پشاور ہائیکورٹ نے ملک بھر میں ٹک ٹاک بند کرنے کا حکم دےدیا

  • جمعرات 11 / مارچ / 2021
  • 4740

پشاور ہائی کورٹ نے انٹر نیٹ ایپ ٹک ٹاک کو آج سے ملک بھر میں بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔  چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ٹک ٹاک کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور درخواست گزار وکیل نازش مظفر اور سارہ علی عدالت میں پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس پشاور نے ریمارکس دیے کہ ٹک ٹاک پر جو ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہے وہ ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیے کہ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے لہذا اسے فوری طور پر بند کیا جائے۔  ٹک ٹاک سے سب سے زیادہ نواجون متاثر ہورہے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ٹک ٹاک کے بارے میں جو رپورٹ مل رہی ہیں وہ افسوسناک ہیں۔

چیف جسٹس نے ڈی جی پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ ٹک ٹاک کا آفس کہاں پر ہے جہاں سے یہ کنٹرول ہوتا ہے۔  بتایا گیا کہ ٹک ٹاک کا ہیڈ آفس سنگاپور میں ہے، پاکستان میں اس کا آفس نہیں ہے۔ اسے دبئی سے کنٹرول کیا جارہا ہے۔  اس پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ڈی جی پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ کیا ٹک ٹاک ایپ کو بند کرنے سے ان  کو نقصان ہوگا؟ جس پر ڈائریکٹر جنرل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے جواب دیا کہ جی، ان کو نقصان ہوگا۔

ڈی جی پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ٹک ٹاک کے عہدیداروں کو مواد کے سلسلے میں درخواست دی ہے لیکن ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔  جس پر چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیے کہ جب تک ٹک ٹاک کے عہدیدار پی ٹی اے کی درخواست پر عمل نہیں کرتے، غیر اخلاقی مواد روکنے کے لیے تعاون نہیں کرتے، اس وقت تک ٹک ٹاک کو بند کیا جائے۔

بعدازاں پشاور ہائیکورٹ نے ڈی جی پی ٹی اے کو ٹک ٹاک ایپ کو آج سے بند کرنے کا حکم دے دیا۔ خیال رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے گزشتہ برس 9 اکتوبر کو فحش مواد کو نہ ہٹانے پر ٹک ٹاک کو ملک بھر میں بند کردیا تھا۔ اس سے قبل پی ٹی اے نے ستمبر میں ٹک ٹاک انتظامیہ کو متنازع اور نامناسب مواد کو ہٹانے سے متعلق احکامات جاری کرتی ا رہی تھی اور ایک موقع پر پی ٹی اے نے چند ایپس کو بند بھی کیا تھا۔

پی ٹی اے نے جولائی میں بھی ٹک ٹاک انتظامیہ کو نامناسب مواد پر ٹک ٹاک کو 'حتمی وارننگ' جاری کی تھی۔ علاوہ ازیں گزشتہ چند ماہ میں پی ٹی اے نے متعدد بار ایپ انتظامیہ کو غیر اخلاقی ویڈیوز ہٹانے کے نوٹسز جاری کیے تھے۔

پی ٹی اے کی جانب سے نوٹسز جاری ہونے کے بعد ٹک ٹاک نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پاکستان سے درجنوں متنازع ویڈیوز کو ہٹادیا ہے جب کہ وہ اخلاقی اور اچھا مواد تیار کرنے کے لیے حکومت اور مواد تیار کرنے والے افراد کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

ٹک ٹاک کو بند کرنے کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں عام شہری کی جانب سے درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔ جولائی میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ملک میں اس اپیلی کیشن کے استعمال کرنے والے 10 سے زائد افراد کی موت بھی واقع ہوچکی ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن سوشل میڈیا پر ریٹنگ اور شہرت کے لیے پورنوگرافی پھیلانے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔

رواں برس فروری میں گارڈن میں انکل سریا ہسپتال کے قریب مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک خاتون ٹک ٹاکر اور دیگر 3 افراد کو قتل کردیا تھا جس کے بعد کراچی کی مقامی عدالت نے مبینہ قتل کے مقدمے میں نامزد خاتون کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔