے بڑی جماعت بن کر ضرور ابھری ہے مگر اتحادیوں سمیت اس کی اکثریت کا پلڑا کسی بھی مہم جوئی کے دوران ایک دو ووٹ سے اِدھر اُدھر ہو سکتا ہے۔ سو، حکومت کو سینیٹ انتخابی معرکے سے جو امید تھی کہ اس کی گرفت پارلیمان پر مضبوط ہو ، وہ امید سراب ثابت ہوئی۔ اس ایک سراب ختم ہونے کے بعد سیاسی صحرا میں اب کئی نئے سراب سامنے آچکے ہیں جس سے سیاسی اضطراب ختم نہیں ہوا بلکہ مزید بڑھا ہے۔
آصف زرداری کے بقول حکومت جا چکی، بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کب اور کہاں؟ فیصلہ ہم کریں گے، پہلے پنجاب بچانا ہے۔ مریم نواز کے بقول الیکشن میں ن لیگ کا ٹکٹ چلا، پی ڈی ایم نے دن میں تارے دِکھا دیے۔دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان مصر ہیں کہ حکومت جانے کی خبریں دے کر کوئی بلیک میل نہ کرے، مقابلہ کرنا جانتا ہوں، پیسے لے کر اوپر آنا کونسی جمہوریت ہے؟ ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا۔ گیلانی کے الیکشن کا مقصد میرے اوپر عدم اعتماد کی تلوار لٹکانا تھا۔
دونوں جانب کے اشارے واضح ہیں کہ سیاسی بساط ایک نئے انداز سے ترتیب پا رہی ہے۔ نئی ترتیب جو بھی ہو اس میں نوّے کی دِہائی کی سیاسی مشابہت نمایاں ہے۔ کچھ فرق کے ساتھ کم و بیش یہی القابات مخالفین کے لئے پورے گلے پھاڑ پھاڑ کر استعمال ہوتے رہے۔ بنیادی دلیل بھی یہی تھی کہ جمہوریت اور معیشت کا جنازہ نکل گیا ہے۔ اب مزید ہاتھ ہاتھ پہ دھرے بیٹھے رہنا ممکن نہیں۔ اس سیاسی معرکہ آرائی میں استحکام، دلیل، توازن اور برداشت گردِ راہ ہوئے۔ اس کے بعد اٹھنے والے غبار نے تادیر منظر کو گرد آلود رکھا۔
وزیر اعظم عمران خان نے سب سے پہلے اس عدم اعتماد کی تلوار ہٹانے کے لئے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نتیجہ حفیظ شیخ بمقابلہ یوسف گیلانی جیسا سامنے آتا ہے یا فوزیہ ارشد کی طرح کا، چھ مارچ کا دن فیصلہ کر دے گا۔ یہ اعتماد کا ووٹ اگر ان کی حق میں آتا ہے جس کابظاہر امکان ہے تو وقتی طور پر سیاسی اکھاڑا سینیٹ چیئرمین کے الیکشن کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ حکومت اگر صادق سنجرانی کو دوبارہ چئیرمین منتخب کروانے میں کامیاب ہو گئی تو معرکہ پنجاب میں شفٹ ہو جانے کے اشارے ابھی سے واضح ہیں۔ ایک سراب کے بعد دوسرا سراب ہے، ایک دریا کے بعد دوسرا دریا ہے۔ بقول منیر نیازی:
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریاکے پار اترا تو میں نے دیکھا
حالیہ ضمنی اور سینیٹ انتخابات میں تین قابل غور نکات واضح ہوئے ہیں۔ اوّل یہ کہ سیاسی محاذ آرائی میں تلخی بہت زیادہ بڑھی ہے۔ جلسوں جلوسوں اور میڈیا میں مخالفین کے بارے میں الفاظ اور القاب کا انتخاب انتہائی جارحانہ رہا۔ اس رجحان میں ہر نئی سیاسی معرکہ آرائی کے بعد شدت نمایاں ہے۔ اس تلخی کے ساتھ ساتھ متشدد رجحانات بھی پروان چڑھ رہے ہیں۔ ڈسکہ الیکشن میں فائرنگ اور الیکشن کے روز پولنگ اسٹیشنز پر محاذ آرائی کے مناظر میں کچھ کمی تھی تو رات کو تئیس ریٹرننگ افسران کی پراسرار گمشدگی نے پوری کر دی۔ دونوں فریق اپنی اپنی جیت پر مصر تھے۔ اس پورے عمل میں حکومتی وزرا نے الیکشن کمیشن کو بھی ہدفِ تنقید بنایا۔ سینیٹ الیکشن کے دوران سندھ اسمبلی سے پی ٹی آئی کے تین ارکان کے مبینہ اغوا اور دوسرے روز اسمبلی میں ہاتھا پائی کے مناظر بھی کسی طور بھی سیاسی درجہ حرارت کے لئے اچھا شگون نہ تھے۔ نوّے کی دہائی اور ایسی محاذ آرائی میں ہم نے یہی دیکھا کہ بقول شاعر: ایک وار جدوں شروع ہو جائے۔۔ گل فیر ایویں مکدی نئیں!
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ انتخابات کے بارے میں کل کی اپوزیشن و آج کی حکومت اور کل کی حکومت اور آج کی اپوزیشن نے انتخابی اصلاحات کے بارے میں درجنوں میٹنگز اور کمیٹیوں کے باوجود کوئی با مقصد اور معنی خیز اصلاحات نہیں کیں۔ الیکشن کمیشن کو مضبوط کیا نہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے اور نقب لگانے کے راستے بند کئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انتخابی عمل ہر انتخابی معرکے کے بعد مزید متنازع ہوتا گیا ہے۔ شفافیت عنقا اور وہی روایتی حربے کامیاب اور جاری و ساری ہیں۔ ڈسکہ الیکشن میں بھی حکومتی وزرا نے باآسانی سارا وزن الیکشن کمیشن پر ڈال دیا۔ اب سینیٹ الیکشن کے نتیجے میں وزرا تو ایک طرف وزیر اعظم نے بھی الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اس سارے عمل سے روایتی دو عملی مزید واضح ہوئی کہ بروقت انتخابی اصلاحات کرنے پر شاید دونوں فریق سنجیدہ نہیں، دوسرے یہ کہ ادارے اسی وقت تک اچھے جب تک کسی ایک کو سُوٹ کریں ورنہ مطعون۔
تیرا نکتہ یہ کہ سیاسی گیم تو خوب بنی ہے مگر اس پورے عمل میں جمہوری عمل اور مزاج کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ سینیٹ الیکشن سے قبل ممبران کے بھاؤ تاؤ کی باتیں عام تھیں لیکن ایک رات قبل سامنے آنے والی ویڈیو اور آڈیو کی شہادت یہی ہے کہ اس پورے عمل میں روپے پیسے اور مفادات کا چابک دھڑلے سے استعمال ہوا۔ بلکہ اب کی بارفیوچر ٹکٹ وعدے کی کرنسی بھی شاید پہلی بار استعمال ہوئی جس پر مریم نواز کے بیان نے مہر تصدیق ثبت کر دی۔ اسیّ کی دہائی کے پرمٹ وپلاٹ، نوّے کی دہائی کے مڈنائٹ جیکال آپریشن سے لے کر اب یہ ویڈیو، آڈیوز اور ٹکٹو کرنسی، یہ رہا ہمارا پچھلے تیس پینتیس سال کے جمہوری سفر کا حاصل۔ منیر نیازی پھر یاد آئے:
ہوئی نجات سفر میں فریب ِ صحرا سے
سراب ختم ہوا اضطراب ختم ہوا
مگر ہماری سیاست میں ایک سراب ختم ہونے کے بعد بھی اضطراب ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔