حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی براہ راست کوریج کی مخالفت کردی
- سوموار 08 / مارچ / 2021
- 5750
وفاقی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسی نظر ثانی کیس عدالتی کارروائی کی براہ راست کوریج سے متعلق درخواست پر حکومت نے مخالفت کر دی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بنچ نے کی۔ بنچ کے دیگر اراکین میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس امین الدین خان شامل ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ جو نقطہ مرکزی کیس میں نہ اٹھایا گیا ہو وہ نظرثانی کیس میں نہیں اٹھایا جا سکتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست قابل سماعت نہیں ہے جبکہ کسی صحافی یا صحافتی تنظیم کی طرف سے براہ راست کوریج کی کوئی درخواست نہیں دی گئی۔ براہ راست کوریج کی اجازت دینا پالیسی کا معاملہ ہے.
دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، ہم ویڈیو لنک کی ٹیکنالوجی استعمال کرکے بلوچستان اور کے پی کے وکلا کو اسلام آباد میں بیٹھ کر سنتے ہیں۔ براہ راست کوریج دینے یا نہ دینے کا خالصتاً اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت سپریم کورٹ سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ آپ کا کام صرف معاونت کرنا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیاوفاقی حکومت کا بھی یہی مؤقف ہے کہ یہ جوڈیشل اختیار نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا انتظامی اختیار ہے۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ اگر وفاقی حکومت کو براہ راست کوریج کا اختیار نہیں تو کسی سائل کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بتائے کہ سپریم کورٹ کو کیا کرنا ہے۔ انہوں نے ریماکس دیے کہ عدالت میں گنجائش کم ہونے کی صورت میں کیا سپریم کورٹ دیگر کمرہ عدالتوں میں براہ راست کوریج کا بندوبست کرسکتی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اس وقت پوری دنیا ایک عالمی گاؤں کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ گوادر میں بیٹھے شخص کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ کمرہ عدالت کی کوریج سن اور دیکھ سکے، پاکستان کے دور دراز علاقے میں رہنے والا پاکستانی مالی مشکلات کے سبب سپریم کورٹ نہیں آسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا منہ زمین میں دبایا ہوا ہے کہ جو چل رہا ہے ایسے ہی چلے گا۔ نہ آپ کے پاس ایسا راز ہے نہ ہمارے پاس کوئی ایسا راز ہے جس کی ممانعت ہو۔ اگر کسی جج کی طرف سے بدتمیزی کی گئی ہو تو وہ بھی پبلک ہونی چاہیے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی وکیل یا سرکاری وکیل کی طرف سے بد تمیزی ہو تو وہ بھی پبلک ہونی چاہیے۔ عوام کو عدالتی فیصلوں پر رائے دینے کا حق ہونا چاہیے، ہم کیوں چھپ رہے ہیں کیا وجوہات ہیں؟ سب کچھ پبلک ہونا چاہیے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے روسٹرم پر آکر کہا کہ حکومت میڈیا کو دبا رہی ہے۔ پہلے حکومت نے میڈیا کو تباہ کردیا اب یوٹیوب کے پیچھے پڑجائیں گے۔ مجھے کھلے عام بدنام کیا جا رہا ہے جبکہ کنٹرول میڈیا کے ذریعے میرے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ اگر کوریج برائے راست ہو تو سب دیکھیں گے کہ کیا حق ہے اور کیا سچ ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ یہ حق اور سچ سے ڈرتے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ میں آپ سے پرائیوٹ نہیں مل سکتا ورنہ پرائیوٹ مل کر میں آپ کو بتاتا آپ کو بھرپور کوریج مل رہی ہے۔ بعدازاں عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت 17 مارچ تک ملتوی کردی۔