عالمی یومِ خواتین کے موقع پر مختلف شہروں میں عورت مارچ کا انعقاد

  • سوموار 08 / مارچ / 2021
  • 5570

پاکستان کے مختلف شہروں میں عالمی یومِ خواتین کے موقع پر عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ سال 2018 میں سب سے پہلے کراچی میں عورت مارچ کا آغاز ہؤا تھا۔ جس کے بعد اگلے سال مزید شہروں  لاہور، ملتان، فیصل آباد، لاڑکانہ اور حیدرآباد میں بھی عورت مارچ ہؤا تھا۔ رواں برس بھی کراچی، لاہور اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں ان کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

ہر شہر میں عورت مارچ کے منتظمین نے اپنا منشور پیش کیا ہے کراچی کے منتظمین نے اپنے منشور میں پدر شاہی تشدد، لاہور کے منشور میں ہیلتھ کیئر ورکرز اور خواتین کی صحت کو اپنا موضوع بنایا۔ لاہور میں عورت مارچ کے سلسلے میں ریلی کا آغاز لاہور پریس کلب سے ہوا جو پنجاب اسمبلی کے سامنے سے ہوتا ہوا پی آئی اے کی عمارت تک پہنچی۔ اسلام آباد میں بھی بڑی تعداد میں خواتین نے خود کو درپیش مسائل اور حقوق کے تحفظ کے لیے عورت مارچ میں شرکت کی۔

اس دوران کراچی سمیت مختلف شہروں میں جماعت اسلامی خواتین ونگ کے زیر اہتمام عالمی یومِ نسواں کی نسبت سے 'خواتین واک' کا اہتمام کیا گیا جس میں خواتین کارکنان شریک ہوئیں۔ کراچی کے پریس کلب پر بڑی تعداد میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والی خواتین سے اس واک میں شرکت کی۔

واک میں شرکت کرنے والی خواتین نے جو بینر اٹھا رکھے تھے ان پر 'شوہر اور بیوی مدِ مقابل نہیں، معاون و مددگار ہیں'، 'ہمارے خاندانی نظام کی تباہی ہمارے دشمن کا ایجنڈا ہے' اور 'مہر وراثت عزت دو مجھ کو گھر پر رہنے دو' کے نعرے درج تھے۔

صدر مملکت عارف علوی نے یوم خواتین پر ایک پیغام میں بہتر صحت، تعلیم کی فراہمی اور مالی طور پر خود انحصاری ذریعے پاکستانی خواتین کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی ثقافت انتہائی سنہری ہے لیکن علاقائی ثقافت نے وراثت کے معاملے کو خراب کیا اور پاکستان میں واقعی خواتین کو وراثت نہیں ملتی۔ جس کی وجہ سے دنیا میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ شاید پاکستان میں قوانین نہیں تھے لیکن یہاں قوانین موجود تھے ان پر عملدرآمد اب ہورہا ہے۔