پاکستان میں کورونا کیسز میں اضافہ، کئی شہروں میں تعلیمی ادارے بند
- بدھ 10 / مارچ / 2021
- 4730
پاکستان کی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث مخصوص شہروں میں ایک مرتبہ پھر تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملک بھر میں کئی پابندیاں دوبارہ نافذ کی گئی ہیں۔
اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کے بعد وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ پاکستان بھر میں شام چھ بجے تفریحی پارک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ شادیوں اور دیگر ان ڈور تقریبات سمیت مزاروں کو کھولنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔ اِسی طرح سنیما گھروں کو 15 مارچ 2021 سے کھولنے کا فیصلہ بھی واپس لیا گیا ہے۔ جب کہ ہوٹلوں کے اندر کھانے پر بھی پابندی عائد ہو گی۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ اسلام آباد میں دفاتر میں 50 فی صد عملے کی حاضری کے فیصلے پر بھی عمل درآمد جاری رہے گا۔
صوبائی حکومتیں وبا کے پھیلاؤ کے تناسب سے اسمارٹ لاک ڈاؤن لگاتی رہیں گی۔ تمام فیصلوں پر 12 اپریل کو نظرِ ثانی کی جائے گی۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ملک بھر میں ماسک پہننے کے فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ پاکستان بھر میں تمام تجارتی سرگرمیاں رات 10 بجے ختم کر دی جائیں گی۔
پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ پاکستان بھر میں پانچ کروڑ بچے تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں اور یہ ایسا شعبہ ہے جس پر بیماری کا براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں حالات بہتر ہیں۔ وہاں کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ 50 فی صد حاضری کے ساتھ طلبہ روز تعلیمی اداروں میں آئیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں کچھ مسائل نظر آئے ہیں۔ اس لیے ملتان، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، اسلام آباد اور راولپنڈی میں پیر 15 مارچ سے تمام تعلیمی ادارے دو ہفتوں کے لیے بند کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ان تعطیلات کو بہار کی چھٹیاں قرار دیا۔
شفقت محمود نے بتایا کہ کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے لیے بھی یہی فیصلہ متوقع ہے جب کہ خیبرپختونخوا میں اس فیصلے کا اطلاق صرف پشاور کے لیے ہو گا۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم نے کہا کہ جن اداروں میں امتحانات ہو رہے ہیں وہ جاری رہیں گے۔ لیکن صوبائی حکومتیں ان معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیتی رہیں گی۔ جہاں ضرورت محسوس ہوئی کہ حالات خراب ہو رہے ہیں وہاں تعلیمی ادارے بند کیے جا سکتے ہیں۔
مخصوص شہروں میں تعلیمی ادارے بند کیے جانے پر والدین کی تنظیم کے لاہور سے ایک رکن محبوب عالم سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اسکول بند نہیں کرنے چاہئیں۔ بلکہ کم تعداد کے ساتھ مختلف شفٹوں میں تعلیمی اداروں کو چلانا چاہیے۔
دوسری جانب ملک بھر میں 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔ محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر پنجاب کے سیکریٹری محمد عثمان یونس کے مطابق صوبے بھر میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر 104 ویکسی نیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔
صوبے بھر میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد بزرگ شہری کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لگائی جانے والی ویکسین کے لیے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق بھی 60 سال سے زائد عمر کے رجسٹرڈ شہریوں کو ویکسین لگانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس کے لیے شہریوں کو بذریعہ فون پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں بھی اسپتالوں میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں چار ہزار سے زیادہ بزرگ شہریوں نے کورونا ویکسی نیشن کے لیے خود کو رجسٹرڈ کرایا ہے۔