سینیٹرز کو اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ نہ ڈالنے کا کہا جارہا ہے: مریم نواز

  • جمعرات 11 / مارچ / 2021
  • 4120

پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ سینیٹ میں چیئرمین کے انتخاب کے لیے ان کے سینیٹرز کو اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ نہ ڈالنے کا کہا گیا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مریم نواز نے لکھا: ’ہمارے کچھ سینیٹرز کو فون کرکے کہا گیا کہ وہ پی ڈی ایم کے امیدوار کو ووٹ نہ دیں۔ اس میں سے کچھ کالز بطور شواہد ریکارڈ کی گئی ہیں۔‘ مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں یہ تو واضح نہیں کیا کہ یہ کالز کس کی جانب سے کی گئیں تاہم حال ہی میں ان کے دو سینیٹرز کو اغوا کیے جانے والے الزامات کے تناظر میں سوشل میڈیا صارفین ریکارڈ کی جانے والی مبینہ کالز کو نشر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مریم نواز کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کل جمعرات کو سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب ہونے والا ہے۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے سینیٹ میں حکومت کے حمایتی سینیٹرز کی اقلیت کے ساتھ جیت کو ممکن بنانے سے متعلق سوال پر ایک نجی ٹیلی وژن پر کہا تھا کہ وہ جیت کے لیے ہر ہتھکنڈا استمعال کریں گے۔ اور پی ڈی ایم کو جیتنے نہیں دیں گے۔

اس وقت سب سے اہم سیاسی سرگرمی نئے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہے۔ حکومت نے 12 مارچ کو ہونے والے اس انتخاب کے لیے تین سال سے چیئرمین سینیٹ رہنے والے بلوچستان عوامی پارٹی کے صادق سنجرانی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

صادق سنجرانی کے خلاف بطور چیئرمین سینیٹ اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی جو ناکام رہی تھی۔ اس وقت بھی سینیٹ میں اپوزیشن کو اکثریت حاصل تھی اور یہ بات اب تک معلوم نہیں ہو سکی کہ صادق سنجرانی اکثریت نہ رکھنے کے باوجود کن ارکان سے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن اتحاد کو اکثریت حاصل ہے مگر یہ انتخابات اس قدر دلچسپ ہوتے ہیں کہ یہاں اکثریت رکھنے کے باوجود شکست بھی مقدر بن جاتی ہے۔ شاید اس کی بڑی وجہ سینیٹ میں خفیہ رائے شماری کا طریقہ ہے۔

اس وقت اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر وزیر اعظم عمران خان کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دینے کے بعد یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یوسف رضا گیلانی کو نہ صرف اپوزیشن کا مکمل اعتماد حاصل ہے بلکہ ان کی جیت پر اپوزشین کی تمام جماعتیں جشن بھی مناتی نظر آ رہی ہیں۔