عالمی یومِ خواتین پر ایک دھمال
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 08 / مارچ / 2021
- 10670
آج 8 مارچ ہے۔ خواتین کے حقوق کا علمی دن۔ خواتیں کون؟ ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں، بہوئیں،خالائیں، پھوپھیاں، استانیاں اور گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں اور کاکیاں ۔ میں ان سب کو عالمی یومِ نسواں پر سلام و احترام پیش کرتا ہوں اور پرنام کرتا ہوں۔
مگر ہم نے جو یہ کہتے تھکتے نہیں کہ اسلام نے عورت کو سب سے زیادہ حقوق دیے ہیں ، کبھی بیٹیوں اور بہنوں کو موروثی جائداد میں حصہ دینا خوشی سے گوارا نہیں کرتے۔ اگر وہ مانگ لیں تو اُن کے خلاف خانہ جنگی کا مورچہ سنبھال لیتے ہیں اور اگر وہ عدالت کے ذریعے اپنا حق حاصل کر لیں تو اُنہیں جیتے جی مردہ تصور کرلیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اسلام میں عورت کے حقوق کا قصیدہ پڑھنا بند نہیں کرتے اور نہ ہی بھولتے ہیں۔ ہمیں اسلام سے مونہہ زبانی طور پر والہانہ محبت جو ہوئی۔ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عورت نے اسلام کی ترویج میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ حضرت خدیجتہ الکبریٰ ؓ وہ عظیم خاتون تھیں ہیں اور رہیں گی جنہوں نے سب سے پہلے اسلام کا خیر مقدم کیا اور پہلی وحی کی آمد کے بعد اپنے شوہرِ نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ورقہ بن نوفل سے رابطہ کر کے اُن کے لیے بشارت حاصل کی اور پھر اپنا مال اسلام کی اشاعت کے لیے وقف کردیا۔ اُن کی لحد مبارک منور ہے۔ اور پھر وہ لوگ جو عورت کی گواہی کو آدھی قرار دیتے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی بیان کی ہوئی احادیث پر انگشت نمائی نہیں کرسکتے ۔ یہ اسلام میں عورت کے مقام اور احترام کی گواہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور عورت کا ذکر بھی ضروری ہے جس نے حضرت عمر ؓ کی تقدیر بدل تھی اور وہ تھیں اُن کی اپنی سگی بہن۔ اس واقعے کو اقبال نے عورت کی عظمت کے باب میں رقم کیا ہے۔ عورت سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں:
نمی دانی کہ سوزِ قرآتِ تو
دگر گوں کرد تقدیرِ عمر را
تو نہیں جانتی کہ تیری قرآن خوانی کے سوز نے عمر ؓ کی تقدیر کو بدل دیا تھا۔ یہ معجزاتی واقعہ اسلام کی تاریخ کا روشن باب ہے اور بیشتر لوگ اس سے واقف ہیں جس کو دوہرانا ضروری نہیں۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی ثقافت میں ماں کو بہت اونچا درجہ تو دیتے ہیں، ماں کی شان کو دوبالا کرنے کے لیے فلمیں بناتے ہیں اور ماں کی شان میں شاندار نظمیں لکھتے ہیں مگر اس کے باوجود ہماری اصل کیفیت یہ ہے کہ ہمارے ہاں چند انفرادی مثالوں کو چھوڑ کر ماں کی حیثیت گھریلو خادمہ سے زیادہ نہیں۔البتہ بعض طبقات میں بیگم صاحبائیں ایک الگ مقام و مرتبے کی حامل ہوتی ہیں جو اسلامی تعلیم کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے طبقاتی مقام اور دولت مندی کی وجہ سے منفرد اور طاقت ور نظر آتی ہیں جن کو خانگی امور میں حتمی فیصلوں کا حق حاصل ہوتا ہے۔ جب کہ دوسری طرف ہمارا روزمرہ یہ رہا ہے کہ کم سن گھریلو خادمائیں ججوں تک کے گھروں میں بُری طرح پٹتی ہیں۔
ہم جو اسلام میں سب انسانوں کے برابر ہونے کا نعرہ لگاتے ہیں، صرف اس بات پر کہ نوکرانی نے مالکن کی پلیٹ کو چھوا کیوں، مار مار کر اُسے لہو لہان کردیتے ہیں۔ پسند کی شادی کرنے پر خود ہی عدالت بن جاتے ہیں اور لڑکی کو سزائے موت سنا دیتے ہیں۔ حالانکہ شادی کا پیغام بھیجنے کا حق عورت کو حاصل ہے۔ اور ہم یہ بات بھول جاتے ہیں ہمارے نبی ﷺ کو نکاح کا پیغام حضرت خدیجہ ؓ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ لیکن ہماری بیشتر سماجی قدریں غیر اسلامی ہیں جن پر ہم ثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے ہیں اور اُنہیں اسلامی قرار دے چکے ہیں۔ اور ان غلط روایتوں پر عمل پیرا ہونے کے وقت یہ بالکل بھول جاتے ہیں کہ عورت اور مرد کے دو طرفہ رشتے کے باب میں رب تعالیٰ کا ارشاد کیا ہے۔ سورہ روم میں مذکور ہے:
تمہارے رب نے تمہارے لیے تم میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم اُن سے سکون حاصل کرو اور دونوں کے درمیان محبت اور رحمت کا رشتہ مقرر کیا۔ عورت اور مرد کے ہم جنس ہونے ا کا ذکر سورہ ء نسا میں تفصیل سے کیا گیا اور سب سے اعلی اور ارفع بات یہ کہی گئی کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ مجھے اس پر بھائی سحر انصاری کا ایک شعر یاد آ گیا ہے۔ فرماتے ہیں:
گاہ پہنا ہے تجھے خلعتِ زریں کی طرح
گاہ پیوند کے مانند چھپایا ہے تجھے
ایک دوسرے کا لباس قرار دیے جانے کے بعد یہ بات سمجھ میں آجانی چاہیے کہ لباس کے بغیر انسانی جسم برہنہ ہوتے ہیں۔ اور کوئی نہیں چاہتا کہ اس کا لباس میلا، پھٹا ہوا یا بد وضع ہو۔ اسی لیے جب عورتیں لباس کے انتخاب میں رنگوں اور فیشن کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں تو وہ اپنے اُس لباس کو فراموش نہیں کرتیں جو رب نے ان کے لیے تجویز کیا ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ چانچہ عالمی یومِ خواتین کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کا احترام برابر روا رکھیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کا لباس، ایک دوسرے کا وقار اور ایک دوسرے کا پردہ ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے اسلامی معاشرتوں نے بطور مزدور، محت کش اور کارکن عورت کے احترام کو پیشِ نظر نہیں رکھا۔ گھر میں عورت ایک نوکرانی، ایک خاکروب، ایک باورچن، ایک دھوبن اور ایک تیمار دار ہوتی ہے۔ ایک ہی عورت زندگی کے تمام شعبوں کی نگران بھی ہوتی ہے۔ ان سب کاموں کے لیے اگر مرد کو خادمہ رکھنی پڑے تو اس کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو مگر شادی اس کے تمام معاملات کا شافی حل ہوتی ہے اور اسے زندگی کی بہت سی مشکلوں سے نجات دے دیتی ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ عورت کے حقوق کی بات سب سے پہلے امریکہ کی سوشلسٹ تحریک نے اُٹھائی۔ 1910 کی بین الاقوامی سوشلسٹ کانفرنس میں یہ طے پایا کہ عورتوں کا عالمی دن منایا جائے حالانکہ تمام دن اور تمام راتیں انہی کی ہیں اور انہی کے دم سے ہیں اور انہی کے نام ہیں۔ اسی پر شاعر نے کہا تھا کہ:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
1917 میں سوویت روس میں 8 مارچ کو خواتین کے حقوق کا دن قرار دیا گیا اور عام تعطیل کا اعلان ہوا۔ 1967 میں تمام سوشلسٹ ممالک نے اس دن کو عالمی یوم، خواتین قرار دے دیا اور بالآخر 1977 میں انجمن اقوامِ متحدہ نے اس دن کو عالمی یومِ خواتین قرار دے دیا۔ عالمی یومِ خواتین کا مطلب یہ ہے کہ دنیا پھر کی حوا زادیاں جنسی اعتبار سے ایک ہیں، برابر کے انسانی حقوق رکھتی ہیں ، اُن کی ضرورتیں اور معاملات ایک جیسے ہیں اور وہ یکساں سماجی آزادی اورسہولتوں کی حقدار ہیں۔ عورت سے برابری کا سلوک نہ کرنا اس کے بنیادی انسانی حق پر ڈاکہ ڈالنا ہے جو گناہِ کبیرہ ہے ۔ عورت کا اصل منصب یہ ہے کہ وہ ننگ و ناموس اور مال و اولاد کی محافظ اور مہتمم ہے ۔ اور جب انجمن اقوام متحدہ نے اس دن کو بین الاقوامی یومِ خواتین قرار دے رکھا ہے تو ہم من حیث الاُمت اور پاکستانی قوم اس کی تقریبات میں صدقِ دل سے شریک ہیں اور دنیا بھر کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو محبت کے گلاب، احترام کی خوشبو اور سلام پیش کرتے ہیں۔ اور سورہ ء نساء سے اخذ ہدایت پر اس گفتگو کا اختتام
کرتے ہیں کہ:
لوگو!اپنے پروردگار کے قوانین کی پابندی کرو جس نے تم کو نفسِ واحدہ سے پیدا کیا، اور اُس سے اُس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد و زن پیدا کر کے روئے زمین پر پھیلا دیے اور خدا سے ڈرو جس کے نام پر تم عورتوں سے رشتہ جوڑتے ہو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اس لیے باہمی رشتے توڑنے سے گریز کرو ۔