چیف جسٹس آزاد کشمیر کا خطاب اور حقائق

عزت مآب جناب چیف جسٹس آزاد کشمیر راجہ سعید اکرم خان نے شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کے 62 ویں شریعہ تربیتی کورس کے شرکا سے خطاب میں ججوں کی خصوصیات اور عوام کی ان سے توقعات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’ججوں کو بولڈ ہونا چاہیے‘۔

وہ آئین کے محافظ ہیں اور قرآن پاک اور سیرت طیبہ میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔  یہ خیالات تو اپنی جگہ بالکل درست ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی عملی طور پر ایسا ہوتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ حقائق جمع کرنے کے مخصوص اور معروف تحقیقی اصول و قواعد ہوتے ہیں۔ پھر شہریوں کے اپنے تجربات اور مشاہدات بھی ہوتے ہیں۔  ہمارے معاشرے میں قانون و انصاف کا مذاق اڑایا جاتا ہے کیونکہ غلط اور صحیح کا فیصلہ طاقت کے بل بوتے پر ہوتا یے۔

پہلی بات ہے کہ ججوں کی تعیناتی سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ طاقت ور کا کیس تو فوری طور پر نمٹا دیا جاتاہے لیکن کمزور اور مظلوم سائلین تاخیری حربوں کا اس قدر شکار رہتے ہیں کہ بعض اوقات فریقین مر جاتے ہیں اور کیس چلتے رہتے ہیں۔ آزاد عدالتیں آزادانہ طور پر شیڈول ٹائم فریم طے کرتی ہیں لیکن ہمارے ہاں شواہد موجود ہوتے ہیں، کیس مکمل ہو جاتے ہیں مگر فیصلے لٹکا دیے جاتے ییں۔  پولیس پر سب سے بڑا الزام یہ ہوتا ہے کہ وہ رشوت اور سفارش کے بغیر کسی شہری کی درخواست درج نہیں کرتی۔ درج ہو جائے تو عمل نہیں ہوتا۔ عمل ہو جائے تو بھی تحقیقات مظلوم کو اپنے اخراجات ہر کرانی پڑتی یے۔ یعنی پولیس کے سفری اخراجات اور دیگر ناز نخرے بھی مظلوم کو ہی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک عدالت نے ایک ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کر کے اسے کوٹلی سے کھوئی رٹہ تھانے میں لے جانے کا حکم دیا۔   میں مری سے مظفرآباد جا رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے پولیس افسر بول رہا تھا جس نے کہا کہ ملزم سے بات کریں۔ ملزم نے کہا سر پولیس مجھ سے مجھے تھانے لے جانے کا کرایہ مانگتی یے۔ میں نے اسے کہا فون واپس پولیس افسر کو دو جس سے میں نے پوچھا اسے کس نے کہا ملزم کو تھانے لے جاؤ۔ پولیس افسر نے جواب دیا کہ جج صاحب نے حکم دیا ہے۔  میں نے کہا اسے جج صاحب کے پاس لے جاؤ اوران سے کرایہ مانگو۔ 

یہ ہے ہمارے نظام کی ہزاروں مثالوں میں سے ایک ہے۔  تجربات اور مشاہدات یہ بھی بتاتے ہیں کہ پولیس اگر کوئی کیس دیا نتداری  سے مکمل کر کے عدالت کے پاس بھیج بھی دے تو وہاں وکلا اور ججز اسے پسند نا پسند، معمولی مالی فوائد اور سیاسی بنیادوں پر لٹکا دیتے ہیں۔ اگر عدالت فیصلہ کر بھی دے تو حکومت اس پر اس وقت تک عمل درآمد نہیں ہونے دیتی جب تک اس کے حق میں فیصلہ نہ ہو۔  گویا کہ انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ ہیں جو قانون سازی اور اس کا نفاذ کرتے ہیں۔ 

ہر ادارے کی طرح عدلیہ میں بھی چند گنے چنے خوف خدا رکھنے والے ججز صاحبان موجود ہیں جو انصاف پر مبنی فیصلے کر بھی دیتے ہیں۔ لیکن نظام عدل اتنا کمزور ہے کہ عدالتیں اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کروا پاتیں۔  نظام عدل اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک ہر ادارہ اپنی حدود کے اندر رہ کر کسی مداخلت کے بغیر کام نہ کرے۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈڈیال میں ایک جھنڈا کیس چل رہا ہے جس میں تنویر احمد ایک صحافی گرفتار ہے۔  یہ ایک معمولی کیس تھا جو تھانے کے اندر ہی حل ہو سکتا تھا مگر سیاسی مداخلت کی وجہ سے اسے ایک عالمی کیس بنا دیا گیا۔  راجہ سعید اکرم خان  نے خود بھی بطور چیف جسٹس تنویر احمد کی درخواست ضمانت کی سماعت کی۔ جنہوں نے پہلے تو مختلف حیلے بہانوں سے سماعت کو ہی لٹکائے رکھا اور جب سماعت کی تو ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو درست قرار دے دیا کہ ضمانت سے ملزم کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ دوبارہ جھنڈا اتار سکتا یے۔ 

کیا اس فلسفے کی بنیاد پر جیل میں ایک بار چلے جانے  والے کو اس لئے بری نہیں کیا جائے گا کہ اس پر دوبارہ جرم کا شک ہے۔  سزا تو ہمیشہ جرم کے بعد دی جاتی ہے نہ کہ پہلے۔  ہمیں امید ہے کہ جس طرح جناب چیف جسٹس راجہ سعید اکرم صاحب نے بطور چیئرمین احتساب بیورو مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے جرآت مندانہ فیصلے کیے اسی طرح بطور چیف جسٹس بھی عدلیہ کا وقار بحال کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمت و جرات عطا کرے ۔ اگر وہ خود اپنے اس اعلی منصب سے انصاف نہیں کریں گے تو دوسرا کوئی نہیں کرے گا ۔