صادق سنجرانی کےخلاف تحریک عدم اعتماد لانے یا عدالت جانے کا فیصلہ ہوگا: پیپلز پارٹی
- جمعہ 12 / مارچ / 2021
- 5150
پاکستان پیپلز پارٹی نے چیئرمین سینیٹ کے لیے ہونے والے انتخاب کا نتیجہ مسترد کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے پاس دو آپشنز موجود ہیں، یا تو کل صبح عدالت میں جائیں گے یا صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں آپشنز میں سے حتمی آپشن کا اعلان قیادت کرے گی۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق نام کے اوپر لگائی گئی مہر درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر دن کی روشنی میں ہم سے الیکشن چرایا گیا۔ عدالت کے متعدد فیصلے موجود ہیں جن میں امیدوار کے نام پر لگائی گئی مہر کو درست قرار دیا گیا ہے۔
قبل ازیں حکومتی امیدوار صادق سنجرانی ایک بار پھر سینیٹ کے چیئرمین منتخب ہوگئے جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے گنتی مکمل ہونے کے بعد کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے 7 ووٹ مسترد ہوئے ہیں کیونکہ ان میں خانے کی جگہ یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر لگی ہوئی ہے۔ ایک بیلٹ پیپر پر دونوں امیدواروں کے حق میں ووٹ دیا گیا جس کے باعث اسے مسترد کیا گیا۔
انہوں نے نتیجے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صادق سنجرانی نے 48 ووٹ حاصل کیے جبکہ یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے۔ یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ فاروق ایچ نائیک نے مسترد ہونے والے 7 ووٹوں کو چیلنج کیا۔
انہوں نے پریزائیڈنگ افسر کو مخاطب کرکے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ کمیٹی بنائیں لیکن آپ نے میری بات نہیں سنی۔ رولز میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ مہر کس جگہ لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ جن ووٹوں کی بات کر رہے ہیں ان میں مہر خانے کے اندر لگی ہوئی ہے، باہر نہیں۔
صادق سنجرانی کے پولنگ ایجنٹ محسن عزیز نے کہا کہ رولز میں یہ نہیں لکھا کہ امیدوار کے نام کے اوپر مہر لگائی جائے۔ لکھا ہوا ہے نام کے سامنے خانے میں مہر لگائیں۔ پریزائیڈنگ افسر نے رولنگ دیتے ہوئے ان 7 ووٹوں کو مسترد کردیا اور فاروق نائیک سے کہا کہ آپ ٹربیونل سے رجوع کر لیں۔