حقوق نسواں اور انسانی مساوات؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 11 / مارچ / 2021
- 13880
آٹھ مارچ ہر سال پاکستان سمیت پوری دنیا میں انٹرنیشنل ویمن ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ویمن مارچ کے ذریعے حقوق نسواں کے حوالے سے عامۃ الناس میں شعوری آگہی و بیداری کی کاوشیں کی جاتی ہیں۔
عورت مارچ میں جس طرح کے سلوگن یا مطالبات اٹھائے جاتے ہیں۔ ہمارے جیسے روایتی معاشروں میں کچھ عناصر ان پر اپنے تحفظات بھی ظاہر کرتے ہیں۔ بعض مراحل پر مزاحمتی صورتحال بھی پیدا ہو جاتی ہے جیسے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ایک سلوگن خاصا متنازع چلا آ رہا ہے۔ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ اس کی مخالفت دو تین حوالوں سے کی جاتی ہے۔ اول یہ کہ میرا جسم میری مرضی غیر شائستہ سلوگن ہے، معترضین کی نظروں میں اس سے ایسی مادر پدر آزادی کامطالبہ جھلکتا ہے جو شاید ہمارے جیسے قدامت پسند سماج میں اخلاقی ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایسے معترضین بھی ہیں جن کی نظروں میں مذہبی حوالے سے اس نوع کااعتراض بنتا ہے کہ جس خدا نے ہمارے جسم و جان کو تخلیق کیا ہے، اس پر مرضی بھی اسی کی چلے گی۔ ان کا استدلال ہے کہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کہنے کی بجائے کہا جائے کہ میرا جسم خدا کی مرضی ۔ ’’خدا کی مرضی‘‘ سے تقاضا یہ ہے کہ شریعت کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے احکام شریعہ کی مطابقت میں زندگی گزاری جائے۔ اگر شرعی تقاضا ہے کہ اپنے جسم کا ہی نہیں چہرے کا بھی پردہ کیا جائے تو اس سے سرمو انحراف نہیں ہونا چاہیے۔
ہمارے سماج میں ایسے خواتین و حضرات بھی موجود ہیں جو خواتین اور مردوں کے مخلوط مارچ یا احتجاج کو بے حیائی کےمعنوں میں لیتے ہیں۔ خواتین مارچ ہو یا ویلنٹائن ڈے وہ ان کے بالمقابل یوم حیا چادر ڈے یا اسی طرح حجاب و نقاب کے مطالبات شروع کر دیتے ہیں، ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو یہ دلائل دیتے ہیں کہ آخر خواتین کون سے حقوق اور آزادیاں چاہتی ہیں۔ مکمل ضابطہ حیات نے جب تمام کے تمام حقوق صدیوں قبل انہیں تفویض کر دیے ہیں جو حرف آخر ہیں تو اب وہ مزید کیا چاہتی ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ شکر و سپاس کے ساتھ ماں بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیتوں سے اپنے حقوق و فرائض ادا کریں۔ نت نئے مطالبات اور شگوفوں سے پرہیز کریں۔ ہمارے روایتی سماج میں خواتین کو بہت زیادہ عزت و احترام پہلے سے حاصل ہے۔ مغربی سماج نے تو ان پر دوہری ذمہ داریاں ڈالتے ہوئے ان کا بہت برے طریقے سے استحصال کیا ہے اور ایک نوع کی صنفی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ جسے ہمارا سماج کسی صورت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔
اس کے برعکس خواتین مارچ کے حمایتیوں کا استدلال ہے کہ اگر ہم تاریخی حوالوں سے مختلف ادوار یا تہذیبوں کا جائزہ لیں تو جس قدر قدامت میں چلتے چلے جائیں گے خواتین کا استحصال بڑھتا ہوا دکھائی دے گا کیونکہ قدیم ادوار میں عزت یا برتری کا معیار جسمانی مضبوطی و طاقت تھی جو زیادہ جنگجو یا لڑنے والاہوتا تھا، اس کی قدرومنزلت اس تناسب سے ہوتی تھی۔ بائیبل کے مطابق حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ عورت مرد کی مرہون منت یا اس کا ضمیمہ ہے، اسے چاہئے کہ وہ مرد کی مطابقت میں اس کی تابع فرمان بن کر رہے بلکہ بائیبل تو یہاں تک کہتی ہے کہ خدا نے پہلے یہ چاہا کہ عورت کو مرد کے پاؤں کی ہڈی سے بنائے مگر پھر پسلی سے بنایا تو اس میں جو اصل مدعا ہے وہ عورت کو مرد کے بالمقابل کمتر خیال کرنے کے حوالے سے واضح ہے۔
گزرتی صدیوں کے ساتھ جوں جوں انسانی شعور مجموعی طور پر اوپر اٹھا ہے ، انسانی حقوق کا ادراک بھی اس نسبت سے بڑھا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب انسانوں کو لونڈیاں اور غلام بنانا اور ان کی خرید و فروخت کرنا غیر اخلاقی غیر انسانی یا کسی بھی درجے کی گھٹیا حرکت خیال نہیں کی جاتی تھی۔ لیکن آج کا انسانی شعور کسی بھی صورت ایسے ظلم و استحصال کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، یہی ارتقاء خواتین کے حقوق میں بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ آج کا انسانی شعور اور سماج اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ انسانوں کے درمیان جس طرح نسلی یا مذہبی امتیازات کا خاتمہ کیا جائے گا۔ اسی طرح جنسی یا صنفی امتیاز کا کلی خاتمہ کرتے ہوئے مرداور عورت کے درمیان مساوی حیثیت و حقوق کی سوچ کو پوری دنیا میں منوایا جائے گا۔ مہذب دنیا اس نظریے کو بڑی حد تک منوا چکی ہے جبکہ بہت سے رجعت پسند روایتی معاشروں میں ہنوز مختلف مقدس حوالوں سے خواتین کا استحصال جاری و ساری ہے۔ ایسی سوچ کے حاملین کو فکر و تدبر کے ساتھ غور کرنا چاہئے کہ کسی بھی انسان کا مرد یا عورت پیدا ہونا، اس کی اپنی مرضی سے نہیں ہوتا ہے یہ تو قدرت کی تخلیق ہے۔ اگر کوئی انسان مرد یا عورت سے ہٹ کر پیدا ہو گیا ہے جسے ہمارے سماج میں خواجہ سرا یا کچھ اور کہا جاتا ہے تو اس میں اس بیچارے کا کیا قصور ہے؟ جس پر انسانی سماج اسے دھتکارے یا کمتر خیال کرے، انسان ہونے کے ناتے تمام انسان بلا کسی صنفی امتیاز کے برابر ہیں۔ سب مساوی حقوق کے ساتھ انسانی وقارو احترام کے حقدار ہیں، لہٰذا انہیں مساوی حقوق ملنا انسانیت کا سب سے بڑا فطری تقاضا ہے۔
قانون وراثت ہو یا انسانی زندگی کے ایک سو ایک معاملات و تنازعات، کسی بھی انسان کا کسی بھی حوالے سے استحصال ظلم و بے انصافی قرار پائے گا۔ سماجی یا اخلاقی اقدار صدیوں سے جو بھی چلی آ رہی ہے اگر وہ ظلم و جبر اور بے انصافی و استحصال پر استوار ہیں تو انہیں جوتے کی نوک پر رکھا جائے گا۔ مہذب سماج کی یہ ذمہ داری ہے کہ انسانی مساوات کے برعکس بنائے گئے تمام قوانین و ضوابط کا قلع قمع کرتے ہوئے از سر نوع ایسی قانون سازی کریں جس میں نسلی و مذہبی امتیازات کی طرح جنسی و صنفی امتیازات کا بھی کلی خاتمہ کردیا جائے۔ آپ کے جو بھی اخلاقی و مذہبی نظریات ہیں وہ آپ کا ذاتی معاملہ ہیں، وہ بندے اور خدا کے درمیان ہیں مہذب انسانی سماج کو تاریخی حوالے دیتے ہوئے ان کا یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔
اس پس منظرمیں یہ سوچ کسی طرح غلط قرار نہیں دی جا سکتی ہے کہ جس طرح ہر انسان کی سوچ پر اس اپنا حق ہے اسی طرح اس کے جسم و جان پر بھی اسی کا حق ہے۔ قدامت پرستانہ و غلامانہ سوچوں کو اکیسویں صدی کا شعور کسی بھی قیمت پر قبول کرنے کیلئے آمادہ و تیار نہیں ہے۔ یہی انسانی وقار اور عظمت کا تقاضا ہے اور یہی انٹرنیشنل ویمن ڈے کا حقیقی مدعا ہے۔