میانمار میں آمریت کے خلاف مظاہرے، دھرنا دینے والوں پر پولیس کا تشدد
- اتوار 07 / مارچ / 2021
- 4490
میانمار میں پولیس نے فوجی بغاوت کے خلاف جاری دھرنے کو ختم کرنے کے لیے سیکڑوں مظاہرین کے خلاف آنسو گیس استعمال کی۔ اس دوران کئی شہروں میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرین پر کریک ڈاؤن کیا۔ اتوار کے روز منڈالیا میں ہزاروں افراد پر مشتمل دھرنے کو ختم کروانے کے لیے میانمار پولیس نے آنسو گیس فائر کی۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک کے مرکزی شہر ینگون اور شمالی شان کے علاقے میں پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس اور اسٹن گرینیڈ فائر کیے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ تاریخی مندر کے قصبے بگن میں پولیس نے فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج ختم کرنے کے لیے فائرنگ کی۔ متعدد رہائشیوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ لائیو گولیاں فائر کی گئی تھیں۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ میانمار نامی ایک میڈیا گروپ کی ویڈیو میں مظاہرین پر فوجی اہلکار کا تشدد دیکھا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یکم فروری کو فوج کی حکومت کا تختہ الٹنے اور منتخب رہنما آنگ سان سوچی کو حراست میں لینے کے بعد سے سیکیورٹی فورسز نے میانمار میں روزانہ مظاہروں اور ہڑتالوں کے سلسلے میں 50 سے زائد افراد کو ہلاک کیا گیا۔ ایک احتجاجی رہنما نے مظاہرین سے کہا کہ یہ لوگ پرندوں اور مرغیوں کی طرح لوگوں کو مار رہے ہیں۔ ہم ان کے خلاف بغاوت نہ کریں تو کیا کریں؟ ہمیں بغاوت کرنا ہوگی۔
دارالحکومت اور تجارتی حب ینگون میں بڑے پیمانے پر احتجاج سے نظام زندگی درہم برہم اور ٹریفک کی روانی معطل ہے۔ مختلف شہروں میں مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جس پر فوجی بغاوت کے خلاف نعرے درج تھے اور وہ اپنی لیڈر کی رہائی اور حکومت کی بحالی کا مطالبہ کررہے تھے۔
ملک بھر میں فوجی بغاوت کی بڑھتی ہوئی مخالفت اور مظاہروں پر سرکاری ٹی وی نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ فوجی حکومت کی مخالفت غیر قانونی ہے۔ خیال رہے کہ میانمار کے فوجی جرنیلوں نے یکم فروری کو حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا۔ 75 سالہ آنگ سان سوچی سمیت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے درجنوں رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
جرنیلوں کا الزام ہے کہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔ ان انتخابات میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے بھاری اکثریت سے فتح حاصل کی تھی۔ میانمار میں فوج نے کئی دہائیوں تک حکومت کی ہے لیکن ایک دہائی قبل عوامی حکومت کو اقتدار سنبھالنے کا موقع دیا گیا تھا۔