مساوی حقوق کے لیے عورتوں کی جدوجہد

زندگی کے مختلف شعبوں میں مساوی حقوق کے حصول کے لئے خواتین کی منظم جدوجہد کا آغاز آج سے 112 سال قبل امریکہ میں ہوا۔1908میں ہزاروں امریکی خواتین صنفی امتیاز کے خاتمے، خواتین کے حق رائے دہی اورمساوی تنخواہوں کے مطالبات لے کر نیویارک کی سڑکوں پر نکلیں۔

 عالمی سطح پر پہلی بار 8مارچ 1914کو عورتوں کا دن منانے کا آغاز ہوا جب کہ 1975میں اقوام متحدہ نے 8مارچ کو خواتین کا عالمی دن قرار دے دیا۔خواتین کاعالمی دن منانے کا مقصد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ گھریلو، سماجی، معاشی اور سیاسی معاملات میں خواتین کی بھر پور شمولیت کی راہیں ہموار کرنا ہے۔تلخ حقائق یہ ہیں کہ ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط عورتوں کی جدوجہد کے باوجود دنیا کے بیشتر ممالک میں عورتوں کو مردوں کے مساوی انسانی حقوق نہیں مل سکے۔بیشتر مغربی ممالک میں خواتین کے حقوق کو قانون اور ریاست کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے جب کہ اس کے برعکس زیادہ تر غیر ترقی یافتہ اور پس ماندہ ممالک میں قانونی اور ریاستی سطح پر عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جا سکے۔

اگرچہ خواتین اور مردوں کو معیشت،صحت،تعلیم اور سیاست میں مساوی حقوق اور مواقع ملنے کی بنیاد پر مرتب کی گئی ورلڈ اکنامک فورم کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق برطانیہ سمیت کئی  مغربی ممالک میں بھی کسی نہ کسی حد تک صنفی تفاوت موجود ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان کا شماربدترین ممالک میں ہوتا ہے۔دو سال قبل ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق مالی اور قانونی عدم مساوات، نقل و حرکت کی آزادی، زچگی، گھریلو تشدد اور اثاثہ جات کے انتظام کے حقوق جیسے معاملات میں خواتین اور مردوں کو  100فیصد مساوی حقوق دینے والے چھ کے چھ ممالک براعظم یورپ سے تعلق رکھتے تھے۔متعددمغربی اور یورپی ممالک میں صنفی برابری کی شرح80فیصد سے زائد جب کہ جنوبی ایشا، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں صنفی مساوات کی شرح 50فیصد سے کم ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ صنفی عدم مساوات کئی ایک مغربی اور یورپی ممالک میں بھی موجود ہے تاہم پاکستان سمیت بہت سے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے مقابلے میں مغربی و یورپی ممالک کی صورت حال صنفی مساوات کے حوالے سے بہت بہتر ہے۔مغربی اور یورپی ممالک میں عورتوں پر صنفی مساوات کے حصول کے لئے جدوجہد کرنے پر کوئی پابندی نہیں لیکن پاکستان سمیت کئی ایک ممالک میں مساوی حقوق کے لئے عورتوں کی جدوجہد کو سخت  مخالفت کا سامنا ہے۔دنیا کے زیادہ تر ممالک میں عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر عورت مارچ ایک معمول کی بات ہے لیکن ہمارے ہاں گزشتہ تین چار سال سے شروع ہونے والے عورت مارچ کوشدید قسم کی مخالفت اور تنقید کا سامنا ہے۔ عالمی یوم خواتین پر دنیا بھر میں عورتیں مارچ کرتی ہوئی ان حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کرتی ہیں جو انہیں اپنے اپنے ممالک میں میسر نہیں لیکن پاکستان میں عورتوں کے مارچ میں پلے کارڈزاور پوسٹر ز پر درج نعروں کو مغربی پروپیگنڈا  اور فحاشی قرار دے کر سخت تنقید کی جاتی ہے۔پچھلے سال عورت مارچ کو رکوانے کے لئے باقاعدہ لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت میں مختلف مذہبی جماعتوں نے عورت مارچ کے مقابلے میں حیا مارچ بھی نکالا۔ مین سٹریم میڈیا میں عورت مارچ کی مخالفت کرنے والوں کی اب بھی کمی نہیں ہے۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ مسلم معاشرہ بالخصوص پاکستانی معاشرہ دنیا بھر میں ہونے والی سائنسی، فنی اور سماجی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت دکھانے میں مشہور رہا ہے۔عورت مارچ کے حوالے سے بھی ہمارے معاشرے کا مجموعی ردعمل انتہائی جارحانہ اور شدید مزاحمانہ ہے۔سیدھی اور سچی بات تو یہ ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے عورت مارچ کو ملنے والی مقبولیت نے ہمارے پدر شاہی معاشرے کے قدامت پسند طبقے کو ضرورت سے زیادہ ہی خوف زدہ کر دیا ہے۔دنیا کی تاریخ اور سماجی تغیر کا قانون تو یہی بتاتا ہے کہ عورتوں نے ایک وقت ہمارے جیسے قدامت پسند معاشروں میں بھی وہ مساوی انسانی حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی جانا ہے جو مہذب معاشروں کی خواتین آج حاصل کئے ہوئے ہیں۔انیسویں صدی تک برطانیہ سمیت مغربی ممالک میں بھی خواتین کو سماجی ومذہبی اقدار کے نام پر گھروں تک محدود رکھنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن مغربی اور یورپی ممالک کی خواتین نے یونیورسٹیوں میں تعلیم کا حق اور ووٹ کا حق حاصل کرتے ہوئے بتدریج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں مردوں کے مساوی حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھی۔ انیسویں صدی میں خواتین کے حقوق کی سرگرم سماجی رہنما سوسن بی انتھونی کے ایک مشہور قول کا مفہوم یہ تھاکہ "حقیقی جمہوریہ میں مردوں کو ان کے حقوق سے کچھ زیادہ نہیں ملتااور خواتین کو ان کے حقوق سے کچھ کم نہیں ملتا"۔ سوسن بی انتھونی کے قول کو سامنے رکھتے ہوئے جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج جہاں جہاں حقیقی جمہوریت ہے، وہاں وہاں صنفی مساوات کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے۔

اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں خواتین کے معاشی و سماجی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے نمایاں قانون سازی ہوئی ہے لیکن قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے سے قانونی اور عدالتی نظام بھی معاشرے میں عورتوں کے مقام میں قابل ذکر اضافہ کرنے میں مددگار دکھائی نہیں دے رہا۔مردانہ بالادستی کے اصول پر قائم ہمارے معاشرے میں خواتین کو مساوی حقوق کی جدوجہد میں کئی ایک چیلنجز کا سامنا ہے۔ مردانہ بالادستی کے اعتقادات پر مبنی نظام میں مرد کی فوقیت اور عورت کی کمتر حیثیت کو اس طرح سے اجاگر کیا جاتا ہے کہ ان پڑھ  اور کم پڑھی لکھی روایتی خواتین بھی یہ یقین کر لیتی ہیں کہ مردوں کو نہ صرف تشدد کے ذریعے خواتین کو قابو میں رکھنا چاہیے بلکہ مرد رقم اور جائیداد کی ملکیت کی بنا پر خواتین کو قابو میں رکھنے پر قادر ہیں۔مردانہ بالادستی کے اصول پر قائم ہمارے معاشرے میں عورتوں کو جہاں ایک طرف صنف کی بنیاد پر گھریلو تشدد کا سامنا ہے، وہیں دوسری طرف اسے ازدواجی معاملات میں تولیدی صحت کے حقوق حاصل نہیں۔اس کے علاوہ گھر سے باہر کام کرنے والی عورتوں کوسرکاری و پرائیوٹ سیکٹر میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے جن میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے،یکساں اجرت کی پالیسی کی خلاف ورزی، چھٹیوں اورپروموشن معاملات میں جانبددارانہ پالیسی کا سامنا، ڈے کیئر سینٹرز کی عدم موجودگی اورٹرانسپورٹ کے مسائل قابل ذکر ہیں۔

سرکاری اور پرائیوٹ شعبے میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کی شکایات عام ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد خواتین کی ملازمت کے حق میں نہیں۔ اپنے وراثتی حقوق کے حصول کے لئے قانونی چارہ جوئی کرنے کی جرات کرنے والی خواتین کو خاندان سے قطع تعلق سمیت متعدد دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔